سعودی عرب کے زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہونے لگی

سعودی عرب کے زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہونے لگی
سعودی عرب کے زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہونے لگی

  


ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں نئے فرمانروا کی تخت نشینی اور خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے مملکت کے زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔

امریکی ٹی وی ”بلوم برگ“ کے مطابق مملکت نے مرکزی بینک کے نیٹ فارن اثاثوں کا تقریباً 5 فیصد یعنی 36 ارب ڈالر (تقریباً 3600 ارب پاکستانی روپے) صرف فروری اور مارچ کے دو مہینوں میں خرچ کئے جو کہ دو مہینوں کے دوران کئے جانے والے سب سے زیادہ اخراجات ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق زر مبادلہ کے ذخائر میں بھاری کمی کی ایک وجہ شاہ سلمان کی تخت نشینی کے بعد سرکاری ملازمین اور پینشن یافتہ افراد کو دو ماہ کا بونس دینے کا فیصلہ ہے۔ یمن کے خلاف پیدا ہونے والی کشیدگی اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے بھی بھاری اخراجات کئے گئے جن کی وجہ سے سال 2014ءکا دفاعی بجٹ بڑھ گیا۔

 تیل کی قیمتوں میں گزشتہ سال ہونے والی 48 فیصد کمی نے بھی حکومت کو ذخائر استعمال کرنے اور ڈومیسٹک بینکوں سے قرضے لینے پر مجبور کیا تاکہ تنخواہوں اور سرمایہ کاری کے اخراجات پورے کئے جاسکیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اگلے سال تیل کی قیمت 70 یا 80 ڈالر فی بیرل پر مستحکم بھی ہوجائے تو بھی مالی صورتحال کو سنبھالنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہو گی۔

مزید : بزنس