دم توڑتی آس۔۔۔یوم مئی کے حوالے سے

دم توڑتی آس۔۔۔یوم مئی کے حوالے سے
دم توڑتی آس۔۔۔یوم مئی کے حوالے سے

  


آج یوم مئی ہے۔ شکاگو کے محنت کش شہیدوں کو سلام کا دن ہے، لیکن یہ کیسادن ہے کہ مجھے اس کا احساس ہی نہیں ہوا، میری صاحبزادی نے جب بتایا کہ وہ جمعہ کو میرے ہاں رہ سکتی ہے کہ اریبہ (نواسی) کو چھٹی ہے تو میں یہ بھی نہ پوچھ پایا کہ یہ چھٹی کس حوالے سے ہے۔وہ تو صبح جب سیر والا سفر پورا کرکے دم لیا اور محفل سیر صبح سجی تو پتہ چلا، میں تھوڑی دیر بعد اجازت لے کر گھر کی طرف روانہ ہونے لگا تو حاجی مقبول بولے! آج تو چھٹی ہے۔ اتنی جلدی کیوں؟ حیرت ہوئی پوچھا کہ کیسی چھٹی تو رانا حنیف بولے، یوم مئی ہے، محنت کشوں کا عالمی دن ہے وہ چھٹی پر خوش تھے اگرچہ گریڈ 18کے افسر ہیں، بہرحال گزارش کی کہ مجھے تو دفتر جانا ہے کہ کل (ہفتہ) کو اخبار مارکیٹ میں آئے گا، کام ہوگا تو اخبارچھپے گا، سب نے حیرت کا اظہار کیاکہ یوم مئی پر بھی چھٹی نہین، عرض کیا یہ میڈیا ہے۔ یہاں تو عیدین کی رخصت بھی بڑی مشکل سے ہے کہ اخبار بھی ایر لائن، ریلوے اور ٹرانسپورٹ کی طرح لازمی سروس ہے، بہرحال بحث ضروری نہیں تھی۔

یہ تمہید ختم ہوئی تو احباب پھر اسی بحث میں الجھ گئے، سیاسی تھی اور ایم کیو ایم کے حوالے سے دو ملزموں کی گرفتاری ان کے بیانات اور ایس ایس پی ملیر کی پریس کانفرنس پر بات شروع ہو گئی۔ مجموعی تاثر یہ بناکہ ماضی میں بھی یہ سب سامنے آتا رہا، لیکن ایم کیو ایم کا کچھ نہ بگڑا وہ اب بھی اسی طرح قائم و دائم ہے اور قائد تحریک خطاب بھی فرماتے رہتے ہیں، لوگ چاہتے ہیں کہ یہ باتیں سچ ہیں، تو ان کو ثابت بھی کیا جائے۔ ماضی میں یہی کمزوری رہی کہ بات ہوتی تھی، لیکن ثبوت سامنے نہیں آتے اور دب جاتی تھی اور اب بھی گرفتاریوں کی اطلاعات مسلسل ہیں اور صولت مرزا جیسا معاملہ بھی درپیش ہے لیکن انجام کی کسے خبر؟ کہ اس شخص کو پھانسی دی جانے والی تھی، لیکن وہ بقید حیات ہے، حضرت علیؓ کے قول کے مطابق کہ موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے،

بات تو یوم مئی سے شروع ہوئی اور کسی اور طرف چل نکلی، پھر ٹی وی کے خبرنامے کا وہ حصہ بھی دیکھا جس کے مطابق محترم الطاف حسین نے روائتی تقریر کی جس کا آئی ایس پی آر کی طرف سے سخت جواب بھی سامنے آیا اور پھر کراچی والی رابطہ کمیٹی کی طرف سے ڈاکٹر فاروق ستار والی وضاحتیں اور یہ خبر کہ ایس ایس پی کو غیر ذمہ داری پر ہیڈکوارٹر طلب کرلیا گیا۔یاراں محفل بھی متفق تھے کہ افسر کو اتنی جلدی نہیں کرنا چاہیے تھی۔ حکام بالا اور خصوصاً مشترکہ تفتیشی ٹیم تک جا کر اس کے بعد ہی کچھ کہنا چاہیے تھا۔ ابھی گزشتہ روز ہی جنرل راحیل شریف کی تعریف کی تھی کہ انہوں نے کراچی بدامنی کی وجوہ کی نشاندہی کر دی ہے اور اب ثابت ہو رہی ہے۔

بات یوم مئی کی تھی، احساس ہوا کہ ایسا کیوں کہ چھٹی کا تو احساس ہوگیا، لیکن یہ کہ یہ چھٹی محنت کشوں کی یاد اور ان کی طرف سے تجدید عہد کے حوالے سے ہے اس کا احساس کیوں نہیں۔ چند سال قبل جو ولولہ اور جوش تھا وہ کدھر چلا گیا۔ میری اپنی تنظیم، پی ایف یو جے اور ضلعی شاخیں سخت دھوپ میں پسینہ بہاتے ہوئے سڑک پر ہوتی تھیں، ہم منہاج برنا، نثار عثمانی اور آئی ایچ راشد کی قیادت میں بلندآہنگ سے اپنے حقوق کے لئے نعرے لگاتے تھے، لیکن آج یہ کیوں نہیں، صرف یہی نہیں، اس لاہور میں ہائیڈرو الیکٹرک لیبر یونین اور ایک آدھ دوسری تنظیم کے سوا بھی توکوئی میدان عمل میں نہیں۔ کیا مزدور تحریک دم توڑ گئی؟ جی ہاں یہی احساس ہوتا ہے کیونکہ خود میری اپنی تنظیم تپتی دھوپ کو چھوڑ کر ایئر کنڈیشنڈ پانچ ستاروں والے ہوٹل میں مقیم گورنر ہاؤس میں تقریب منعقد کررہی ہے لیکن یہ یوم مئی تو نہیں، یہ تو کچھ اور ہی ہے۔ اسے عالمی میڈیا کانفرنس کہا گیا ہے۔افسوس کہ آج نثار عثمانی اور منہاج برنا کی روح بھی تڑپ رہی ہوگی کہ یہ انہی کے جانشین ہیں، ان کا نام لے کر سب کام کرنے والوں میں سے ایک نے تو انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرکے خود کو صدر اور خود ساختہ پی ایف یو جے بنا لی ہے۔ وہ بھی چند روز قبل اسی بڑے صنعتی شہر کے دوسرے بڑے شہر میں ایسے ہی مزے لوٹتے رہے۔افسوس کہ خود تقسیم در تقسیم ہو کر اور تحفظ مفادات کی خاطر اتحاد سے گریز کرنے والے ان حضرات کو بڑے میڈیا گروپ کی مکمل اعانت حاصل ہے۔ دکھ تو یہ ہے کہ کہیں بھی کچھ نظر نہیں آ رہا، میں بھی آج یوم مئی کے لئے اپنی کسی تنظیم کے دوستوں کے ساتھ شامل نہیں ہو سکا کہ دوست کہیں تھے ہی نہیں۔

یہ معاشرے ہی کی حالت کا عکس ہے، اس پر بہت بات ہو سکتی ہے اور محنت کشوں کو خود بیٹھ کر بحث اور غور کرنا چاہیے اور ان کمزوریوں سے نجات حاصل کرنے کی تدبیر کرنا چاہیے جو اس حالت کی ذمہ دار ہیں، محنت کشوں کو اپنے جائز حقوق کے لئے آواز تو اٹھانا ہے اور متحد ہو کر آہنگ بلند ہو تو کیا کہنے، برادرم حشمت لودھی نے حبیب جالب کی نظم کے چند اشعار بھیجے ہیں، ان پر ختم کرتا ہوں۔

اے شام غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے

آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنی دور ہے

دم توڑتی نہیں، جہاں پر کسی کی آس

وہ زندگی کی راہ گزر کتنی دور ہے

کوئی پکارتا ہے تجھے کب سے اے خدا

کہتے ہیں تو ہے پاس مگر کتنی دور ہے

مزید : کالم