مناظرہ بازی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے

مناظرہ بازی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے

  

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج کل میاں نوازشریف کو بار بار مناظرے کا چیلنج دے رہے ہیں اور اپنے انتخابی جلسوں میں اس کو اصرار کے ساتھ دہرا رہے ہیں۔اس سے مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آ گیا،جو قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔

قیام پاکستان سے قبل دسمبر 1946ءمیں مولانا مودودی ایک تنظیمی دورے پر سیالکوٹ تشریف لے گئے، وہاں ایک بڑے عالم دین نے انہیں مناظرے کی دعوت دے دی اور نماز جمعہ کے خطبے میں باقاعدہ اعلان کردیا کہ 15دسمبر1946ءکو مولانا مودودی کے ساتھ ہمارا مناظرہ ہوگا اور مولانا مودودی کو اس کی تحریری اطلاع بھی دے دی۔اس پر مولانا نے انہیں جواب میں لکھا:”مَیں ہر شخص سے ہر وقت ملنے اور سمجھنے سمجھانے کے لئے حاضر ہوں، لیکن عرفِ عام میں جس چیز کو مناظرہ کہتے ہیں، اس سے کوسوں دور بھاگتا ہوں.... مناظرہ بہرحال مجھے نہیں کرنا .... یہ چیز اگر جناب کے پیش نظر ہے تو مَیں پیشگی اپنی شکست کی خبر دے دیتا ہوں ،اگر جناب تشریف لائیں گے تو مَیں برسرِ مجلس اعلان کردوں گا کہ مولانا جیتے اور مَیں ہار گیا“۔

دوسرے خط میں آپ نے تحریر فرمایا:”غالباً یہ اعلان جناب نے آمدِ سخن میں کردیا ہوگا اور محسوس نہ فرمایا ہوگا کہ اس کا اثر کیا ہوگا۔دراصل اس کے معنی یہ ہیں کہ اس موقع پر عوام کثرت سے تماشا دیکھنے کے لئے آئیں اور دومولویوں کے درمیان معرکہ آرائی ہوتے ہوئے دیکھ کر لطف اندوز ہوں۔میرے نزدیک یہ ایک نہایت مکروہ، بلکہ گھناﺅنی صورت حال ہے، جسے مَیں اہلِ علم اور اہل دین کی توہین سمجھتا ہوں، نہ یہ آپ کے شایان شان ہے اور نہ ہی مَیں اپنے آپ کو اس تماشاگاہ میں کھڑا کر سکتا ہوں“۔

اس سلسلے کے آخری مکتوب میں مولانا مودودی نے دوٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سنا دیا:”جو شکل مَیں نے آج صبح کے خط میں عرض کی ہے،جناب کو منظور ہوتو خیر، ورنہ مجھے اس ملاقات اور گفتگو سے معذور سمجھیں۔آپ کو اس امر کا پورا اختیار ہے کہ میری شکست کے ساتھ فرار کا بھی اعلان فرما دیں، کیونکہ اس طرح کے فتنوں میں قرار کی بہ نسبت ان سے فرار لاکھ درجہ احسن ہے“....اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مناظروں سے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا کرتا کہ ان میں جس سنجیدگی اور وقار کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ناپید ہوجاتا ہے۔علمی گفتگو ہونی چاہیے اور اپنے موقف کو زور دار دلائل کے ساتھ بیان کیا جانا چاہئے، لیکن بحث و مجاولہ اور پُرشور الزام تراشی سے کبھی کچھ حاصل نہیں ہوتا اور مولانا مودودی نے اسی خدشے کے پیش نظر مناظرے بازی سے دوٹوک برات کا اعلان کردیا تھا۔

وطن عزیز کی تاریخ سیاست کا جائزہ لیں تو تین رہنما ایسے نظر آتے ہیں جو اپنی سنجیدگی، وقار اور اصول پسندی کے اعتبار سے خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ان میں مولانا مودودی، چودھری محمد علی اور میاں نوازشریف سرفہرست ہیں ۔ مولانا مودودی کی طرح میاں نوازشریف کا مزاج بھی اس امر کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک غیر سنجیدہ ماحول میں مناظرے بازی کی لایعنی کھکھیڑ میں ملوث ہوں۔      ٭

مزید :

کالم -