شاپنگ سے قبل سیب یا پھل کھا کرجانے سے آپ مضر صھت اشیاء کی خریداری سے بچ سکتے ہیں

شاپنگ سے قبل سیب یا پھل کھا کرجانے سے آپ مضر صھت اشیاء کی خریداری سے بچ سکتے ...
شاپنگ سے قبل سیب یا پھل کھا کرجانے سے آپ مضر صھت اشیاء کی خریداری سے بچ سکتے ہیں

  


نیویارک(نیوزڈیسک)آپ مارکیٹ میں شاپنگ کرنے جاتے ہیں تو ساتھ کئی ایسی غلط چیزیں بھی خرید یا کھالیتے ہیں جو ہماری صحت کے لئے بالکل بھی اچھی نہیں ہیں۔لیکن اب امریکی ماہرین نے اچھی شاپنگ کا ایک ایسا حل بتادیا ہے جو آپ کو بہت فائدہ دے گا۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شاپنگ پر جانے سے قبل اگر سیب یاکوئی پھل کھا لیا جائے تو اس سے نہ صرف آپ کی صحت اچھی رہے گی بلکہ ساتھ ہی اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ آپ پھلوں کی شاپنگ 25فیصد زائد کریں۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سپر مارکیٹوں کو بھی چاہیے کہ وہ گاہکوں کو پھلوں کے مفت نمونے کھانے کو دیں تا کہ وہ صحت مندانہ شاپنگ کریں۔

یہ شرٹ گندی کیوں نہیں ہوتی ، جاننے کے لیے کلک کریں

ماہرین نے اپنی تحقیق میں تین مطالعے کئے ۔پہلے مطالعے میں 120شاپنگ کرنے والے افراد میں سے کچھ کو سیب اورکوکیزکھانے کو دی گئیں جبکہ کچھ کو کوئی چیز بھی نہیں کھلائی گئی۔تحقیق کاروں نے دیکھا کہ جن لوگوں نے سیب کھایا تھا انہوں نے سپر مارکیٹ میں 28فیصد زائد پھلوں کی خریداری کی جبکہ کوکیز والے افراد نے زیادہ پھل نہ خریدے۔اسی طرح جن لوگوں نے کچھ نہیں کھایا تھا ان کے مقابلے میں سیب کھانے والے افردا نے 25فیصد زائدپھل خریدے۔کارنیل یونیورسٹی کی تحقیق کار ڈاکٹر آنر تال کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ شاپنگ سے قبل سیب کھانا آپ کو اچھی شاپنگ کرنے میں مدد دے گا۔

دوسرے اور تیسرے مطالعے میں لوگوں کو virtuallyشاپنگ کرنے کا کہا گیا۔دوسرے مطالعے میں 56افراد کو سیب اور کوکیز کھانے کو دی گئیں اور پھر انہیں 20تصاویر دکھائی گئیں جن میں پر ایک تصویر میں غذائیت والی اور ایک غیر صحت مند کھانے کی چیز تھی۔ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا خریدنا چاہیں گے تو جن لوگوں نے سیب کھارکھا تھا انہوں نے صحت مند شے کا انتخاب کیا اور جن لوگوں نے کوکیز کھائیں تھیں انہوں نے غیر صحت مند چیزوں کا انتخاب کیا۔

تیسرے مطالعے میں 59افراد کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور ان میں سے پہلے گروپ کو چاکلیٹ ملک دیا گیا جس پر لکھا تھا کہ یہ صحت مند چاکلیٹ ملک ہے،دوسرے گروہ کو وہی چاکلیٹ ملک دیا گیا لیکن اس پر واضح طور پر لکھا تھا کہ یہ زیادہ حراروں والا دودھ ہے جبکہ تیسرے گروہ کو کسی بھی قسم کا دودھ نہ دیا گیا۔اب ان افراد کو virtuallyشاپنگ کا کہا گیا اور صحت مند اور غیر صحت مند اشیاءدکھائی گئیں۔ماہرین نے دیکھا کہ جن لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ وہ صحت مند دودھ پی رہے ہیں انہوں نے صحت مند اشیاءکا انتخاب کیا اور جن لوگوں نے غیرصحت مند دودھ پیا تھا وہ زیادہ کیلوریز(غیر صحت مند)اشیاءخریدتے پائے گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ ذہنی طور پر جب کوئی غیرصحت مند چیز کھاتے ہیں تو وہ ایسی اشیاءکا انتخاب کرتے ہیں جو صحت کے لئے اچھی نہ ہوں۔

مزید : تعلیم و صحت