عمران خان:کیا یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی؟

عمران خان:کیا یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی؟
عمران خان:کیا یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی؟

  

  عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالیں گے۔ امریکہ کی غلامی سے نکالنے کے لئے انہوں نے اپنے اردگرد ایسے بے دام امریکی غلاموں کو جمع کر رکھا ہے جو خوئے غلامی میں مسلمہ ہیں اور امریکہ اُن کی اس خوئے غلامی کا معترف بھی ہے....”پاکستان ٹو ڈے“ نے بدھ 21 مارچ 2012ءکو ایک خبر دی تھی کہ عمران خان نے ڈاکٹر عظیم ابراہیم کو سٹریٹجک پالیسی ایڈوائزر مقرر کر دیا ہے۔ اس کے لئے باقاعدہHire کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا یہ اعزازی طور پر تحریک انصاف کے لئے کام نہیں کریں گے، بلکہ انہیں اس کا بھاری معاوضہ دیا جائے گا۔ عظیم ابراہیم کون ہیں؟.... سکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والے مغرب کے چہیتے، جنہیں 2009ءمیں سو عالمی مفکرین میں جگہ دی گئی.... لیکن عظیم ابراہیم کے لئے کسی لمبے چوڑے تعارف کی بجائے اگر یہ کہہ دیا جائے کہ یہ حسین حقانی اور منصور اعجاز کے قبیلے میں سے ایک ہیں، جو امریکہ اور مغرب کی طرف داری کی دوڑ میں امریکیوں سے بھی دو قدم آگے رہنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں، تو قطعاً غلط نہیں ہوگا۔ امریکہ اور مغرب بھی ان کی سرپرستی میں کوئی کمی نہیں اُٹھا رکھتا، خواہ وہ حسین حقانی ہوں، شیخ الاسلام طاہر القادری ہوں یا عظیم ابراہیم ہوں، یا وہ افغانستان کے زلمے خلیل زاد ہوں۔ یہ سب مغربی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور اس تھیلی کو امریکی ستلی سے باندھا گیا ہے۔

عظیم ابراہیم کے اس عظیم الشان تقرر پر اخبار کے بلاگ پر اُنتیس تبصرے ہیں، جن میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا ہے کہ ایسے ہی لوگوں کی بدولت عمران خان پاکستان سے ”مُلا“ کا نام و نشان مٹا دیں گے، جس نے پاکستان کو پسماندہ بنا رکھا ہے۔ کچھ کارکنوں نے اسے وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں ایک عظیم اضافہ قرار دیا ہے....البتہ اس بلاگ پر کسی خان بابا کا تبصرہ بھی ہے، جو لکھتے ہیں: عمران خان مبارک ہو! پہلے خیال تھا، تمہیں شاید چند سیٹیں مل جائیں گی، لیکن لگتا ہے تم بمشکل پانچ سیٹیں ہی لے سکو گے“....ایک اور صاحب اختر نے اسے ایک بُرا انتخاب کہا ہے کہ عظیم ابراہیم مغرب کے پسندیدہ ہیں اور پاکستان کی عوامی سوچ کے برعکس خیالات کے حامل ہیں۔ اختر نے اس کے لئے ہنٹنگٹن پوسٹ کا ایک لنک دیا ہے، جس پر عظیم ابراہیم کا ایک مضمون موجود ہے۔ عظیم ابراہیم کا یہ مضمون2 مئی2011ءکا لکھا ہوا ہے اور یہ ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں ہے، جس میں موصوف نے کسی بلاگر پر اس حوالے سے غصہ جھاڑا ہے کہ اُس نے یہ کیوں کہا کہ اُسامہ بن لادن کی لاش سعودی عرب کے حوالے کر دی جاتی، تاکہ اُس کی تجہیز و تکفین اسلامی طریقے سے ہو سکتی۔

عظیم ابراہیم لکھتے ہیں کہ اُسامہ بن لادن لباس سے مسلمانوں کی طرح دکھائی دیتا تھا اور روانی سے عربی بولتا تھا....(ظاہر ہے وہ عرب تھا، لیکن وہ انگریزی بھی بول سکتا تھا، چاہے عظیم ابراہیم یا عمران خان کی طرح نہ بولتا ہو)....لیکن اُسے فتویٰ جاری کرنے کا کوئی حق نہیں تھا، جس کی رُو سے اُس نے شیعہ مسلمانوں اور ہزاروں کو بموں سے اُڑانے کی اجازت دی....(کسی کو ایسے کسی فتوے کا علم ہو تو ہمیں بھی بتائے)....عظیم ابراہیم کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تو اسامہ بن لادن کی لاش سے اچھا سلوک کیا۔ چاہئے تو تھا کہ اُسے یوں ہی زمین میں بغیر جنازے اور کفن کے گاڑ دیا جاتا تاکہ اُس کی لاش گلتی سڑتی رہتی۔ اس کے لئے عظیم ابراہیم ایک عظیم مثال بھی ڈھونڈ لائے۔ فرماتے ہیں....جب 2008ءمیں القاعدہ کے قاتلوں نے ممبئی میں ایک سو چھیاسٹھ سول اور سیکیورٹی کے لوگوں کو قتل کیا ، سوائے ایک کے سب مارے گئے تو انڈیا کی مسلم کونسل نے انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے انکار کر دیا اور مسلم جامع مسجد ٹرسٹ نے بیان دیا کہ ایسے لوگ مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں، اس لئے دارالعلوم دیوبند نے بھی ان کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔

”ٹائمز آف انڈیا“ کی ویب سائٹ پر موجود دارالعلوم دیوبند کے فتوے کا ممبئی حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ فتویٰ دہشت گردی کے خلاف ہے اور اخبار نے اس پر اضافہ کیا ہے کہ ایسا فتویٰ دارالعلوم نے 2 فروری کو جاری نہیں کیا۔ اس خبر میں ایک ویڈیو لنک بھی ہے، لیکن یہ فتوے کے بارے میں نہیں، بلکہ وینا ملک کے بارے میں ہے۔ عظیم ابراہیم نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ ممبئی کے حملہ آوروں کی لاشیں تین ماہ تک مردہ خانے میں پڑی رہیں اور گلنے سڑنے اور بدبو دینے لگیں ....(ہمارا خیال تھا بھارت میں معیاری مردہ خانے ہوں گے، لیکن جہاں زندوں کے لئے بیت الخلاءنہ ہوں، وہاں معیاری مردہ خانے نہیں تو کیا تعجب ہے)....جس کے بعد انہیں خفیہ طور پر زمین میں گاڑ دیا گیا۔ عظیم ابراہیم نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے تھا۔ اس کی لاش کو بھی گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا، پھر زمین میں گڑھا کھود کر دفن کر دیا جاتا۔

عظیم ابراہیم جیسے لوگوں کو اصل دُکھ تو اس بات کا ہوتا ہے کہ لوگ امریکہ کی غلامی کو پسند کیوں نہیں کرتے، لیکن وہ کمال منافقت سے الزام یہ لگاتے ہیں کہ حقیقت میں ان کی دہشت گردی مسلمانوں کے خلاف ہے، لیکن ظاہر ہے کہ صرف اتنا کہنے سے مغرب اور امریکہ کو خوش نہیں کیا جا سکتا، اس لئے اس بلاگ میں ایک خصوصی باکس میں لکھتے ہیں: ”ہمیں اس امر کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کرنا چاہئے کہ امریکہ نہ اسلام کے خلاف جنگ آزما ہے، نہ کبھی تھا۔ مَیں بھی یہ بات اسی طرح پہلے بھی واضح کر چکا ہوں، جیسا کہ صدر بش نے 9/11 کے تھوڑے ہی دنوں بعد کہا تھا کہ ان کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ بن لادن مسلم رہنما نہیں تھا، وہ کثیر مسلمانوں کا قاتل تھا“۔

 عظیم ابراہیم نے صدر بش کے اس فرمان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جس میں وہ اس جنگ کو صلیبی جنگ قرار دیتے ہیں اور اس سے بھی حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عظیم ابراہیم جس متوقع وزیراعظم کے مشیر بننے چلے ہیں، وہ پاکستانیوں کو اسی امریکی غلامی سے نجات دلانے کے دعوے اور وعدے کر رہے ہیں، جبکہ اُن کے مشیر کے مطابق امریکہ کی مسلمانوں سے کوئی جنگ نہیں ہے۔ دونوں میں سے کون جھوٹا، کون سچا ہے؟.... اور کیا عمران خان انہی لوگوں کی مدد سے پاکستان اور اہلِ پاکستان کو امریکی غلامی سے نجات دلانے کے وعدے اور دعوے کر رہے ہیں؟    ٭

مزید :

کالم -