عصر حا ضر، میڈیا اور ہماری ذمہ داری

عصر حا ضر، میڈیا اور ہماری ذمہ داری

  

  دور حاضر میں میڈیا کو عدلیہ،مقننہ اور انتظامیہ کے بعد ریاست کاچوتھا ستون کہا جاتا ہے۔الیکڑانک میڈیا نے بہت ترقی کر لی ہے۔اب خبر صرف معلومات تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ باقاعدہ کاروبار بن ±چکی ہے۔پرنٹ میڈیا جو قیام پاکستان سے پہلے ہی وجود میں آچکا تھا اب اپنی بلوغت کو پہنچ چکا ہے۔الیکڑانک میڈیا کے ساتھ ساتھ اب سوشل میڈیا بھی ترقی کر رہا ہے۔

میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ہماری تفریح اور ہمارے سوچنے کے انداز، ہماری ثقافتی اور معاشرتی اقدار میڈیا کے رنگ میں رنگی جاتی ہیں۔گزشتہ چند برسوں سے مغربی تہواروں ا ور ڈراموں کو میڈیا کے ذریعے ہماری زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ملکی سلامتی سے متعلق معلومات کو صیغہ راز میں رکھنا ہر ملک کی مجبوری ہوتی ہے۔سنسنی خیزی کو پھیلانے اور ریٹنگ کو بڑھانے کے لیے ملکی راز افشاء کرنا مجرمانہ فعل ہے۔جو نہ صرف قابل گرفت بلکہ ناقابل معافی بھی ہے۔کیا میڈیا ملکی سلامتی کے امور پر بحث کرنے کا مجاز ہے؟ اس بات کا یقین میڈیا،پارلیمنٹ اور ملکی سلامتی کے اداروں کو حل کرنا ہوگا۔

 میڈیا رائے عامہ کو ہموار کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے اس کی اہمیت سے نہ صرف انکارنہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ میڈیا کو بڑھتی ہوءصوبا عصبیت ،فرقہ وارانہ تشدد، دہشتگردی اور اخلاقیات کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔میڈیا نے عوام میں شعور پیدا کرنے کی بھی کوشش کی ہے اسے مربوط اور منظم ہونا چاہئے تاکہ عوام میں اجتماعی سوچ کو پروان چڑھایا جاسکے اور ملک عزیز کا روشن اور مثبت عکس دنیا کے سامنے لایا جاسکے۔ میڈیا کے حوالے سے ہم پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ہر بات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنا درست نہیں ہے۔ اچھے اور ±برے کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہو گا۔ میڈیا کے مطابق ڈھلنے کی بجائے ہمیں میڈیا کو معاشرے کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔میڈیا اور عوام دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا چاہئے تاکہ ملک کی ترقی کے لئے کام کیا جاسکے۔۔۔الیکڑانک ،پرنٹ اور سوشل میڈیا کو مل کر ملکی ترقی و سلامتی اور مفاد کی خاطر یکجان اور ±متحد ہونا پڑے گا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اس لڑا ئی میں قوم گروہوں میں بٹ جائے ِاس لیے ہمیں جلد از جلد اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔۔ اﷲ پاک ہمارے پاکستان کی تمام مشکلات کو آسان کرے اور پاکستان کو ترقی عطا فرمائے آمین۔

مزید :

کالم -