اللہ اور رسول کے نزدیک دو لڑنے والوں میں صلح کروانا محبوب ترین عمل ہے ،امین وینس

اللہ اور رسول کے نزدیک دو لڑنے والوں میں صلح کروانا محبوب ترین عمل ہے ،امین ...

 لا ہور (کرا ئم سیل )سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے کہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک دو لڑنے والوں میں صلح کروانا محبوب ترین عمل ہے اور اسی کے پیش نظر لاہور پولیس نے قیام پاکستان سے قبل جاری دیرانہ خاندانی دشمنی جس میں اب تک 125سے زائد افراد اس دشمنی کی بھینٹ چڑ ھ چکے ہیں میں نبھے اور عمر و جمالے خاندان کے مابین دشمنی کو ختم کرواتے ہوئے صلح کروا کر دونوں خاندانوں کو ایک دوسرے سے بغل گیر کروا دیا ۔صلح کی یہ تقریب پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں منعقد ہوئی جس میں ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف، ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم، ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک ، ایس ایس پی ڈسپلن سہیل سکھیرا، ایس ایس پی ایڈمن حسن مشتاق سکھیرا کے علاوہ تمام ڈویژنل ایس پیز ،ممبرصوبائی اسمبلی غزالی سلیم بٹ، معروف دانشور، کالم نگار اور اینکر ز کے علاوہ تمام تھانوں کے ایڈمن افسران بھی موجود تھے۔سی سی پی او نے کہا کہ لاہور میں دیرانہ دشمنیوں کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی سیل تشکیل دیا گیا ہے جو لاہور کی دیرانہ دشمنیوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کر رہا ہے اور پولیس ان دشمنیوں کو ختم کر کے صلح کروانے کے لیے صدق دل سے کام کر رہی ہے جس کا واضح ثبوت آج کی یہ صلح کی تقریب ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے شہر سے غنڈہ عناصر کے خاتمے کے لیے 100بدنام زمانہ بدمعاشوں کی فہرست مرتب کر لی ہے جن کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں اور انشااللہ پیر سے ان بدمعاشوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پولیس پورے زور سے کاروائیاں شروع کر دے گی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک نے بتایا کہ دونوں خاندانوں میں دشمنی ایک عرصہ سے چلی آ رہی تھی اور پہلا قتل محمد دین تھانیدار عمر خاندان کا ہوا جس میں نبھے خاندان کے تین لوگ بشیر، حسن اور چانن نمبردار سزائے موت ہوئے لیکن صدر ایوب خان نے ان ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا تھا۔ملزمان نے عمر قید کاٹ کر آنے کے بعد صرف ذاتی چودھراہٹ پر عمر و جمالے خاندان کے آغا صفدر کو قتل کر دیااس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور اب تک دونوں جانب سے کم و بیش 125سے زائد افراد اس خوفناک دیرانہ دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔میر محمد گاؤں میں ایک عرصہ سے انسان گاجر اور مولی کی طرح کاٹے جا رہے تھے اور دونوں خاندانوں میں یتیموں اور بیواؤں سے گھر بھرے پڑے ہیں۔اسی دشمنی میں 1999میں دہشت گردی کوٹ مصطفی آباد لاہور کے باہر چار افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔سی سی پی او لاہور کیپٹن( ر) محمد امین وینس نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لیے جہاں پولیس افسران کے دفاتر سے پرچی اور چٹ سسٹم کو ختم کیا ،تھانوں میں ایڈمن افسروں کا انقلابی منصوبہ شروع کیا وہیں انہوں نے دیرانہ خاندانی دشمنیوں کے خاتمے کے لیے واضح ہدایات جاری کیں جس کی روشنی میں ڈی ایس پی ملک داؤد اور حاجی علی احمد بھٹی نے اس کار خاص کے لیے کام کا آغاز کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ معززین علاقہ اور دونوں خاندانوں کی جانب سے مثبت سوچ اور نیک نیتی کے باعث یہ نیک کام پایہ تکمیل کو پہنچا ۔اس موقع پر معروف ، دانشور، کالم نگار اور اینکرز جن میں سہیل وڑائچ، توفیق بٹ، سلیم بخاری، بلال قطب، سعید آسی نے بھی لاہور پولیس کی جانب سے اس تاریخی صلح پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور لاہور پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بھی صلح کی ایسی تقریبات کا انعقاد جاری رہے گا۔آخر میں دونوں خاندانوں کے سربراہوں نے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر برسر محفل نفرتیں ختم کر کے محبتیں بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے سے تحریری معاہدوں کا بھی تبادلہ کیا۔

مزید : علاقائی