حمزہ اکبر نے ایشین سنوکر ٹائٹل کو بڑا کارنامہ قرار دیدیا

حمزہ اکبر نے ایشین سنوکر ٹائٹل کو بڑا کارنامہ قرار دیدیا

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے حمزہ اکبر نے ایشین سنوکر ٹائٹل کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ٹائٹل جیتنا آسان نہیں تھا ٗکوچ سے رابطے میں رہا ٗ غلطیوں کی نشاندہی سے حوصلہ ملا ٗ حکومت کو سنوکر کی مالی سرپرستی کرنی چاہیے ۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محمد یوسف پاکستانی سنوکر کے لیجنڈ ہیں جنھوں نے 17 سال پہلے ایشین سنوکر چیمپئن شپ جیتی تھی اور میں نے بھی ایشین چیمپئن بننے کا خواب دیکھ رکھا تھا جو آج پورا ہوا ہے۔حمزہ اکبر نے فائنل کے بارے میں کہا کہ انہیں پتہ تھا کہ پنکج ایڈوانی آسانی سے ہارنے والے نہیں ہیں۔ایک مرحلے پر مجھے تین کے مقابلے میں پانچ فریمز کی برتری حاصل تھی تاہم پنکج نے میری برتری ختم کی۔آخری دو فریمز خاصے سخت رہے خصوصاً آخری فریم میں ایک وقت ایسا بھی آیا پنکج کو جیتنے کیلئے صرف ایک گیند پوٹ کرنی تھی اور مجھے ٹیبل پر اس وقت موجود تمام گیندیں پوٹ کرنی تھیں جو میں ایک ایک کر کے کرتا چلاگیا۔حمزہ اکبر نے کہا کہ میں اپنے کوچ سے رابطے میں تھا چیمپئن شپ کے آغاز میں میری کارکردگی اچھی نہیں ہوئی تو میں نے ان سے وڈیو لنک پر فیصل آباد میں بات کی اور انہوں نے میری غلطیوں کی نشاندہی کی اور مجھے حوصلہ دیا۔

ان کے علاوہ میرے ساتھی کھلاڑی اور سنوکر فیڈریشن کے صدر عالمگیر شیخ مسلسل مجھے حوصلہ دیتے رہے کہ میں یہ ٹائٹل جیت سکتا ہوں ۔حمزہ اکبر نے کہاکہ حکومت کو سنوکر کی مالی سرپرستی کرنی چاہیے کیونکہ یہ کھیل مسلسل پاکستان کیلئے اعزازات جیت رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سنوکر فیڈریشن ملک میں سنوکر کے فروغ کے لیے بہت کام کر رہی ہے اس نے فیصل آباد میں اکیڈمی بھی بنائی ہے جس کا ہم کھلاڑیوں کو فائدہ ہوا ہے تاہم حکومت نے ابھی تک ہمارے کھلاڑیوں کی انعامی رقم روکی ہوئی ہے جس سے کھلاڑی دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے شوق کی خاطر اس کھیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ نیشنل بینک نے کھلاڑیوں کو ملازمتیں دے رکھی ہیں جس سے ہم کھلاڑیوں کے مالی مسائل بڑی حد تک کم ہوئے ہیں اور ہم اب یکسوئی سے اپنے کھیل پر توجہ دے رہے ہیں تاہم حکومت کو سنوکر کی اہمیت تسلیم کرنی ہوگی جس میں ہم گزشتہ کئی سال سے بین الاقوامی سطح پر اعزازات حاصل کررہے ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی