بنگلہ دیش، توہین رسالت کے مجرم ہندودرزی کو چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا

بنگلہ دیش، توہین رسالت کے مجرم ہندودرزی کو چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا

ڈھاکہ(این این آئی)بنگلہ دیش میں تین نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے توہین رسالت کے جرم میں ایک ہندو درزی کوہلاک کردیا،حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ دارالحکومت ڈھاکا سے اَسّی کلومیٹر شمال مغرب میں واقع قصبے تنگیل میں پیش آیا۔ پولیس افسر عبدالجلیل نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا کہ موٹرسائیکل پر سوار تین نوجوان ایک ہندودرزکی کی دوکان پر پہنچے، اْسے گھسیٹ کر باہر نکالا اور چھْریاں گھونپ کر ہلاک کر دیا۔انہوں نے کہاکہ حملہ آور پچاس سالہ نکھل چندرا جوردار کو اْس کی دوکان کے باہر ہلاک کرنے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔پولیس کے مطابق ابھی یہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا اس قتل کا تعلق اْس شکایت سے ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس ہندو درزی نے پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ کلمات ادا کیے ہیں۔ پولیس افسر عبدالجلیل کے مطابق اس شکایت کے بعد یہ ہندو درزی چند ہفتوں کے لیے جیل میں بھی رہا تھا ۔

تاہم پھر یہ شکایت واپس لے لی گئی تھی اور اْسے رہا کر دیا گیا تھا۔ ضلعی پولیس چیف صالح محمد تنویر کے مطابق اگرچہ اس واقعے کا پس منظر ابھی واضح نہیں ہے لیکن یہ قتل ہوا اْسی انداز میں ہے، جس میں ایک یونیورسٹی ٹیچر اور سیکولر بلاگرز کو قتل کیا گیا ہے۔امریکا میں قائم مانیٹرنگ ویب سائٹ کے مطابق داعش سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس ہندو درزی نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی تھی۔

مزید : عالمی منظر