کوئی شخص آپ کو خواب، تخیل دیکھنے اور محسوس کرنے کے حوالے سے احمق اور نامعقول سمجھتا ہے تو پھر آپ اس کا جائزہ لیجئے اور طبیعی تجزیہ کیجئے

کوئی شخص آپ کو خواب، تخیل دیکھنے اور محسوس کرنے کے حوالے سے احمق اور نامعقول ...
کوئی شخص آپ کو خواب، تخیل دیکھنے اور محسوس کرنے کے حوالے سے احمق اور نامعقول سمجھتا ہے تو پھر آپ اس کا جائزہ لیجئے اور طبیعی تجزیہ کیجئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:16
آپ یہ دیکھتے ہیں کہ زندگی اپنے لوازمات کا مجموعہ ہے تو ہمیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ زندگی کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے خواب،خام مال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اور پھر کبھی کوئی شخص آپ کو خواب، تخیل اور تصور دیکھنے اور محسوس کرنے کے حوالے سے احمق اور نامعقول سمجھتا ہے تو پھر آپ اس شخص کا جائزہ لیجئے اور اس کا طبیعی تجزیہ کیجئے۔ اس شخص کے جائزے اور تجزئیے کے ذریعے آپ کو یقینا یہ معلوم ہو جائے گا کہ یہ شخص ایک اوسط اور معمولی ذہن اور خیالات کا مالک ہے، زندگی میں آگے بڑھنے اور کامیابی حاصل کرنے کی آرزو نہیں رکھتا، نہ ہی یہ شخص کسی تعریف و ستائش کے قابل ہے اور نہ ہی یہ شخص آپ کے پسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل ہے۔
بہرحال، ایک معاشرے میں رہتے ہوئے بھی دوسروں کے مشورے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن اس شخص کے مشورے پر کان دھریئے، اس شخص کی نصیحت قبول کیجئے جو تخیلات اور خوابوں کی معجزاتی اور طلسماتی قوت کا قائل ہو۔
آپ کے خواب چکنا چور کرنے والے افراد کی چوتھی قسم: اس قسم کے افراد آپ کو مسلسل ذہن نشین کراتے رہتے ہیں کہ دنیا میں پہلے ہی بہت زیادہ با صلاحیت اور کامیاب افراد موجود ہیں اس لیے آپ کے لیے قطعا کوئی گنجائش نہیں، ان حالات میں مسابقت بھی بہت زیادہ ہے۔ فرض کریں کہ آپ ایک مخصوص پیشہ یا کاروبار اختیار کرنا چاہتے ہیں تو مختلف لوگ آپ کو عجیب و غریب مشورے دیں گے: مثلاً، دیکھو، اس کاروبار میں بہت سے لوگ پہلے ہی سے موجود ہیں۔ ”لہٰذا اس پیشے میں ناکام ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، اس لیے اس پیشے کو اپنانے کا خیال ترک کر دیجئے۔“
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ریستوران کے کاروبار سے منسلک ہے، اور کس بھی کاروبار کی نسبت اس کاروبار میں ناکامی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ لیکن میرا ایک نوجوان دوست، جو روس سے فرار ہو کر یہاں پہنچا تھا۔ اس قسم کی معلومات سے محروم تھا۔ اس نے امریکہ میں اپنی قسمت آزمانے اور کامیابی حاصل کرنے، خواب اپنی آنکھوں میں بسالیا۔ لیکن کیسے؟ بہرحال، آئزک کو ریستوران کے کاروبار کے متعلق کچھ معلومات حاصل تھیں، لہٰذا اس نے اپنے پاس موجود ایک قلیل سرمائے کے ذریعے سینڈ وچ کی دکان کھول لی۔ صبح 11بجے سے لے کر سہ پہر 3 بجے تک اس کو خوب آمدنی ہوتی۔ اب اس کے پاس اس قدر سرمایہ موجود ہے کہ وہ اب اس قسم کی وہیں دکانیں کھولنے کی مصنوبہ بندی کر رہا ہے۔ اب اس کا تخیل، تصوراور خواب یہ ہے کہ اس شہر میں سینڈویج اور متعلقہ اشیاء کی فروخت کے ضمن میں کسی کو آگے نہ نکلنے دے۔ جس انداز میں میرا یہ دوست اپنے کاروبار میں کامیابی اور ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے، اس طور، یقینی طور پر وہ دو سال کے اندر اندر ایک ملین ڈالر پر مشتمل کاروبارقائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اور ابھی اس شخص کو امریکہ میں وارد ہوئے محض3 برس ہی تو ہوئے ہیں! 
ایک اور شخص، جس سے میری ملاقات 5سال قبل ہوئی، وہ بھی میرے پاس اپنا ایک مسئلہ لے کر آیا۔ اس نے مجھے بتایا ”ڈاکٹر شیوارڈز! میں وکیل بننا چاہتا ہوں، لیکن میرا خاندان میرے دوست اور مشاورتی کارکن، میری اس خواہش کو احمقانہ اور نامعقول تصور کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ اس پیشے میں پہلے ہی با صلاحیت افراد موجود ہیں اور کسی دوسری فرم کی نسبت فی ہزار افراد کے لحاظ سے کافی زیادہ وکیل موجود ہیں۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -