سعودی عرب، عسیر میں مسجد دھماکے میں ملوث اہم مطلوب گرفتار

سعودی عرب، عسیر میں مسجد دھماکے میں ملوث اہم مطلوب گرفتار

الریاض(این این آئی) سعودی عرب کے صوبے عسیر میں کچھ عرصہ قبل ہنگامی فورسز کی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ملوث شہری عقاب العتیبی کو گرفتار کرلیا گیا ۔سعودی اخبار نے بتایاکہ سعودی سیکورٹی فورسز نے مملکت کے جنوب میں ایک کارروائی کے دوران عسیر میں ہنگامی فورسز کی مسجد پر حملے میں ملوث خطرناک ترین مطلوب عقاب معجب العضیانی العتیبی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ کہا جارہا ہے کہ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے نو انتہائی مطلوب افراد کی تصاویر جاری کرنے کے بعد العتیبی نے اپنا حلیہ بدلنے کی کوشش میں کلین شیو کرلیا۔ذرائع کے مطابق بیشہ گورنری کے باہر عمل میں لائی جانے والی کارروائی میں عقاب العتیبی کو زندہ حالت میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے پاس دھماکا خیز مواد سے بھری بیلٹ اور اسلحہ تھا تاہم وہ انہیں استعمال نہ کر سکا۔ ذرائع نے واضح کیا کہ العتیبی ان دو خودکش حملہ آوروں کے ساتھ تھا جو جمعہ کے روز مارے گئے۔معلومات کے مطابق عقاب العتیبی کے بارے میں خیال ہے کہ وہ دوادمی گورنری میں کرنل کتاب بن ماجد الحمادی کی شہادت کے واقعے میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس سے قبل بھی شدت پسند نظریات اپنانے کی وجہ سے اسے ایک مرتبہ حراست میں لیا جاچکا ہے۔ حکام کی جانب سے سمجھانے کے بعد اسے رہا کردیا گیا تاہم وہ پھر دہشت گرد خیالات کی طرف لوٹ گیا۔ ملزم طویل عرصے سے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہے۔یاد رہے کہ سعودی وزارت داخلہ کے سیکورٹی ترجمان میجر جنرل منصور الترکی بے تصدیق کی تھی کہ سیکورٹی فورسز نے بہت جلد پونے والے ایک دہشت گرد حملے کی کارروائی کو ناکام بناتے ہوئے دو گاڑیوں کا تباہ کردیا۔

جن میں سے ایک گاڑی گولہ بارود سے بھری ہوئی تھی۔ مملکت کے جنوب مغرب میں صحرائی علاقے میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو دہشت گرد بھاگ کر پہاڑی علاقے میں چھپ گئے اور سیکورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے۔ تاہم فضائی معاونت کے ساتھ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ سیکورٹی فورسز کا کوئی بھی اہل کار ہلاک یا زخمی نہ ہوا۔

مزید : عالمی منظر