ایٹمی دھماکوں سے متاثرہ جگہیں جہاں جانے سے دنیا کا ہر شخص گھبراتا ہے،نڈر خاتون سائنسدان نے نہ صرف جا کر دکھا دیابلکہ ۔۔۔

ایٹمی دھماکوں سے متاثرہ جگہیں جہاں جانے سے دنیا کا ہر شخص گھبراتا ہے،نڈر ...
ایٹمی دھماکوں سے متاثرہ جگہیں جہاں جانے سے دنیا کا ہر شخص گھبراتا ہے،نڈر خاتون سائنسدان نے نہ صرف جا کر دکھا دیابلکہ ۔۔۔

  


ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سائنسدان لڑکی نے دنیا کے انتہائی ایٹمی تابکاری والے علاقے میں کئی گھنٹے گزار کردنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ لڑکی نے نہ صرف وہاں میزائل ڈیفنس سسٹم ٹاور کا معائنہ کیا بلکہ اسے زہریلی چیونٹیوں نے بھی کاٹا اور اس نے تابکاری سے زہریلے ہونے جانے والے سیب بھی درخت سے توڑ کر کھائے۔

کن خواتین کو نوکری حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے ، جاننے کے لیے کلک کریں

بیونرڈ نامی سائنسدان نے چرنوبل کے اس علاقے میں وقت گزارا جہاں آج سے 29سال قبل 26اپریل 1986ءکونیوکلیئر پاورپلانٹ دھماکے سے پھٹ گیا تھا اور ہر طرف تباہی مچا دی تھی۔ حادثے کے بعد اس جگہ کو دنیا سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا تھا اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ یوکرائن کے سائنسدانوں کے مطابق آئندہ 20ہزارسال تک یہ علاقہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا۔ بیونرڈ نے دعویٰ کیا کہ وہ انتہائی تابکاری والے سمندری حصے میں تیراکی بھی کر چکی ہیں۔ایٹمی پلانٹ کی تابکاری والے علاقے میں موجود تباہ حال ہسپتال کے اندر بھی گئیں اور دیگر خستہ حال عمارتیں بھی دیکھیںجو اب انسانوں کی طرف سے متروک قرار دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا وہ اس جگہ پر 6دفعہ آچکی ہیں۔ چھٹے دورے کے دوران ان کا سامنا ایک باﺅلے لومڑ سے بھی ہوا جو ان کے بہت زیادہ قریب آگیا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ سب سے زیادہ خوفزدہ کر دینے والا واقعہ تھا۔ بیونرڈ نے کہا کہ جن لوگوں نے ابھی اس جگہ کو نہیں دیکھاوہ اس کا ٹھیک سے اندازہ نہیں لگا سکتے، بہت سے لوگ شاید میری باتوں کو پاگل پن کہیں گے۔ لیکن جب آپ اس تباہ شدہ علاقے کا خود دورہ کریں گے تو آپ کوسب کچھ سمجھ آ جائے گا۔29سال قبل پیش آنے والے اس سانحے کی برسی گزشتہ اتوار کو منائی گئی۔ ایٹمی پلانٹ پھٹنے کا یہ سانحہ دنیا کی تاریخ کابھیانک ترین واقعہ سمجھا جاتا ہے جس میں 31لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی، جبکہ قریب رہنے والے شہریوں پر اس واقعے کے اثرات کی تحقیقات اب تک کی جا رہی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس