”جو عورت یہ بات نہ مانے اُسے انسانی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے ساتھ پنجرے میں بند کر دو“

”جو عورت یہ بات نہ مانے اُسے انسانی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے ساتھ پنجرے میں بند ...
”جو عورت یہ بات نہ مانے اُسے انسانی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے ساتھ پنجرے میں بند کر دو“

  


دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش نے اپنے زیرقبضہ علاقے میں اپنے قوانین نافذ کر رکھے ہیں جن کے تحت خواتین کو مخصوص لباس پہننے کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔ جو خاتون لباس کے متعلق داعش کے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے اسے سخت سزا دی جاتی ہے۔ اب داعش نے ایسی خواتین کو سزا دینے کا ایک نیا اورانوکھا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ امریکن ہیرالڈ ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق اب داعش ممنوعہ لباس پہننے والی خواتین کو لوہے کے تنگ پنجروں میں قید کر دیتی ہے جن میں ان خواتین کو خوفزدہ کرنے کے لیے انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں بھی رکھی ہوتی ہیں۔ خواتین کو یہ سزا زیادہ تر شام کے شہراور داعش کے گڑھ ”الرقہ“ میں دی جاتی ہے۔

امریکن ہیرالڈ ٹربیون نے شام کی ایک مقامی نیوز ایجنسی ”انڈیپنڈنٹ“کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ داعش نے سب سے پہلے اے اے (A.A) نامی ایک لڑکی کو اس پنجرے میں قید کیا۔ یہ لڑکی جس عمارت میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھی اس کی سیڑھیوں کی صفائی کر رہی تھی اور صفائی کے وقت اس نے خود کو سیاہ عبائیہ سے پوری طرح ڈھانپ نہیں رکھا تھا۔ جس پر اسے گرفتار کرکے پنجرے میں بند کر دیا گیا۔ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق داعش کے شدت پسندوں نے اس لڑکی کو گرفتار کرکے سیاہ عبائیہ پہنایا اور پھراسے گلی میں گھسیٹتے ہوئے پنجرے کی طرف لے گئے۔ پنجرا انسانی کھوپڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ لڑکی خوفزدہ ہو کر چیختی چلاتی رہی اور باہر نکالنے کے لیے التجائیں کرتی رہی۔

رپورٹ کے مطابق داعش کے شدت پسندوں نے لڑکی کو 4گھنٹے تک پنجرے میں بند رکھا۔ لڑکی خوف و دہشت کے باعث 3گھنٹے مسلسل روتی اور چیختی رہی اور بالآخر بے ہوش ہو گئی مگر شدت پسندوں نے اسے پھر بھی پنجرے سے نہیں نکالا۔ ایک گھنٹے بعد جب لڑکی کو دوبارہ ہوش آیا تو اسے پنجرے سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد لڑکی کو مقامی ہسپتال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس پر خوف کے باعث سنگین اعصابی فالج کا حملہ ہوا تھا۔ ڈاکٹروں نے اسے الرقہ سے باہر کسی اچھے ہسپتال لیجانے کا مشورہ دیا۔ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس لڑکی کے بعد سے اب تک داعش کئی خواتین کو الرقہ میں مختلف مقامات پر رکھے گئے ان پنجروں میں بند کرکے سزا دے چکی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس