چینلوں پر جگت بازوں کا قبضہ

چینلوں پر جگت بازوں کا قبضہ
چینلوں پر جگت بازوں کا قبضہ

  

اسی اور نوے کی دہائی میں سٹیج ڈرامے پر جب کراچی اور لاہور میں جگت بازوں اور اخلاق باختہ زبان استعمال کرنے والے اداکاروں کا قبضہ ہوا تو صوبہ پنجاب میں آرٹس کونسل نے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے مل کر قوانین میں سختی کی اور بہت سی اداکاراﺅں اور اداکاروں کو تھیٹر کی دنیا سے نکال کر باہر پھینک دیا گیا یا ان پر جرمانے کئے گئے اور انہیں سال سال یا چھ چھ مہینے کے لئے صوبے میں کسی بھی تھیٹر میں کام کرنے سے روک دیا گیا، لیکن اس کا اثراُلٹا ہوا ۔یہ ایکٹریس اور اداکار اپنے گروپ بنا کر یورپ، جرمنی، کینیڈا اور امریکہ چلے گئے اور وہاں پاکستانیوں کو اُلو بنا کر ڈرامے کے نام پر انہوں نے لوٹ مار جاری رکھی۔جب بیرون ممالک ان کے یہ شو فلاپ ہونے لگے تو انہوں نے 2000ءکے اوائل میں پھر پاکستان کا رُخ کیا اور تھیٹروں میں فحاشی اور عریانی کا آغاز کردیا۔”ات خدا دا ویر“ کے مصداق عوام نے جب ان کی تمام حرکات و سکنات کو مسترد کردیا تو یہ گزشتہ تین چار برس سے اب ٹی وی چینلوں کی گودوں میں جا بیٹھے ہیں۔آج حالت یہ ہے کہ اچھی شہرت کے حامل چینل بھی ان کی گھٹیا زبان اور جگت بازی کی بدولت بدنامی مول لے رہے ہیں۔

اگر مَیں مثالیں دینے آﺅں گا تو پھر مجھے بھی وہ گھٹیا زبان نقل کرنا پڑے گی، لیکن دیگ میں سے ایک آدھ چاول کے مصداق ان کی اکثریت نے ”ماں“ کے لفظ کو گالی بنا کر رکھ دیا ہے....مثلاًتیری ماں تے داتا دربار چاولاں دی سستیاں دیگاں ویچدی سی“.... غرضیکہ آپ ایسے ایسے نابغہ روزگار الفاظ پنجابی اور اردو میں سنیں گے،جو شاید آپ نے ساری زندگی کبھی سنے ہی نہیں ہوں گے،بلکہ بعض الفاظ تو ایسی تیزی سے ادا ہورہے ہوتے ہیں کہ آپ ساتھ والے سے بے اختیارپوچھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس ایکٹر نے فقرہ کیا ادا کیا ہے؟

جہاں تک تھیٹروں میں ان کے خلاف شکایات کا تعلق ہے، وہاں تو ان لوگوں کو دیکھنے یا سننے کے لئے محض چند سو شائقین ہی موجود ہوتے ہیں، جبکہ ہمارے چینل تو ملک سے باہر بھی دیکھے جاتے ہیں ،خاص طور پر بیرون ممالک مقیم پاکستانی انہیں شوق سے دیکھتے ہیں۔وہ جب ایسی بیہودہ گفتگو سنتے ہیں تو اپنے عزیز و اقارب کو فون کرکے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔تھیٹروں میں تو ایسے واقعات بھی رونما ہوئے کہ ایک مرتبہ ایک ڈرامے کا ہیرو اوپن ائر تھیٹر باغ جناح لاہور سے ڈرامے کے دوران ایک سین (منظر) میں ہیروئن کو زبردستی گن پوائنٹ پر اٹھاکرلے جاتا ہے،یعنی کہانی کے مطابق وہ ہیروئن کو اٹھا کر لے گیا۔جب کافی دیر گزر گئی اور وہ واپس نہ آیا تو انتظامیہ کی طرف سے سٹیج پر آکر اعلان کیا گیا کہ ہیرو، ہیروئن کو اچانک حادثہ پیش آ گیا ہے اور انہیں ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے،لہٰذا اب یہ ڈرامہ کل دکھایا جائے گا۔آپ اپنی آدھی ٹکٹیں اپنے پاس رکھیں۔یہ غالباً عید کا دوسرا روز تھا۔اہل لاہور بپھر گئے اور انہوں نے نعرے بازی شروع کی اور کہا کہ ہم دکھوں کے مارے شہری تھوڑی سی تفریح کے لئے یہاں آتے ہیں۔ٹکٹ کے پیسے بھی خرچ کئے ہیں۔یہ ڈرامہ ہیرو ہیروئن کے بغیر ہی جاری رکھا جائے،چنانچہ باقی ماندہ کھیل ان دونوں کے بغیر دکھایا گیا۔اصل بات شائقین کو بتائی ہی نہیں گئی۔تھیٹرز انتظامیہ نے اسے چھپایا۔

ہوا دراصل یہ تھا کہ وہ ایکٹر اس ہیروئن کو اٹھا کر گاڑی میں لے گیا اور رات بھر اسے اغوا رکھا، اسے بہرحال تھیٹر سے ایک سال کے لئے بین (BAN)کردیا گیا۔اس نے ہائی کورٹ میں رٹ بھی کی، لیکن جب جج نے سماعت کے دوران حقائق معلوم کئے تو اس کی یہ درخواست بھی خارچ کردی گئی، کیونکہ اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ تھیٹر میں آئے ہوئے 12سو شہریوں کو کھیل دیکھنے سے محروم کردینے کا حق تو بہرحال کسی کو نہیں پہنچتا۔اگر ایسے واقعات پر سزا نہ دی جاتی تو پھر تھیٹروں میں اس قسم کے واقعات روزانہ ہی رونما ہونا شروع ہو جاتے۔پھر بھی غیر ذمہ دار بعض ایکٹروں اور ایکٹرسوں نے جو رویہ اپنائے رکھا ،اس رویے، جگت بازی، لچرپن، عریانی اور فحاشی نے تھیٹر کی دنیا کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور جس شہر میں لوگ سنیماﺅں کو توڑ کر تھیٹروں میں تبدیل کررہے تھے۔آج وہ تھیٹر بھی ویران پڑے ہیں اور اس کی ذمہ داری لالچی ایکٹروں اور ایکٹرسوں پر عائد ہوتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ پیمرا والوں تک بھی باضابطہ شکایات پہنچیں یا چینل مالکان کی ہی کوئی اپنی فیملی ان پروگراموں میں سے کسی کو دیکھ لے۔آخر کار یہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا،کیونکہ ان لوگوں کو ایسی مادرپدر آزادی تو کسی بھی معاشرے میں نہیں دی جا سکتی۔اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے ان تھیٹر اداکاروں، بلکہ بعض صورتوں میں بھانڈوں کی تعلیم کا فقدان ہے۔ان میں سے چند ایک کے سوا کسی ایکٹر یا ایکٹریس نے شائد ہی یونیورسٹی یا کالج کی شکل دیکھی ہو،لیکن اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ جس قسم کی بیہودہ زبان چاہیں، وہ استعمال کریں اور پھر کسی قانون کی گرفت میں بھی نہ آ سکیں۔پیمرا کے قوانین کافی سخت ہیں، لیکن شاید مانیٹرنگ کے شعبے کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے صحیح قسم کی مانیٹرنگ نہیں ہو سکتی اور وہ یہ نہیں جان سکتے کہ ایسے پروگراموں میں کیسی زبان استعمال کی جارہی ہے،جن میں یہ جگت باز تھیٹر والے کام کررہے ہیں۔تھیٹروں میں تو محکمہ داخلہ اور آرٹس کونسل کی ٹیمیں کسی نہ کسی پروگرام کو دیکھ کر ایکشن لے لیتی ہیں، لیکن چینلوں پر ابھی پکڑ دھکڑ شروع نہیں ہو سکی۔ضروری ہے کہ حکومتی ذمہ داران اس ضمن میں توجہ دیں اور خود چینل مالکان بھی یہ پروگرام ”مانیٹر“ کریں۔    ٭

مزید :

کالم -