راؤانوار کی پریس کانفرنس اور عابد شیر علی کی کھلی کچہریاں

راؤانوار کی پریس کانفرنس اور عابد شیر علی کی کھلی کچہریاں
راؤانوار کی پریس کانفرنس اور عابد شیر علی کی کھلی کچہریاں

  


پہلے سوچا کہ کراچی میں ایس ایس پی راؤ انوار کی پریس کانفرنس کے حوالے سے کچھ لکھوں، پھر نظر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے ٹویٹ پر پڑی تو خیال آیا کہ الطاف حسین کے سخت بیانات پر بھی کچھ لکھنا چاہیے، ابھی یہ سوچ گردش کر ہی رہی تھی کہ اس خبر نے چونکا دیا ’’راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا‘‘۔۔۔یہ کہانی کا کون سا موڑ ہے، اس بارے میں ذہن قلابے ملا ہی رہا تھا کہ شرجیل میمن کا یہ بیان سامنے آ گیا ’’راؤ انوار نے اختیارات سے تجاوز کیا، اس لئے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے‘‘۔ مجھے یوں لگا جیسے راؤ انوار کو بھی رانا ثناء اللہ کی طرح عہدے سے ہٹایا گیا ہے، جو ہٹنے کے بعد مزید طاقتور اور اہم ہو گئے ہیں۔ اب راؤ انوار کو بے یارومددگار تو نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ہٹ لسٹ پر ہیں اور 92ء کے کراچی آپریشن میں حصہ لینے والے واحد زندہ پولیس افسر ہیں۔ پھر یہ خبریں بھی تو گردش کرتی رہی ہیں کہ راؤ انوار سابق صدر آصف علی زرداری کے خاص دوستوں میں شامل ہیں، جنہیں سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کو نطر انداز کرتے ہوئے کراچی ہی میں ہمیشہ اہم پوسٹنگ دی جاتی رہی ہے۔

خیر یہ معاملہ اتنا الجھا ہوا ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی، اس پر کیا لکھا جائے، کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے کہ راؤ انوار نے ضابطے کی خلاف ورزی کی اور پریس کانفرنس کر ڈالی۔ ایسے سنگین الزامات لگاتے ہوئے انہوں نے ذرا بھی نہ سوچا کہ وہ کیا دھماکہ کرنے جا رہے ہیں۔یہ پریس کانفرنس اس حد تک تو معمول کی سرگرمی سمجھی جاتی، اگر وہ ملزموں کی گرفتاری ظاہر کرنے کے لئے کرتے اور ان کے جرائم بتاتے، لیکن ان کا یہ کہنا کہ ایم کیو ایم ملک دشمن جماعت ہے اور وہ اس پر پابندی لگانے کی درخواست کریں گے، نیز بھارت کھلے طورپر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کروا رہا ہے، کم از کم ایک ایس پی کی سطح کے افسر کا کوئی مینڈیٹ نظر نہیں آتا، لیکن مَیں یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ راؤ انوار نے یہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسی کو بھی اعتماد میں نہ لیا ہو۔ جو لوگ پولیس کی ورکنگ کو جانتے ہیں، وہ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کوئی بھی پولیس افسر اپنے اعلیٰ افسران کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ راؤ انوار کتنے ہی طاقتور پولیس افسر ہوں، وہ اپنے ڈی آئی جی، سی پی او اور آئی جی کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ پریس کانفرنس لازماً ایک طے شدہ پلان کا حصہ ہے، جو آنے والے دنوں میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے لئے ترتیب دیا جا چکا ہے، البتہ ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس کے لئے کوئی مضبوط سکرپٹ نہیں لکھا جا سکا۔ کہانی میں کئی جھول نظر آ رہے ہیں اور لگتا یہی ہے کہ راؤ انوار پریس کانفرنس کرتے ہوئے طے شدہ سکرپٹ اور ایجنڈے سے جوش خطابت میں باہر نکل گئے۔ انہوں نے وہ کچھ بھی کہہ دیا، جو انہیں نہیں کہنا چاہیے تھا۔ مثلاً صرف دو گرفتار شدہ ملزموں کے بیان پر اگر وہ ایم کیو ایم کو ملک دشمن جماعت قرار دے کر اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ مضحکہ خیز بات نظر آتی ہے۔

اس موضوع کو درمیان ہی میں چھوڑ کر مَیں نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے قائم جوڈیشل کمیشن کارروائی پر غور شروع کیا تو وہاں بھی مجھے سب کچھ گردوغبار میں لپٹا ہی نظر آیا۔ جب یہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا تھا تو سبھی کا خیال تھا کہ معاملہ بالکل سادہ اور آسان ہے، کمیشن آسانی کے ساتھ فیصلہ کر سکے گا کہ منظم دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی، لیکن جب سماعت شروع ہوئی اور کمیشن نے اپنے خدوخال واضح کئے تو عقدہ کھلا کہ زبان دانی اور ثبوت فراہمی میں بہت فرق ہے۔ اب تک کی صورت حال کو دیکھیں تو معاملہ ایک خاص تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کمیشن کی منشا یہ ہے کہ دعویٰ کرنے والے ثبوت فراہم کریں، جبکہ دعویٰ کرنے والے جن میں پی ٹی آئی پیش پیش ہے، یہ چاہتے ہیں کہ کمیشن انتخابی تھیلے کھلوائے اور ان میں موجود دھاندلی کے ثبوت دیکھے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی انتخابی تھیلوں تک رسائی نہیں ،جبکہ کمیشن انہیں ازخود کھولنا نہیں چاہتا، اس صورت حال نے عمران خان پر تنقید کے دروازے بھی کھول دیئے ہیں، جیسا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی کہا ہے کہ اگر سارے ثبوت تھیلوں میں ہیں تو عمران خان کے پاس کیا ہے؟جوڈیشل کمیشن میں ملک کے اعلیٰ ترین ججز بیٹھے ہیں، انہیں کچھ عرض کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، تاہم ایک پاکستانی کی حیثیت سے میری خواہش یہی ہے کہ جوڈیشل کمیشن جہاں سے بھی سچ سامنے آ سکتا ہے، وہاں تک جائے، تاکہ کم از کم اس بار سچ سامنے لانے کی خواہش اور روایت کامیاب ہو سکے۔

ابھی میں یہ سطور لکھ ہی رہا تھا کہ بجلی پھر چلی گئی۔ سات گھنٹے کے بعد بجلی آئی تھی اور خیال یہ تھا کہ اب نہیں جائے گی، یو پی ایس بھی چارج ہوگا اور گزارا ہو جائے گا، لیکن میپکو والوں کو شاید ہماری یہ خواہش بُری لگی۔ ابھی تو گرمی کی شدت بڑھی نہیں، رات کوٹھنڈ ہو جاتی ہے، جس کے باعث ائر کنڈیشنر چلانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی، لیکن آنے والے دنوں میں جب سورج سوا نیزے پر ہوگا اور ماہ رمضان بھی شروع ہو جائے گا تو کیا بنے گا۔لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی طفل تسلیاں اب 2017ء تک اٹھا لی گئی ہیں۔گویا موجودہ حکومت چار سال تو اس مسئلے کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے۔ سب دعوے پانی کے بلبلے ثابت ہوئے ہین، اب تو عمالِ حکومت اس مسئلے کا ذکر کرنے کی بھی زحمت گوارانہیں کرتے۔ گرمی بڑھے گی تو لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، اب بھی مختلف شہروں میں ہنگامے اور مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ حکومت نے ملک پر بجلی و پانی کے دو وزیر مسلط کر رکھے ہیں۔ میپکو ملتان میں لوڈشیڈنگ کا بُرا حال ہے، افسران اوور بلنگ کر رہے ہیں، بجلی چلی جائے تو کسی افسر سے کوئی رابطہ نہیں کر سکتا، کہا جاتا ہے اور یہ بات زبان زد عام ہے کہ وزیر مملکت برائے پانی و بجلی نے اپنے ایک دستِ راست کو افسروں سے ’’معاملات‘‘ طے کرنے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے، جو افسر اس دستِ راست کو خوش رکھتا ہے، وہ خود بھی خوش رہتا ہے، یہ دستِ راست دیکھتے ہی دیکھتے خود بھی کروڑ پتی بن چکا ہے، کرپٹ افسران، جو پہلے ہی عوام کو مختلف حیلوں بہانوں سے اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے، اب پورے تحفظ کے ساتھ عوام کے سینوں پر مونگ دل رہے ہین، میپکو ریجن کے دیہی علاقوں میں 20گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، مگر عوام کو بل ہوشربا موصول ہوتے ہیں۔

جب یہ حکومت آئی تھی تو بہت بلند بانگ دعوے کئے گئے تھے کہ بجلی چوروں کو نہیں چھوڑا جائے گا، کرپٹ افسران کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں، ان کے خلاف مقدمات درج کرائے جائیں گے، مگر یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ بھتہ دے کر اہم پوسٹیں حاصل کرنے والے افسران عوام کو کیا ریلیف دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف ذاتی طور پر چاہے جتنی بھی محنت کرلیں، جب تک ان کے وزیر و مشیر پیسہ بنانے کے جنون سے باہر نہیں نکلتے، حالات بہترنہیں ہو سکتے۔ پہلے سنتے تھے کہ تھانوں میں ایس ایچ او پیسے دے کر لگتے ہیں اور پھر کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیتے ہیں، اب یہ محکمہ بہت پیجھے چلا گیا ہے۔ اب ایس ڈی او، ایکسین، ایس ای اور چیف ایگزیکٹو لگنے کے لئے بولیاں لگتی ہیں۔ اس کام کے لئے مقتدر شخصیات نے اپنے کارندے چھوڑ رکھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام سسک رہے ہیں، مگر ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔ وزیرمملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کھلی کچہریوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، وہ بھی ایک ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔وہی کرپٹ افسران ان کے اردگرد بیٹھے ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے خلقِ خدا عذاب میں ہے، چھوٹے موٹے لائن سپرنٹنڈنٹ یا زیادہ سے زیادہ ایس ڈی او کو چند دنوں کے لئے معطل کرکے وزیر موصوف سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کرپشن ختم کر دی ہے۔ یہ کھلی کچہریاں تو کرپشن کو تحفظ دینے کا بہت آئیڈیل طریقہ رہی ہیں، ان کی بجائے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور میری پیش گوئی یہ ہے کہ نظام کبھی بہتر نہیں ہوگا، کیونکہ اپنے موٹے پیٹ پر لات کون مارتا ہے۔ *

مزید : کالم