یہ وفاداریاں تبدیل کرنے والے!

یہ وفاداریاں تبدیل کرنے والے!
یہ وفاداریاں تبدیل کرنے والے!

  

حال ہی میں لاہور سے پاکستان پیپلزپارٹی کے دو اہم جیالوں نے جماعت کو داغ مفارقت دے کر مسلم لیگ(ن) کی چھتری تلے پناہ لی ہے۔پارٹی تبدیل کرنے یا دوسرے معنوں میں وفاداری بدلنے کا سلسلہ توعرصہ سے جاری ہے۔حالیہ انتخابات کے دوران بہت اکھاڑپچھاڑ ہوئی اور بہت سے حضرات نے اپنا قبلہ تبدیل کیا۔مسلم لیگ(ق) اور پیپلزپارٹی سے کئی امیدوار مسلم لیگ(ن) میں چلے گئے ان میں سے زیادہ تر حضرات وہ ہیں جو جماعت تبدیل کرنے کے بعد ٹکٹ کے بھی حق دار ٹھہرے اور اب مسلم لیگ(ن) کے امیدوار بن کر الیکشن لڑ رہے ہیں، ایسے حضرات بھی ہیں جن کو اپنی جماعتوں سے ٹکٹ نہ ملا تو انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے کر جماعتی نظم و نسق کی پابندی کا فیصلہ کرنے کی بجائے آزاد حیثیت سے کھڑے رہنے کو ترجیح دی، ایسے حضرات کا تعلق تمام جماعتوں سے ہے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ق)، تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) والے بھی ہیں، ان حضرات کو تادیبی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے اور ان کی متعلقہ جماعتوں نے ان کی رکنیت ختم کردی ہے اب ان کا تمام تر انحصار 11مئی کے انتخابات پر ہے کہ وہ کامیاب ہو کر دکھائیں اور پھر کہیں کہ جماعت کا فیصلہ غلط تھا۔

یہ انتخابی عمل ہوتا ہی ایسا ہے کہ جماعت کے ہر رکن کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ اسمبلی تک پہنچ جائے۔اس میں پہلے ہی قدم پر ناکامی ہوتی تو مایوسی ہوتی ہے۔ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت اکثر اوقات بعض حق دار اور اہل حضرات کی حق تلفی بھی ہو جاتی ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، تاہم ان میں سے اکثر امیدوار جماعتی فیصلے پر سر تسلیم خم کردیتے ہیں چاہے ان کو کتنا ہی دکھ پہنچا ہو، یہ لوگ ناراض بھی ہوتے ہیں اور پھر اگر پارٹی رہنما اور ان کی جگہ ٹکٹ حاصل کرلینے والا امیدوار عقل مند ہو تو وہ اس ناراض ساتھی کو منابھی لیتے ہیں۔

یہ تو ایک اجمالی سی کیفیت ہے اور ایسا ہر انتخابات کے موقع پر ہوتا ہے۔یہاں تو ذکر پیپلزپارٹی کے دو جیالوں کا مقصود ہے ان میں سے ایک اہم عہدیدار ڈاکٹر حسنات شاہ ہیں۔ یہ صاحب گزشتہ انتخابات 2008ءمیں پیپلزپارٹی کے امیدوار تھے اور ماشاءاللہ بہت بڑے فرق سے ہار گئے تھے۔اس کے باوجود ان کے دل سے اسمبلی کی چاہت نہیں گئی اور وہ اس مرتبہ پھر سے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ان کے حلقے سے زاہد حسین بخاری ایڈووکیٹ بھی درخواست دیئے ہوئے تھے۔چنانچہ سلیکشن کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ نے اس حلقے کے حوالے سے بہت سوچا، بحث ہوئی اور بالآخر فیصلہ زاہد حسین بخاری کے حق میں ہوگیا، حسنات شاہ ناراض ہوگئے اور لاتعلقی سی اختیار کرلی۔اب انہوں نے اس حلقہ سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار خواجہ احمد حسان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوگئے۔وفاداری تبدیل کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔بہت لوگ ایسا کرچکے ہیں، تاہم حسنات شاہ نے تو ایک بیان میں الزام لگائے، خوبصورت بات کہی :”آصف علی زرداری نے پانچ سال میں پیپلزپارٹی کا بیڑہ غرق کردیا“....سبحان اللہ محترم حسنات شاہ کو اب یاد آیا کہ بیڑہ غرق کردیا گیا، پانچ سال جو وہ آصف علی زرداری کے نعرے لگاتے رہے،وہ کس کھاتے میں جائیں گے؟ ان کے یقین کا تو یہ عالم تھا کہ انہوں نے نقاد ڈاکٹر صفدر عباسی اور بیگم ناہید خان سے بھی ہاتھ نہیں ملایا تھا، ویسے لوگ پوچھتے ہیں کہ محترم حسنات شاہ نے زکوٰة کونسل کی رکنیت کس کھاتے میں قبول کی اور کیا زکوٰة کونسل چھوڑ دی یا پہلے ہی یہ کونسل ختم ہوگئی تھی؟حسنات شاہ نے کب اور کس وقت جماعت چھوڑی اور دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہوئے۔ یہ ان کی صوابدید اور فیصلہ ہے لیکن اس سوال کا جواب ان پر فرض ہے کہ ”کب کھلا یہ راز تجھ پر“؟

دوسرے جیالے ظفر مسعود بھٹی زونل صدر اور سابقہ ٹکٹ ہولڈر بھی ہیں، ہمیں اچھے بھی لگتے ہیں کہ مودب بھی ہیں، انہوں نے بھی ٹکٹ ہی کی بناءپر اب پارٹی چھوڑی۔حمزہ شہباز کے ہاتھ پر بیعت کی، ان کے بارے میں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ پیدائشی پپلئے اور جیالے ہیں،ان کے والد شیر محمد بھٹی بنیادی رکن تھے اور ان کی وفات بھی جیالے کے طور پر ہوئی۔انہوں نے فرمایا:”پیپلزپارٹی نے پچھلے پانچ سال میں کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیئے، ان سے بھی یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ محترم! پورے پانچ سال آپ خاموش رہے، اگر اب آپ کا کہا درست ہے تو پھر بھی آپ اعانت مجرمانہ کے مرتکب ہوئے ،اگر آپ کے ضمیر نے اب کروٹ لی تو پہلے کیوں سویا رہا اور اب پیپلزپارٹی والے جو کہہ رہے ہیں ان کا جواب کیا ہے؟

ویسے یہ ظفر مسعود بھٹی ہمارے پرانے محلے دار بھی ہوتے ہیں کہ شمالی لاہور کی طرف رہتے تھے، اب تو ماشاءاللہ شاہ جمال میں رہائش پذیر اور پیجیرو پر سفر کرتے ہیں، ہمارے ساتھ تو ان کے والد شیر محمد بھٹی مرحوم کی یاد اللہ تھی، وہ ایک عام لیکن مخلص ورکر تھے۔1974ءمیں جب مصطفےٰ کھر اور محمد حنیف رامے سے ذوالفقار علی بھٹو کی ناراضی ہوئی تو حنیف رامے کی خالی کردہ صوبائی اسمبلی کی نشست جو اس وقت حلقہ پی پی 6تھی ،پر ضمنی انتخاب ہوا تھا۔حنیف رامے کو سینیٹر بنوایا گیا اور یہ نشست خالی پڑی تھی۔اس پر ضمنی انتخاب ہوا تو مصطفےٰ کھر نے بھٹو کو انتخابی شکست دینے کا فیصلہ کرلیا اور یہاں سے امیدوار ہوگئے۔ذوالفقار علی بھٹو نے ان کے مقابلے میں شیر محمد بھٹی کو ٹکٹ دے کر میدان میں اتار دیا ، پھر یہ معرکہ بھٹی مرحوم ہی نے جیتا اور وہ صوبائی اسمبلی کے رکن بن گئے۔ اسی حلقے کی انتخابی مہم کے دوران تاج پورہ (شمالی لاہور) گراﺅنڈ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔شیر محمد بھٹی کی وفات کے بعد ظفر مسعود بھٹی پیپلزپارٹی کے ساتھ رہے اور موجودہ دور سے پہلے مصائب اور مسائل والے ادوار میں بھی ثابت قدم رہے تھے، اب وہ چھوڑ گئے تو ان کا بھی یہ ذاتی فعل ہے۔ہمارا تو سوال صرف اتنا ہے کہ پانچ سال سے جاری کرپشن ان کو اب نظر آئی ہے۔ٹکٹ تو اور بھی کئی حضرات کو نہیں ملے، ان میں ایک دوست چودھری غلام عباس بھی ہیں۔وہ بہت افسردہ ہیں ،بلکہ رو بھی چکے ہیں۔ ان کو پختہ یقین تھا کہ اس بار ضرور جیتیں گے، وہ تو صبر کر گئے اور پارٹی میں بدستور موجود ہیں، ایسے ہی کئی اور لوگ بھی ہیں جو نئے سیکرٹری جنرل کی وجہ سے الگ تھلگ کردیئے گئے وہ تو منتظر ہیں کہ اچھا وقت آئے گا۔

ہم نے ان حوالوں کے ذکر سے مسلسل اجتناب کیا ورنہ اس سے بھی زیادہ حقائق ہمارے علم میں ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ سیاست میں عملی حصہ لینے والے حضرات کا یہ حق ہے کہ وہ جس جماعت کے پروگرام سے متفق ہوں اس میں شامل ہوکر کام کریں اور اگر کبھی اصولی اختلاف ہو اور وہ الگ ہونا چاہیں تو احسن طریقے سے ہوں، یہ نہیں کہ لوٹوں کی طرح گھومتے رہیں جب تک ان کے لئے ”سب اچھا“ تو پارٹی بھی اچھی ورنہ.... ہمارے خیال میں اہم اور بڑی سیاسی جماعتوں کو اس روش کی حوصلہ شکنی کرنا چاہیے۔ یہ آمدورفت مستحکم سیاسی نظام کے لئے شدید نقصان دہ ہے۔مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کو چھوڑ کر کیڑے ڈالنے اور مسلم لیگ(ق) سے الگ ہوکر برائی ظاہر کرنے والوں کو بھی اپنے رویئے پر نادم ہونا چاہیے۔  ٭

مزید :

کالم -