گھر میں کام کرنیوالی محنت کش خواتین یوم مئی سے بے خبر کام میں مصروف رہیں

گھر میں کام کرنیوالی محنت کش خواتین یوم مئی سے بے خبر کام میں مصروف رہیں

لاہور (دیبا مرزا سے) صوبائی دارالحکومت کے پوش اور فیشن ایبل علاقوں میں بڑے بڑے گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور نو عمر بچے محنت کشوں کے عالمی دن پر اپنے حقوق سے بے خبر اور لاعلم رہے اور بدستور کام میں جُتنے دکھائی دیئے، جبکہ امیر زادے اور امیر زادیوں نے بھی اِن گھریلو مزدوروں کے حقوق کا کوئی خیال کیا اور نہ ہی عالمی چھٹی والے دن اُنہیں کوئی اضافی معاوضہ دیا گیا۔ گھریلو ملازم خواتین اپنے حقوق سے بے خبر دن بھر اپنے فرائض سرانجام دینے میں لگی رہی، گھریلو ملازم خواتین ریحانہ، شبان، عظمیٰ نے اس موقع پر روزنامہ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کو کیا پتا کہ مزدوروں کا عالمی دن کیا ہوتا ہے۔ ریحانہ، شبانہ نے کہا کہ ہمیں حقوق ملنا تو دور کی بات ہے ہمیں تو اضافی پیسے بھی نہیں دیئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مزدوروں کا عالمی دن منایا گیا۔ اس موقع پر مزدوروں کے حقوق کے لئے ریلیاں نکالی گئیں اور سیمیناز منعقد کئے گئے، لیکن دوسری جانب گھروں میں کام کرنے والی محنت کش خواتین یوم مئی سے بے خبر اپنے کام میں جُتی رہیں اور گھروں کی مالکان اِن مزدور خواتین پر حکم چلاتی رہیں۔ عالمی چھٹی کے دن کے موقع پر ان مزدور خواتین کو چھٹی ملنا تو دور کی بات ان کو معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر گھریلو ملازم خواتین ریحانہ، شبانہ، عظمیٰ اور عارفہ نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کیا پتا کہ مزدوری کا عالمی دن کیا ہوتا ہے،ہمیں تو مزدوروں کی اُجرت ملنا تو دور کی بات ہمیں تو اپنے حقوق کا ہی نہیں پتہ۔ انہوں نے کہا کہ یوم مئی کیا ہے، ہمیں کیا پتا ہے اگر ہم آج کام کاج نہیں کرے گے تو ہم اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری گورنمنٹ سے التجا ہے کہ ہمیں حقوق دیئے جائیں تاکہ ہم بھی باعزت طریقے سے روٹی کما سکیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4