ایران، 200سنی مبلغین جیلوں میں قید، 30کو سزائے موت دی جائے گی

ایران، 200سنی مبلغین جیلوں میں قید، 30کو سزائے موت دی جائے گی

تہران(این این آئی)ایران میں سیاسی قیدیوں کے دفاع کی مہم نے 30 سنی مبلغین کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جن کو جلد موت کے گھاٹ اتارے جانے کا خطرہ ہے۔ یہ افراد ایرانی جیلوں میں قید 200 مبلغین اور دینی علوم کے طلبہ میں شامل ہیں جن میں اکثریت کرد ایرانیوں کی ہے۔قیدیوں کے دفاع کی مہم کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ 30 سنی قیدیوں کو تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج کی رجائی شہر جیل میں سزائے موت کا سامنا ہے۔ ایرانی انقلابی عدالتوں دائر مقدمات کے تحت ان افراد پر قومی سلامتی کے خلاف سازش اورحکومت کے خلاف پروپیگنڈے کے الزامات ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس وقت 200 سے زیادہ کرد سنی قیدی پائے جاتے ہیں جن کو کرج، تہران، سنندج، ہمدان، کرمان شاہ، سقز، مہاباد، مریوان اور ارومیہ کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ مذکورہ قیدی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ جیل حکام کی جانب سے ان کے ساتھ انتہائی سختی کا معاملہ کیا جاتا ہے اور بعض مرتبہ انہیں اپنے دینی فرائض کی ادائیگی سے بھی روک دیا جاتا ہے۔بعض قیدیوں کے گھروالوں نے بتایا کہ ان کے فرزند 4 برس سے زیادہ مدت سے گرفتار ہیں اور ابھی تک انہیں عدالت میں بھی نہیں پیش کیا گیا۔

مزید : عالمی منظر