حضرت زیدؒ بن امام علی زین العابدینؓ (3)

حضرت زیدؒ بن امام علی زین العابدینؓ (3)

  

اہلِ کوفہ کی بڑی تعداد کے الگ ہونے کے بعد حضرت زیدؒ کے لئے مقررہ دن سے پہلے ہی خروج ضروری ہوگیا۔ انہوں نے اپنے باقی طرف داروں جو کہ ابھی بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے سے مل کربدھ یکم صفر 122 ہجری کی شب خروج کے لئے مقرر کی ۔یوسف بن عمر کو علم ہوا تو اس نے منادی کرادی کہ تمام اہل کوفہ جامع مسجد میں جمع ہوجائیں جو مسجد سے باہر پایا گیا،مارا جائے گا۔ جناب زیدؒ کے طرف داروں کی بڑی تعداد( جو حسب روایت میدان چھوڑنے کے بہانہ کی تاک میں تھے ) جامع مسجد میں محصور کر لی گئی ۔دوسری جانب صبح کے وقت جناب زیدؒ کے ہمراہ کل دو سو اٹھارہ آدمی تھے جبکہ ان کے ہاتھوں پر جن لوگوں نے بیعت کی تھی انکی تعداد اسی ہزار سے زائد تھی ۔ یہ منظر دیکھ کر جناب زیدؒ نے پوچھا ،’’خدا کی شان! اور لوگ کہاں ہیں؟ ‘‘ کہا گیا کہ وہ مسجد اعظم میں محصور ہیں ۔ جناب زیدؒ نے کہا کہ جن لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کے لئے یہ کوئی معقول عذر نہیں ہے ۔جناب زیدؒ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے تھے ، ’’اے کوفہ والو معلوم ہوتا ہے کہ داؤد بن علی تم سے بہت اچھی طرح واقف تھے ، انہوں نے مجھے پہلے ہی آگاہ کردیا تھاکہ تم لوگ میرا ساتھ چھوڑ دو گے، مگر مَیں نے ان کی بات نہ سنی‘‘ ایک طرف 218 اور دوسری طرف ہزاروں۔ کربلا کی تاریخ ایک بار پھر دہرائی گئی اور حضرت زید شہیدبن علیؓ نے اپنے اجداد کی سیرت و سنت پر عمل کرتے ہوئے امر بالمعروف و نہی المنکر کی بقاکی خاطر ظلم و جور کی استبدادی قوتوں سے مقابلہ کیا اور میدان کارزار میں جام شہادت نوش فرماکر اپنے دادا حضرت امام حسینؓ کی طرح زندہ جاوید بن گئے۔شہادت کے بعد آپ کے ساتھیوں نے آپ کی میت مبارک کو دشمن سے چھپانے کے لئے بڑی مشکل سے نہر کاپانی روک کر اس کے بطن میں قبر کھودی اور ان ہی کپڑوں میں جو وہ پہنے ہوئے تھے ، دفن کرکے اوپر نہر کاپانی جاری کر دیا،لیکن آپ ہی کے ایک ساتھی کی مخبری پرمیت ڈھونڈ لی گئی۔ سر کو الگ کرکے بدن کو سولی پر لٹکا دیا گیااور سر کو ہشام کے پاس بھیج دیا گیا جسے اس لعین کے حکم پر دمشق کے دروازہ پر نصب کرادیاگیا۔ ہشام کی زندگی بھر جناب زیدؒ کی میت سولی پر لٹکی رہی ، ہشام کے مرنے کے بعد اسکے جانشین ولید نے اسے اتروا کر جلا دیا۔ دُنیا مکافات عمل ہے ۔ بنوعباس اقتدار میں آئے تو تمام خلفائے بنو امیہ کی قبریں کھود ڈالی گئیں ۔ ہشام کی لاش صحیح حالت میں پائی گئی ۔ لوگوں نے اسے نکال کر کوڑوں سے پیٹا، لاش کو سولی دی اور بعد میں جلا کر خاک اڑا دی ۔جناب زیدؒ کے بیٹے یحییٰ بھی باپ کے ہمراہ تھے ۔ وہ چند ساتھیوں کے ہمراہ جان بچا کر خراسان نکل گئے ۔وہاں یہ بھی شہید کئے گئے اور ان کے جسدِ خاکی کو بھی سولی پر لٹکایا گیا،جس کا اثر اہلِ خراسان پر بہت برا پڑا اور اس کا فائدہ اُٹھا کر ابومسلم خراسانی نے بنو امیہ کا تحتہ الٹ کر بنو عباس کی حکومت قائم کردی ۔ یہ حقیقت ہے کہ بنو امیہ کی حکومت گرانے میں جناب زیدؒ اور جناب یحییٰ بن زیدؒ کے خون ناحق کا مرکزی کردار ہے۔

باپ بیٹے کی شہادت کے بعد ایک فرقہ زیدیہ کی بنیاد پڑی ۔ دور جدید میں یہی زیدیہ اپنے ایک لیڈر کی مناسبت سے حوثی کہلاتے ہیں ۔اخبارات میں حوثیوں کو زیدی کہا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں یہ تصیح ضروری ہے کہ ان کو زیدی نہیں،بلکہ زیدیہ کہا جانا چاہئے ۔ زیدی سادات وطن عزیز میں بڑی تعداد میں بستے ہیں ۔ زیدی سادات وہ لوگ ہیں جو حضرت زید شہیدبن علیؓ کی اولاد ہیںیعنی جن کا سلسلہ نسب جناب حضرت زید شہیدبن علیؓ کے تین بیٹوں، یعنی حسین ذوالدمہ، عیسیٰ موتم الاشبال اور ابوجعفرمحمد میں سے کسی بھی بیٹے کے توسل سے حضرت زید شہیدبن علیؓتک پہنچتا ہو،جبکہ زیدیہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کوفہ میں حضرت زید شہیدبن علیؓ کی بیعت کی ۔ ان میں سے کثیر تعداد نے آپ کا ساتھ چھوڑا لیکن آپ کی شہادت کے بعد توابین کی طرح نادم ہوئے ۔ آپ کو حضرت امام زین العابدینؓ کے بعد اپناامام تسلیم کیا۔ اپنے آپ کو حضرت زید شہیدؒ سے نسبت دے کرفرقہ زیدیہ کی بنیاد ڈالی ۔ آپ کا نام استعمال کرکے اور آپ کی شہادت کے طفیل اتنی طاقت حاصل کرلی کہ بعد ازاں یمن میں اپنی حکومت قائم کرلی ۔ زیدیہ یا موجودہ حوثی لوگ مختلف قبائل پر مشتمل ایک مذہبی فرقہ ہے جو کہنے کی حد تک شیعہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے۔ اس فرقہ کے لوگ فقہ حنفیہ پر کاربند ہیں ۔ ان کے ہاں امام کا تصور بھی بالکل جداگانہ ہے جو نہ اثناعشری شیعوں سے مطابقت رکھتا ہے نہ اہلِ سنت جماعت سے ۔

اس مضمون کا راقم کے نزدیک ایک مقصد تو یہ ہے کہ اُمت کو بتایا جائے کہ یمن ایران سعودی تنازعہ کوئی فرقہ پرستی کی جنگ نہیں بلکہ یہ سیاسی بالادستی کا معاملہ ہے جس کو بڑی طاقتیں شیعہ سنی تنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ 1962ء میں جب صدر ناصر نے یمن میں مداخلت کی تھی تواسی سعودی حکومت نے حوشیوں کی کھل کر حمایت اور امداد کی تھی۔ سیاسی حالات کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور بدلتے حالات کے ساتھ کل کے دشمن آج دوست اور آج کے دوست کل کے دشمن بن جاتے ہیں ۔دوسرا مقصد اس مضمون کا اسی بہانے جناب زید بن علیؒ کو یاد کرنا تھا۔حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کی قربانیوں کا سلسلہ ان کے بعد بھی انکی اولاوں نے جاری رکھا۔ جناب امام حسنؓ کے سگے پوتے جناب عبداﷲمحض بھی اسی طرح مظلوم شہید ہوئے ۔ جناب عبداﷲمحض کے بعد ان کے بیٹے جناب محمد نفس ذکیہ بھی شہید ہوئے ۔ جناب نفس ذکیہ کے بعد ان کے بھائی جناب ابراہیم بھی شہید ہوئے ۔ ان سب کی قربانیوں کا مقصد امت کا اتحاد ہی ہے نہ کہ ان کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹے جائیں ۔ دُعا کریں کہ شیعہ ہوں یا سنی ان پاک روحوں کی قربانی کے طفیل اور ان پاک روحوں کی خوشی کی خاطر سب بھائی بھائی بن کر رہیں،آمین ۔۔۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -