قوم کو تقسیم نہ کریں

قوم کو تقسیم نہ کریں
قوم کو تقسیم نہ کریں

  

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے 11مئی کو انتخابات کے انعقاد کی یقین دہانی کے بعد اب اس حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں رہنا چاہیے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود عام انتخابات طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔ایک ایسا پُرزور اور پُرعزم بیان مقتدر طاقتوں کی طرف سے اس لئے بھی ضروری تھا کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں سے جو بے یقینی پیدا کررکھی ہے، اس کا خاتمہ ہو سکے۔یقینا اس بیان کے بعد ان کے حوصلے بھی پست ہوئے ہوں گے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس اعلان سے وہ چہ میگوئیاں بھی ختم ہو جائیں گی جو ملک کے طول و عرض میں جاری تھیں اور جن کا لب لباب یہ تھا کہ شاید اسٹیبلشمنٹ انتخابات ملتوی کرانے کی سازش کررہی ہے۔فوج کے سپہ سالار کی جانب سے دوٹوک اور واضح اعلان کے بعد اب یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کو جمہوری روح کے عین مطابق ایک مثبت سرگرمی کے طور پر لیں اور اپنی ساری توجہ اس نکتے پر مرکوز کردیں کہ پولنگ کے روزووٹروںکو کس طرح ووٹ ڈالنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے؟ اس میں بلاشبہ حکومتی اداروں کا کردار بہت اہم ہے اور خود جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی فوج کی طرف سے مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ قوم اپنی تاریخ کے اس اہم ترین مرحلے کو کامیابی سے طے نہ کرے اور ہم جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

میری دانست میں اس وقت حالات کا تقاضا یہ ہے کہ جمہوری قوتیں کسی صورت میں بھی تقسیم نہ ہوں۔یہ تقسیم بڑی خطرناک ہوگی کہ کچھ جماعتوں کو رجعت پسند اور طالبان کی حامی اور کچھ کو روشن خیال اور آئین کی محافظ کے خانوں میں تقسیم کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مقابلہ جمہوریت دوست اور جمہوریت دشمن قوتوں کے درمیان ہے، جو سیاسی جماعتیں انتخابات کی حامی ہیں اور ان میں حصہ لے رہی ہیں، وہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں۔طالبان کی طرف سے تو یہ بیان بھی آ چکا ہے کہ وہ جمہوریت اور انتخابات کے خلاف ہیں اور اس کے لئے حملے جاری رکھیں گے۔اس بیان سے یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ انہوں نے انتخابی مہم کے سلسلے میں کسی کو کلین چٹ جاری نہیں کررکھی۔ان کا مقصد تو پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کو روکنا ہے۔مَیں سمجھتا ہوںکہ اس کا مقصد سوائے پوائنٹ سکورنگ کے اور کچھ نہیں کہ کچھ جماعتوں کو پروطالبان کہا جائے۔کراچی میں آج کل ہونے والی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پرپیپلزپارٹی ،اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ سرجوڑ کہ بیٹھ گئی ہیں اور اسے ملک توڑنے کی سازش قرار دے رہی ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں میں جب یہ تینوں جماعتیں اقتدار کا حصہ تھیں،کراچی میں ہزاروں افراد ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے، اس وقت یہ تینوں ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دیتی رہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر کراچی میں طالبان جڑ پکڑ رہے تھے تو ان کی بیخ کنی کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟....آج ان کی موجودگی اور جارحانہ کارروائیوں کو سیاسی مفاد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔سیاسی مفاد کے لئے مَیں اس لئے کہہ رہاہوں کہ ان کا الزام مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے سرتھونپا جارہا ہے کہ انہوں نے ان تینوں جماعتوں کو تو انتخابی مہم کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور انہیں نشانہ بنارہے ہیں، حالانکہ اس موقع پر متحد ہونے کی بات ہونی چاہیے نہ کہ تقسیم کرنے کی ....غور کیا جائے تو دہشت گردی کا کوئی بھی حامی نہیں، البتہ خارجہ پالیسی اور امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے مختلف نظریات ضرور موجود ہیں، اگر سیاستدان ہی ایک دوسرے کو دہشت گردوں یا طالبان کا ساتھی کہنے لگے تو دشمن کو فائدہ ہوگا، قوم کو نہیں۔

کراچی میں انتخابات کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے وزیراعلیٰ کی صدارت جو اجلاس ہوا،اس میں شریک 17سیاسی جماعتوں نے یہ متفقہ مطالبہ کیا کہ ہر پولنگ بوتھ پر ایک فوجی تعینات کیا جائے اور کراچی میں فوج بلائی جائے۔حیرت ہے کہ طالبان کی دہشت گردی کا شور مچانے والی تینوں سیاسی جماعتوں، یعنی اے این پی ، متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کردی۔یہ ایک گہرا تضاد ہے۔ایک طرف سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ اور دوسری طرف فوج کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی کی مخالفت.... اس امر کا اظہار ہے کہ معاملہ سیاسی ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ تینوں سیاسی جماعتیں چونکہ پانچ برس اقتدار میں رہی ہیں اور اپنی بُری کارکردگی کی وجہ سے دباﺅ کا شکار ہیں، اس لئے امن و امان کی خرابی کو ایشو بنا کر ہمدردی کا ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاہم ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ اپنے اس رویے سے وہ جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

ایک طرف اس عزم کا اظہار کرنا کہ انتخابات کا کسی صورت بائیکاٹ نہیں کیا جائے گا اور دوسری طرف اپنے بیانات سے ووٹروں کے لئے خوف و ہراس کی فضاءپیدا کرنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔میڈیا کے اس دور میں عوام تک اپنی بات پہنچانا کوئی مشکل نہیں رہا، بلکہ مَیں تو یہ کہوں گا کہ ان تینوں جماعتوں نے بڑی کامیابی سے ووٹروں تک اپنی یہ بات پہنچا دی ہے کہ جمہوریت مخالف ان کے خلاف متحد ہیں، اس لئے جمہوریت کو بچانے کے لئے انہیں ووٹ دیا جائے۔یہ ایک آسان راستہ مل گیا ہے، وگرنہ حالات نارمل ہوتے اور ان سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو عوام کے پاس جانا پڑتا تو شاید گزشتہ پانچ برسوں میں لہولہان رہنے والے کراچی کے مکین ان سے بُری کارکردگی کے بارے میں سوال ضرور پوچھتے۔

یوم شہداءپر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک بہت اہم بات کی۔انہوں نے کہا کہ آمریت کا راستہ سزاﺅں سے نہیں، اعلیٰ عوامی خدمت سے روکا جا سکتا ہے۔ہمارے سیاسی حکمران کبھی اس نکتے پر توجہ نہیں دیتے۔وہ اپنی بُری کارکردگی کو بھی جمہوریت کی دین قرار دیتے ہیں۔پاکستان میں جتنی مرتبہ بھی فوجی مداخلت ہوئی، لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عوام جمہوریت سے متنفر ہوتے رہے، بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی رہی کہ جمہوریت کو ثمرآور نہیں بنایا گیا۔اب اگر اس بار عوام کو طالبان مخالف اور پروطالبان کے نعروں میں الجھا کر جمہوریت سے محبت کا درس دیا جارہا ہے تو اس کا نقصان بھی جمہوری قوتوں کو ہی ہوگا۔ایک آئیڈیل جمہوریت کی موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی آمر مداخلت کرے یا کوئی طالبان نامی قوت جمہوریت کو چیلنج کرسکے۔ دہشت گردی کوئی نئی آفت نہیں جو حالیہ دنوں میں زمین پر اتری ہو، اس کا شکار تو ہم پچھلے 13برسوں سے ہیں۔

 جب اسی فضا میں ہم نے جینا سیکھ لیا ہے تو پھر انتخابات کے دنوں میں ہم اس سے کیوں گھبرا رہے ہیں؟دہشت گردوں کو شکست دینے کا بہترین راستہ تو یہی ہے کہ ان کی دھمکیوں اورمذموم کارروائیوں کے باوجود اپنا سفر جاری رکھا جائے۔اس وقت تمام ریاستی ادارے اس بات پر متفق اور متحد ہیں کہ 11مئی کو انتخابات ہونے چاہئیں۔ ووٹروں کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ پردے کے پیچھے کسے ووٹ ڈالے گا؟ اس لئے یہ ممکن نہیں کہ کوئی خفیہ ہاتھ کچھ جماعتوں کے ووٹروں کو پولنگ بوتھ تک جانے سے روک دے اور کچھ کے حامیوں کو جانے دے۔سیاستدان اپنے خدشات اور بیانات سے اس قدر خوف و ہراس نہ پھیلائیں کہ ووٹر گھروں میں دبک کر بیٹھ جائیں۔فوج کی طرف سے انتخابات کی مکمل حمایت اور امن و امان کے لئے اپنی خدمات کے کھلے اظہار سے یقینا فضا میں پھیلی ہوئی شکوک و شبہات اور بے یقینی کی دھند چھٹ گئی ہے۔اب یہ ذمہ داری سیاسی لوگوں کی ہے کہ وہ ایسی باتوں کو سیاسی ضروریات کے تحت نہ پھیلائیں، جو انہیں مظلوم تو ثابت کرتی ہوں ، مگر ساتھ ہی ساتھ وہ ایک ایسی فضا کو بھی جنم دے رہی ہوں، جو کسی بھی طرح ہمارے قومی مفاد اور سلامتی کی صورت حال سے لگا نہیں کھاتی۔لبرل اور پروطالبان کی اصطلاح استعمال کرکے ہم دنیا کو اپنی جمہوریت کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کاش رحمن ملک اور ان کے اتحادی اس پہلو پر بھی کچھ غور کریں۔      ٭

مزید :

کالم -