”انسان ایک ہزار سال تک زندہ رہ سکتا ہے اگر۔۔۔“سائنسدان نے سنسنی خیز دعویٰ کر دیا ، نیا تنازعہ کھڑاکر دیا

”انسان ایک ہزار سال تک زندہ رہ سکتا ہے اگر۔۔۔“سائنسدان نے سنسنی خیز دعویٰ ...
”انسان ایک ہزار سال تک زندہ رہ سکتا ہے اگر۔۔۔“سائنسدان نے سنسنی خیز دعویٰ کر دیا ، نیا تنازعہ کھڑاکر دیا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) طویل العمری کی خواہش انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ انسان کا بس چلے تو وہ موت ہی کو موت دے دے اور خود ابدی زندگی حاصل کرلے۔ اس خواہش میں انسان کبھی ”آب حیات“ کی تلاش کرتا ہے تو کبھی سائنسی تحقیقات۔ تاحال دونوں کوششیں ہی ناکام تھیں مگر اب ایک سائنسدان نے اپنی نوعیت کا منفرد دعویٰ کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اوبرے ڈی گرے(Aubrey De Grey) نے دعویٰ کیا ہے کہ ”انسان 1ہزار سال سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے اور یہ مستقبل قریب میں ممکن ہونے جا رہا ہے۔“

ہیرو اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل اور کیلیفورنیا میں موجود سائنسی تحقیقاتی ادارے ایس ای این ایس کے بانی ڈاکٹر اوبرے ڈی گرے طویل عرصے سے اس تھیوری پر کام کر رہے ہیں کہ” انسانی جسم کی بھی کاروں کی طرح مرمت کی جا سکتی ہے اور اسے طویل عرصے تک زندہ رکھا جا سکتا ہے۔“ ڈاکٹر اوبرے کا کہنا ہے کہ ”ہم ایک ایسی دوااور طریقہ ہائے علاج ایجاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انسانی اعضاءکو ازسرنو پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے، اور ہم جلد اس مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ “ تاہم دیگر سائنسدان ڈاکٹر اوبرے کے اس دعوے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ناقابل عمل قرار دے رہے ہیں۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اوبرے نے اپنے اس دعوے میںمزید کہا ہے کہ ”انسانی جسم بھی کسی مشین کی طرح ہوتا ہے جو مختلف حرکت کرنے والے پرزوں پر مشتمل ہوتی ہے۔اس کے پرزوں کو نقصان پہنچنا اس کی زندگی کا جزو ہے۔ جس طرح مشین کے پرزوں کو مرمت کرکے ازسرنو کارآمد بنایا جا سکتا ہے اور مشین کو اسی طرح چالو رکھا جا سکتا ہے اسی طرح انسانی اعضاءکی بھی مرمت کی جا سکتی ہے اور انسانی جسم کو طویل عرصے تک بقائم رکھا جا سکتا ہے۔“ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اوبرے کے ادارے کو اس تھیوری پر تحقیق اور دوا و طریقہ ہائے علاج کی ایجاد کے لیے گوگل اور پے پال جیسی دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں مالی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس