راؤ انوار کے ایم کیو ایم پر الزامات

راؤ انوار کے ایم کیو ایم پر الزامات

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ستارے ایک بار پھر گردش میں آ گئے ہیں۔ ایس ایس پی ملیر (کراچی) راؤ انوار نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں دو ملزمان طاہر ریحان عرف طاہر لمبا اور محمد جنید خان کو پیش کیا ۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ان دونوں کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے جدید اسلحہ اور راکٹ لانچر چلانے کی تربیت دی ، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں ملزمان کو خفیہ اطلاع پرکراچی کے علاقہ احسن آباد سے گرفتار کیا گیا، ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انہیں ایم کیو ایم کی لندن قیادت اور پاکستان میں موجود رہنما قتل و غارت گری کی ہدایات دیتے تھے، اس سلسلے میں انہوں نے لند ن میں موجود ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنونیئر ندیم نصرت اور رکن محمد انور، جبکہ کراچی میں فاروق سلیم اور حماد صدیقی کو مورد الزام ٹھہرایا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم طاہر عرف لمبا نے اعتراف کیا کہ اسے1992ء میں کے ایم سی میں ملازمت دلوائی گئی اور پھر 1999ء میں ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور کی ہدایت پر بھارت چلا گیا، جہاں پر بھارتی ایجنسیوں نے اس کی ٹریننگ کی، ملزم نے بتایا کہ بھارت میں اسے رام نامی صوبیدار تربیت دیتا تھا، 2004ء میں تربیت مکمل کرنے کے بعد واپس کراچی آکراس نے ایم کیو ایم میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ایس ایس پی راؤ انوار نے بتایا کہ ملزم جنید بھارت میں موجود ایم کیو ایم کے کارکن جاوید لنگڑا کا بھائی ہے جسے بھارتی شہریت مل چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے بھارت میں تربیت پانے والے کارکنوں کا خرچہ خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) کے اکاؤنٹس سے ادا کیا جا تا ہے ۔ملزمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت میں تربیت حاصل کرنے والے نیٹ ورک میں 60سے 70 افراد شامل ہیں۔ملزمان نے میڈیا کے سامنے خود بھی ان سب باتوں کا اعتراف کیا۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے الزامات کی لمبی فہرست تو پیش کی ہی، لیکن ساتھ ہی ایم کیو ایم کو پاکستان مخالف جماعت گردانتے ہوئے اس پرپابندی کی سفارش بھی کر دی ۔ان کاکہنا تھا کہ ایم کیو ایم تو طالبان سے بھی زیادہ خطرناک جماعت ہے، اسے تو کالعدم قرار دینا چاہئے ۔

راؤ انوار کی اس پُرجوش پریس کانفرنس کے بعد وزیراعلیٰ سیّد قائم علی شاہ کی ہدایت پرآئی جی سندھ نے انہیں عہدے سے الگ کرتے ہوئے فوری طور پرسنٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق راؤ انوار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا تھا۔ آئی جی سندھ نے اگرچہ پریس کانفرنس کی پاداش میں راؤ انوار کو عہدے سے توہٹا دیاہے، لیکن انہیں تحقیقات سے الگ نہیں کیا جانا چاہئے، تاکہ وہ تفشیش مکمل کر سکیں اور تصویر پوری طرح سامنے آسکے۔راؤ انوار کی گفتگوپر ایم کیو ایم کے رہنما سیخ پا ہو گئے ۔ قائد الطاف حسین نے راؤ انوار کے الزامات کا جواب دینے میں دلچسپی ظاہر کرنے کی بجائے ان لوگوں کا پتہ لگانے پر زور دیا جن کے ایما پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ان کے نزدیک راؤانوار کی عہد ے سے علیحدگی ناکافی ہے، الطاف حسین نے ان کی فوری گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے بھی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے راؤ انوارکے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا۔ایم کیو ایم کی جانب سے یہ جارحانہ رد عمل توقع کے عین مطابق تھا۔ایم کیو ایم پر وقتاً فوقتاً ایسے الزامات لگتے رہتے ہیں، جس پر اس کے قائد اور رہنماؤں کے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ حال ہی میں صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے بارے میں بہت سے انکشافات کئے تھے اور ایم کیو ایم کے با اثر ارکان پر انگلی بھی اٹھائی تھی۔اس سے قبل صولت مرزا کا سوشل میڈیا پر الزامات سے بھرپور بیان موضوع بحث رہا۔رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر متعدد ملزم و مجرم گرفتار، جبکہ بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کر لیا تھا۔ ایم کیو ایم کے گرفتارکارکنوں کی طرف سے بھی طرح طرح کے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔اس پر ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ اسے’’ٹارگٹ‘‘ کیا جا رہا ہے،حالانکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بارہا واضح کر چکے ہیں کہ کراچی آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصدشر پسند عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔عام خیال یہی ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر بعض قانون شکن لوگ موجود ہیں، اس لئے ایم کیو ایم کی قیادت کو چاہئے کہ ہنگامی بنیادوں پر اپنی صفوں میں چھپی ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرے ۔

لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ الزامات جتنے بھی گھناؤنے اور سنگین ہوں، ان کی بنیاد پر کسی کو بھی سزا کا حق دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔الزام پر جرم کی مہر لگانے کے لئے ثبوت درکار ہوتے ہیں۔اِسی طرح جہاں تک راؤ انوار کی پریس کانفرنس کا تعلق ہے تو ایک پولیس افسر کا فرض یہ ہے کہ وہ ملزموں کی نشاندہی کرے، انہیں گرفتار کرے، تفتیش کرے، چالان پیش کرے اور ان کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔وہ بھلے کتنا ہی محب وطن، دیانتدار، ایماندار اور دردمندپولیس افسر ہو،وہ کسی بھی طور جج نہیں ہو سکتا۔اس کے پاس فیصلہ سنانے کا اختیار موجود نہیں ہے، یہ حق صرف اور صرف عدالت کے پاس محفوظ ہے۔راؤ انوارکے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے، جو انہیں ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کی سفارش کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ ایم کیو ایم کو دہشت گرد جماعت گردانتے ہوئے اس کو طالبان سے بد تر قرار دینا ان کے مرتبے کے لحاظ سے قطعاً موزوں نہیں تھا۔بہتر یہی ہوتا کہ وہ قانونی حدود میں رہتے ہوئے اپنا فرض ادا کر تے اورعدالت کا کام اسی پر چھوڑ دیتے تاکہ ماحول میںیہ آلودگی پیدا نہ ہوتی۔ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کا آغاز صرف اسی صورت میں کیا جا سکتاہے جب یہ بات ثابت ہو جائے کہ وہ بحیثیت جماعت ، اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ پولیس افسران اوردوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صرف اپنے کام پر ہی توجہ دینی چاہئے، سیاسی معاملات میں ان کی مداخلت معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھانے کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید : اداریہ