الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر پر قانونی چارہ جوئی کی جائیگی ،پاک فوج

الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر پر قانونی چارہ جوئی کی جائیگی ،پاک فوج

 راولپنڈی/کراچی(آن لائن +مانیٹرنگ ڈیسک+ اے این این) پاک فوج نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے فوج کے خلاف نفرت انگیز بیان کا نوٹس لے لیاہے اورقانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف اس قسم کے بیانات اور ملزموں کی گرفتاری پر اس طرح کا ردعمل ناقابل برداشت ہے،الطاف حسین کا بیان بے ہودہ اور غیر ضروری تھا،میڈیا کے ذریعے پاکستان کے عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی،جرم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے ۔ادھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ لطاف حسین نے اپنے بیان میں عسکری قیادت پر کوئی تنقید نہیں کی بلکہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے اقدامات کی حمایت اور تعریف کی،فوج کو عوام کا سلیوٹ مورال بڑھانے کا سبب تو ہو سکتا ہے نفرت پھیلانے کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔تفصیل کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاک فوج نے الطاف حسین کے نفرت انگیز بیان کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اس بیان پر قانونی چارہ جوئی کرنے کا فیصلہ ہے۔ ترجمان نے لکھا ہے کہ پاکستانی ٹی وی چینلزپر الطاف حسین کی تقریر میں فوج اور اس کی لیڈر شپ کے بارے میں رائے غیر ضروری اور قابلِ نفرت تھی۔عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ الطاف حسین کے پاک فوج اور اس کی قیادت کے بارے میں بیان غیر ضروری اور بیہودہ ہیں،میڈیا کے سہارے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے ۔ میجر جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقریر بلاجواز اور نفرت انگیز ہے ، انہوں نے عوام کو فوج کے خلاف بھڑکانے کیلئے میڈیا کا سہارا لیا ، پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا فوجی قیادت سے متعلق ایسے بیانات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔غیر ذمہ دارانہ تبصرے اور میڈیا کے ذریعے پاکستان کے عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش ہے ، الطاف حسین کی تقریر پر قانونی چارہ جوئی کریں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے ۔انھوں نے کہا کہ مجرموں کی گرفتاری کے درِعمل میں جن کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو فوج اور اس کی قیادت کے خلاف اس قسم کے بیانات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ فوج اورسیکیورٹی ادارے اپنی پیشہ وارانہ زمہ داریاں نبھاتے رہیں گے اور پاک فوج سونپے گئے آپریشن جاری رکھے گی۔دوسری جانب ا یم کیو ایم کی پاکستان اور لندن میں موجود رابطہ کمیٹیوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز الطاف حسین نے اپنے بیان میں عسکری قیادت پر کوئی تنقید نہیں کی بلکہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے اقدامات کی حمایت اور تعریف کی۔مشترکہ بیان میں الطاف حسین کے پاک فوج کے حوالے سے بیان کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کی جانب سے فوج کو عوامی سیلوٹ فوجیوں کا مورال بڑھانے کا سبب تو ہو سکتا ہے نفرت پھیلانے کا ہرگز نہیں ہو سکتا، الطاف حسین نے اپنے بے شمار عوامی خطابات میں پاک فوج اور اس کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے اقدامات کی تائید وحمایت اور تعریف کی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نے کہا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے، ضرب عضب کے ساتھ ساتھ ملکی دولت لوٹنے والوں، قرضے ہڑپ کرنے والے چور ڈاکوں اور لیٹروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری پر تنقید نہیں کی بلکہ کہا کہ وہ فرقہ واریت کے حوالے سے تحقیقات میں کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر ایم کیوایم کا کوئی فردحتی کہ ان کا بھائی بھی ملوث ہو تو اسے سرعام پھانسی پر لٹکادیا جائے ۔ الطاف حسین نے کئی موا قع پر پاک فوج کے لئے اپنے لاکھوں کارکنان کو فوج کے شانہ بشانہ مدد کے لئے وقف کرنے کا اعلان بھی کیا۔خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے یہ تقریر ایس ایس پی ملیر را انور کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کے بعد کی تھی۔ایس ایس پی ملیر جنھیں اس پریس کانفرنس کے بعدان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے نے متحدہ قومی موومنٹ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ جن میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را سے تربیت حاصل کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔ایم کیو ایم کی جانب سے الطاف حسین کی تقریر کے اہم نکات کو ٹویٹر پر بھی جاری کیا گیا جس میں الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم کو سنہ 1992 کے آپریشن میں بھی غدار اور را کا ایجنٹ کہا گیا تھا اور جب مہاجروں کے لیے تنظیم بنی تب بھی ان پر یہی لیبل لگایا گیا۔ایم کیو ایم کے قائد نے اپنی تقریر میں پاکستانی فوج کو مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اپنے اندر موجود مجرموں کو کیوں نہیں پکڑتی۔ فوج کے بہت سے سابقہ افسر مجرمانہ کاررائیوں میں ملوث پائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت، آئی ایس آئی، فوج اور بیوروکریٹس پرتعیش زندگی مہاجروں کی قربانیوں کی وجہ سے ہی گزار رہے ہیں۔اپنی تقریر میں الطاف حسین نے یہ بھی کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غریبوں اور مہاجروں کے ساتھ ناانصافی بند کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ پاکستانی فوج نے 1971ء کی جنگ میں ہتھیار کیوں ڈالے تھے؟ایس ایس پی را انور کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ انھیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ سابق صدر آصف علی زادری، آئی ایس آئی یا کسی اور کے وفادار ہیں۔

لندن(خصوصی رپورٹ)ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین نے کہا ہے کہ اگر ان کے جملوں سے قومی سلامتی کے اداروں کی دل آزاری ہوئی ہو معافی کا طلب گار ہوں۔''را'' سے مدد کی بات طنزیہ طو پر کہی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ پاک فوج کا کل بھی احترام کرتے تھے اورآج بھی کرتے ہیں۔''را '' سے مدد کی بات طنزیہ طور پر کہی ،اس کا مطلب ''را '' سے مدد مانگنا ہرگزنہیں تھا۔ الطاف حسین نے کہا کہ ملک دشمنی کے الزامات باربارسن کر ایک انسان کا دکھی اور رنجیدہ ہونا فطری عمل ہے۔ پاکستان ہمارا وطن تھا اور ہمارا جینا مرنا پاکستان سے وابستہ ہے۔ مہاجروں کی پاکستان کے سوا کسی اور سے کوئی وابستگی نہیں۔ ان کا مقصد کسی محترم ادارے یا حکومت کی توہین کرنا ہر گز نہیں تھا،میری تقریر کو پوری طرح نہیں سمجھا گیا۔ الطاف حسین نے کہا مہاجروں کی وفاداری پر شک کرنے کا عمل بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ترک کیا جائے۔ ہمارے بزرگوں نے قیام پاکستان کے لئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ واضح رہے گزشتہ روز کراچی میں کارکنوں سے لندن سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے قومی سلامتی کے اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔

لاہور (خصوصی رپورٹ) حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خطاب پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے ’’را‘‘ سے مدد کی درخواست کر کے الطاف حسین نے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح کئے۔ ایم کیو ایم کے قائد کا بیان قومی مقاصد سے غداری کے مترادف ہے ،انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔خواجہ آصف نے کہا کہ الطاف حسین نے جو زبان استعمال کی وہ کسی پاکستانی کی نہیں ہو سکتی۔ ایم کیو ایم کے قائد نے مہاجروں کے سر شرم سے جھکا دیئے۔ ایم کیو ایم کی قیادت کو ملک دشمنوں کی زبان نہیں بولنی چاہیے۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ قومی سلامتی کے ادارے دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق آپریشن کر رہے ہیں ان پر تنقید جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کے مترادف ہے ۔

مزید : صفحہ اول