میرے ذہن میں لندن کے بارے میں رنگ برنگی کہانیاں سن کر اور فلمیں دیکھ کر جو خوبصورت تاثربنا ہوا تھا وہ چکنا چور ہو گیا، 5 ڈالر کا احسان بھی بھول گئے

 میرے ذہن میں لندن کے بارے میں رنگ برنگی کہانیاں سن کر اور فلمیں دیکھ کر جو ...
 میرے ذہن میں لندن کے بارے میں رنگ برنگی کہانیاں سن کر اور فلمیں دیکھ کر جو خوبصورت تاثربنا ہوا تھا وہ چکنا چور ہو گیا، 5 ڈالر کا احسان بھی بھول گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:29
ہم پہلے مرحلے میں اپنے طویل اورآرام دہ سفر کے بعد لندن کے ہیتھرو ائرپورٹ پہنچ گئے۔ میرے ذہن میں لندن کے بارے میں رنگ برنگی کہانیاں سن کر اور فلمیں دیکھ کر جو ایک خوبصورت سا تاثربنا ہوا تھا وہ اس وقت چکنا چور ہو گیا جب ہم لندن کی سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے اپنے ہوٹل کی طرف رواں دواں تھے۔ ہو سکتا ہے جنوری کی شام سردموسم، ہلکی بارش اور تاریکی نے لندن کی نام نہاد خوبصورتی کے بارے میں میرے ذہن پر کوئی اچھا تاثر نہ چھوڑا ہو۔ لیکن یہ محسوسات میرے اندر اس وقت بھی رہے جب اس کے بعد بھی میں کئی مرتبہ لندن گیا۔ لیکن یہ تاثرات اس وقت یکسر تبدیل ہوگئے جب میں لندن میں بکھری ہوئی تاریخ کو ٹٹولا اور یہاں کے رسم و رواج اور نظام تعلیم پر غور کیا اور پھر لندن میں خریداری کو قریب سے دیکھا۔
یہاں میں برسوں بعد اپنے سکول کے پرانے دوستوں علمدار، نور حسین اور انور مرزا سے بھی ملا۔یہ ایک بہت ہی جذباتی سی ملاقات تھی جس میں ہمیں اپنی یادوں کو تازہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ تینوں دوست کئی برس پہلے ترک وطن کرکے لندن چلے آئے تھے اور اب مستقل طور پر یہا ں بسنے کے لیے سخت جدو جہد کر رہے تھے۔ اس وقت تو نہیں، ہاں جب میں دو برس بعد واپس آیا تو لندن میں ایک ہفتہ ان کے ساتھ رہا تو انھوں نے یہاں قیام کے سلسلے میں اپنے اوپر بیتی ہوئی مشکلات اور ابتلا کا تفصیل سے بتایا جس کو سن کر بہت دکھ ہوا۔
دوسرے دن ہم نے سفر کے اگلے مرحلے یعنی لندن سے نیو یارک کا آغاز کیا۔ ٹی ڈبلیو اے کی یہ فلائٹ کوئی7 گھنٹے کے سفر کے بعد نیو یارک ائیرپورٹ پہنچی تھی۔ فلائٹ کے دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ لطیف کو شک ہوا کہ شاید وہ اپنا  سینے کا ایکسرے لندن کے ہوٹل میں بھول آیا ہے۔ مجھے تو یہ علم بھی نہیں تھا کہ واقعی ایسا کوئی ایکسرے اس کے پاس تھا بھی یا نہیں، لیکن پھر بھی اس کو پریشانی سے بچانے کی خاطر میں نے پورے اعتماد کے ساتھ اس کو یقین دلایا کہ اس کا ایکسرے اس کے سامان میں ہی موجود ہے۔ وہ میری اس تاویل سے مطمئن ہو گیا اور یوں ہمارا سفر اچھا کٹ گیا۔ نیو یارک ائیر پورٹ پر اس کا ایکسرے اس کے سامان میں سے نکل آیا اور یوں اس کو امریکہ میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ مجھے احسا س ہوا کہ پر امید رہنا جتنا ضروری ہے، اتنا ہی آگے چل کر امید کا دامن تھامیاور کامیابیاں سمیٹتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے لطیف کی نظروں میں میری ساکھ اور بھروسہ بہتر ہوگیا جو اگلے برسوں میں بھی قائم رہاجب ہم اکٹھے ایک ہی محکمے میں کام کرتے تھے۔
ہم لوگ ائیرپورٹ سے اس ہوٹل میں پہنچ گئے جو فورڈ فاؤنڈیشن نے ہمارے لیے مختص کروایا تھا اور جہاں ہمیں اپنی نامزد یونیورسٹیوں کی طرف روانہ ہونے سے قبل 3دن قیام کرنا تھا۔یہاں ہمیں مالیاتی پیکج اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کے بارے میں سمجھایا گیا۔ تھیسس، سٹدی ٹورز وغیرہ کے اخراجات بارے بھی بتایا گیا کہ ان کی ادائیگی بعد میں ہوا کرے گی۔ میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ اس مالیاتی پیکج نے ہمارے بہت سے وسوسے ختم کردئیے اور یہاں قیام قدرے آسان ہو گیا۔ اس پیشکش کے تحت ہمیں 250 ڈالر ماہانہ ملنے تھے اور یونیورسٹی کی فیس یونیورسٹی والوں کو براہ راست فورڈ فاؤنڈیشن کی طرف سے ادا کردی جاتی تھی۔ ہمیں اپنی فوری ضروریات کے لیے بھی کچھ رقم دی گئی۔ جس کو ملتے ہی ہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کامنظور کیا ہوا 5ڈالر کا وہ احسان بھول گئے جو انھوں نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر ہمیں پاکستان سے آتے وقت دئیے تھے۔ اس کی اتنی بڑی رقم کے سامنے اب کوئی حیثیت ہی نہ رہی تھی۔ 
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -