سیاسی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ

سیاسی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ
سیاسی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ

  

دنیا کی بڑی پارلیمانی جمہوریتوں میں دو تہائی اکثریت کا حصول اب کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے آسان نہیں رہا۔ صدارتی نظام کے برعکس پارلیمانی جمہوریتوں میں 2 سے زائد سیاسی جماعتیں مین سٹریم میں موجود ہوتی ہیں۔اگرچہ صدارتی نظام بھی دو پارٹی سسٹم سے مشروط نہیں، لیکن امریکہ جسے دنیا کی قدیم ترین جمہوریت کہا جاتا ہے، وہاں گزشتہ 2 سو سال سے دو ہی سیاسی جماعتیں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو رہی ہیں۔ ریپبلکن اور ڈیویموکریٹک پارٹی کے صدور ہی امریکہ کے سیاہ سفید کے مالک قرار پا رہے ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کا قیام1828ءمیں عمل میں آیا جبکہ ریپبلکن پارٹی20 مارچ 1854ءکو قائم ہوئی۔ 1833ءمیں قائم ہونے والی وگ پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مندرجہ بالا دو پارٹیوں کے علاوہ امریکہ کے چار صدور کا تعلق اس پارٹی سے تھا۔ صدارتی نظام حکومت میں 2 یا اس سے زائد امیدواران کے درمیان مقابلہ یا تو براہ راست ہوتا (پاپولر ووٹ کے ذریعے) ہے یا الیکٹرول کالج (جو نظام امریکہ میں رائج ہے) کے ذریعے عوام کے منتخب نمائندے صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔

دونوں صورتوں میں منتخب ہونے والے صدر کو تن تنہا وہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو پارلیمانی جمہوریت میں پوری پارلیمینٹ کو حاصل ہوتے ہیں۔ 7 نومبر 2000ءکو ہونے والے صدارتی انتخابات امریکی تاریخ کے مشکل ترین (سخت مقابلے کی وجہ سے) انتخابات تھے، جن میں فتح یاب ہونے والے ریپبلکن پارٹی کے جارج واکر بش کو الیکٹرول کالج کے 271 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف ڈیموکریٹک پارٹی کے الگور266 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ شکست کھانے والے الگور نے 50999897 پاپولر ووٹ حاصل کئے، جو کل ووٹوں کا 48.4 فیصد تھے، جبکہ فاتح رہنے والے جارج بش جونیئر نے 50456002 ووٹ حاصل کئے جو کل ووٹوں کا 47.9 بنتے ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت کے حوالے سے بھارت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد628114847 ہے۔

بھارتی لوک سبھا (ایوان زیریں) 545 ممبران جبکہ راجیہ سبھا (ایوان بالا) 245 اراکین پر مشتمل ہے۔ لوک سبھا میں حکومت سازی کے لئے273 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے، جس کا حصول کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے تن تنہا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ موجودہ حکمران اتحاد یونائیٹڈ پروگریسو الائنس کا جنم 2004ءکے انتخابات سے قبل ہوا، لیکن اس سے قبل بھی اتحاد کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے اقتدار کا راستہ سیاسی اتحادوں کے ذریعے ہی طے کیا۔ 1998ءسے 2004ءکے دوران برسراقتدار رہنے والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کا جنم 1998ءمیں اس وقت ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں دائیں بازو کی 13 سیاسی جماعتوں نے مشاورت کے بعد اکٹھے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں سیاسی اتحادوں کی قوت اس وقت کچھ اس طرح سے ہے۔ یونائیٹڈ پروگریسو الائنس226 ممبران، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس156 ممبران، تھرڈ فرنٹ77 ممبران ، فور فرنٹ26 ممبران جبکہ 55 اراکین لوک سبھا کا تعلق دیگر جھوٹی سیاسی جماعتوں سے ہے۔

2009ءکے انتخابات کے نتیجے میں میں قائم ہونے والی 15 ویں لوک سبھا میں انڈین نیشنل کانگریس کے اراکین کی تعداد 206 ہے جبکہ حکومت سازی کے لئے 273 اراکین کی ضرورت تھی، یہی وجہ تھی کہ موجودہ حکومت میں یو پی اے کے علاوہ تھرڈ فرنٹ کی معاونت بھی شامل ہے۔ حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی کی سب سے زیادہ 116 نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ جنتا دَل کی 20 نشستیں، شیو سینا کی 11 نشستیں اور اکالی دَل کی چار نشستیں ہیں۔ بھارت میں چونکہ عرصہ دراز سے اتحادوں کی سیاست چل رہی ہے، اس لئے بیشتر چھوٹی سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کر لیتی ہیں۔ یوں بہت سی ریاستوں میں جہاں مین سٹریم کی سیاسی جماعتوں کا اثر و رسوخ کم اور علاقائی جماعتوں کازیادہ ہے۔ ان چھوٹی سیاسی جماعتوں (علاقائی جماعتوں) کی مدد سے بڑی سیاسی جماعتیں حکومتیں تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت میں ریاستی اسمبلیوں (صوبائی اسمبلیوں) کے انتخابات عام انتخابات سے علیحدہ ہوتے ہیں اور ریاستی انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں کو علاقائی سیاسی جماعتوں کی حمایت درکار ہوئی، جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت ہوتے ہیں۔ اس لئے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ قومی و صوبائی حلقوں کے لئے بیک وقت کی جاتی ہے۔

11مئی2013ءکو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی خاص مفاہمت نظر نہیں آتی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ فنکشنل نے کچھ قوم پرستوں کے ساتھ مل کر سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف مل کر الیکشن لڑنے کا جو عندیہ دیا ہے، اس سے پیپلز پارٹی کو خاصی بے چینی لاحق ہے۔ دائیں بازو کے تجزیہ کاروں کے مطابق جن حلقوں میں مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے مابین سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے اور وہاں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں (ق) لیگ کی سپورٹ کر رہی ہے، وہاں جماعت اسلامی کا فیکٹر بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ان تجزیہ کاروں کے مطابق1993ءکے انتخابات میں جماعت اسلامی کے قائم کردہ اتحاد پف (پاکستان اسلامک فرنٹ) نے خود تو صرف 3 نشستوں پر اکتفا کیا، لیکن مسلم لیگ (ن) کی 20 نشستیں اس سے چھین کر پیپلز پارٹی کی جھولی میں ڈال دیں۔

 یاد رہے کہ 1993ءکے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے 89 جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 73 نشستیں حاصل کی تھیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے بعد اگرچہ مسلم لیگ (ق) کے لئے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی پارلیمینٹ میں بھی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی، لیکن مسلم لیگ (ن) کو اس سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ اسے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی سے بھی تنہا نبرد آزما ہونا ہے، جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ہوم گراو¿نڈ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کو فنکشنل لیگ اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مل کر بھی پیپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بینک میں شگاف ڈالنے کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ایک بات طے ہے کہ آنے والی پارلیمینٹ بھی گزشتہ پارلیمینٹ کی مانند ھنگ پارلیمینٹ ہی ہوگی اور اسے بھی انہی مسائل کا سامنا ہوگا، جن کا موجودہ پارلیمینٹ کو رہا۔ ٭

مزید :

کالم -