بوندا باندی نے دم لیا نہ ہم رُکے، آخر ہم نے انکل رامے کو ”کیریوان پارک“ میں اُس وقت جا لیا جب سورج اوٹ میں جا چکا تھا صرف اپنی سرخیاں ہی بکھیر رہا تھا

بوندا باندی نے دم لیا نہ ہم رُکے، آخر ہم نے انکل رامے کو ”کیریوان پارک“ میں ...
بوندا باندی نے دم لیا نہ ہم رُکے، آخر ہم نے انکل رامے کو ”کیریوان پارک“ میں اُس وقت جا لیا جب سورج اوٹ میں جا چکا تھا صرف اپنی سرخیاں ہی بکھیر رہا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:62
بارش کی وجہ سے چھتریوں کے سائے میں گھر سے رُخصت ہو کر گاڑی تک پہنچے اور اپنی اگلی منزل یعنی Bill Haven Caravan Park میں ”انکل رامے“ کے گھر عید مِلن کے لیے گئے۔ بیس پچیس کلو میٹر پیسفک ہائی وے سے ہوتے ہوئے ہم راستے میں Hunter River کے اُوپر سے گذرے۔ (یاد رہے Hunter River کا علاقہ Wineries کا گڑھ ہے اور آسٹریلیا کی مشہور عالم شرابیں اِس علاقے میں بنتی ہیں) بوندا باندی نے دم لیا نہ ہم رُکے۔ آخر ہم نے انکل رامے کو ”کیریوان پارک“ میں اُس وقت جا لیا جب سورج اوٹ میں جا چکا تھا صرف اپنی سرخیاں ہی بکھیر رہا تھا۔ وہاں کچھ دیر تؤقف کے بعد مغرب کی نماز وہاں مسجد میں با جماعت ادا کی۔ امامت انکل رامے کے بیٹے نے کی۔ گھر میں آکر کھانا کھایا چائے پی اور پھر واپسی کے دو گھنٹے پر محیط سفر پر روانہ ہوئے۔ راستہ بھر بارش نے سانس نہ لیا۔  ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے رفتار برقرار رہی اور ہم ساڑھے گیارہ بجے گھر پہنچے۔ اور اِس طرح ہماری عید کی مصروفیات اِختتام پذیر ہوئیں۔
عائشہ کی بیٹی کی سالگرہ 
اتوار کا روز اور ہماری فیملی کاعائشہ کی بیٹی کی سالگرہ کے لیے New Castle جانا ٹھہرا۔ آج روانگی کے وقت ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ لہٰذا گاڑی کے شیشے چڑھائے تو بات بنی۔
سالگرہ کا انتظام وہاں "Charles Town Multipurpose Centre" میں کیا گیا تھا۔ یہ ایک بڑا ہال تھا۔ یہاں سب فرنیچر اِدھر اُدھر َاکٹھا جوڑ کر رکھّا ہوتا ہے۔ جو فنکشن کرنے والوں کو خود آکر کمروں سے نکال کر ہال میں ارینج کرنا ہوتا ہے۔ اور کچن میں بھی سب سہولتیں ہوتی ہیں۔ سالگرہ کے موقع کی مناسبت سے وہاں ذرا بڑے سائز کے نہیں بلکہ ملٹی سائیزڈ، بالونز چھت پر اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔ کچھ دُوسری قسم کی نمائشی چیزیں بھی ہال کو چار چاند لگا رہی تھیں۔ میزوں پر عارضی رنگین پلاسٹک شیٹس بچھائی جا چکی تھیں۔
یہاں 50-40 مرد و خواتین اور 20-15 بچّے مدعُو تھے۔ پہلے کھانا سرو کیا گیا جو تین قسم کے سالن، دہی بھلّے، روٹی اور بریانی پر مشتمل تھا۔ پھر سویٹ کا دَور چلا اور چائے بھی پلائی گئی۔
اِس کے بعد کیک جس پر تحریر تھا "Happy Birthday Amara"۔ اوپر ایک سنگل جلتی روشنی کو بجھا کر کاٹا گیا۔ ہر طرف سے Happy Birthday To you  کا ایک لامُتناہی سلسلہ تالیوں کی گونج میں شروع ہوا جو کیک کی تقسیم کے سلسلے نے بند کیا۔ سب حاضرین کو کیک پیش کیا گیا۔ کیک بڑا ہی لذیذ تھا سب نے پسند کیا۔
بعد میں بچّوں نے جب دیکھا کہ پارٹی اختتام پذیر ہونے والی ہے تو غباروں اور دُوسری ڈیکوریشنز پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا اور آہستہ آہستہ مہمانوں کی روانگی بھی شروع ہوگئی۔ گھر کے افراد اور کچھ مہمان اب سارے سامان کو اپنی اپنی مخصوص جگہوں پر رکھنے پر لگ گئے۔ کُرسیاں میز اُٹھا کر ایک کمرے میں اور میز ہال کے کارنر میں بنے میزوں پر رکھ دیں۔ ہال میں بکھری چھوٹی موٹی چیزوں کو اُٹھایا گیا اور بعد میں ویکیوم مشین پھیری گئی تاکہ فرش بالکل صاف ہوجائے۔ اِسی طرح کچن کی صفائی کی گئی۔ ہم کوئی  4 بجے وہاں سے روانہ ہوئے اور2 گھنٹے میں گھر پہنچے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -