علم کی دُنیا

علم کی دُنیا
علم کی دُنیا

  


علامہ شبلی نعمانی نے بیروت کے ایک عیسائی مورخ نوفل آفندی کا ذکر کیا ہے، جس نے مسلمانوں کی تہذیب و تمدن پر ایک کتاب لکھی ہے۔ وہ مسلمانوں کی علمی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ امر نہایت تعجب انگیز ہے کہ اہلِ عرب جو ہر قدم پر تہذیب و تمدن کو برباد کرتے جاتے تھے۔ انہوں نے غیر قوموں کے علوم و فنون پر کیوں توجہ دی۔ وہ الزام لگاتا ہے کہ مسلمانوں نے اسکندریہ کے کتب خانے کو برباد کیا۔ فارس کے علوم و فنون تباہ کر دیئے۔ انطاکیہ و بیروت کے مدرسے فنا ہو گئے۔ 101ہجری میں دمشق کا کالج برباد کر دیا ۔ حتیٰ کہ انہوں نے مصر کی یادگاروں اہرام اور ابولہول کی مٹا دینا چاہا۔ نوفل آفندی اس عقدہ کو اس طرح حل کرتا ہے کہ اہل عرب زمانۂ جاہلیت سے نجوم اور پیشین گوئیوں کے معتقد تھے۔ خلفاء کے دربار میں جو عیسائی اور یہودی طبیب ملازم تھے۔انہوں نے خلفاء کو یہ یقین دلایا تھا کہ اگر یونان وغیرہ کی کتابیں ترجمہ ہو جائیں تو علم نجوم کے ذریعہ سے بہت سی باتیں جو پردہ غیب میں ہیں معلوم ہو جائیں گی۔ یہ شوق تھا، جس نے اہلِ عرب کو غیر زبانوں کے ترجمہ پر مائل کیا۔طویل مدت سے عیسائی محققین ایسی بے سروپا باتیں کرتے رہے ہیں۔صلیبی جنگوں کا تعصب اب بھی ان کی تحریروں کا حصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تحقیق اور جدیدنظریات کے علم کا حصول اسلامی تہذیب و تمدن کا بنیادی اثاثہ رہا ہے۔

علامہ شبلی نعمانی ؒ کے مطابق جنگ احزاب میں حضرت سلمان فارسیؓ نے جب ایران کے طریقہ کے مطابق خندق کھودنے اور طائف کے محاصرہ میں منجنیقیں استعمال کرنے کا مشورہ دیا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بے تکلف منظور فرمایا اور اس پر عمل کیا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہودیوں سے اکثر خط کتابت رہتی تھی اس لئے آپ نے زید بن ثابتؓ کو حکم دیا اور انہوں نے عبرانی زبان سیکھ لی۔ حضرت زیدؓ نے سریانی زبان بھی سیکھی۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب بہت زیادہ فتوحات ہوئیں تو ولید بن ہشامؓ نے کہا کہ مَیں نے شام کے سلاطین کو دیکھا ہے کہ ان کے ہاں فوج اور خزانہ کا جدا گانہ دفتر مرتب رہتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسی اصول کے موافق فوج اور خزانہ کا دفتر قائم کیا۔ یہاں تک کہ نام بھی وہی عجمی یعنی دیوان رکھا جو فارسی لفظ ہے۔ صحابہ نے فارسی زبان بھی سیکھی۔ عجم کا ایک رئیس ہرمزان حضرت عمرؓ کے دربار میں آیا تو مغیرہ نے فارسی میں اس سے سوال و جواب کیے۔ امیر معاویہؓ نے اپنے عہد حکومت میں غیر قوموں کو زیادہ دخل دیا۔ ان سے پہلے کسی خلیفہ نے دفترخراج کے سوا عیسائیوں اور یہودیوں کو کوئی ملکی خدمت نہیں دی تھی۔ انہوں نے ایک عیسائی کو میر منشی مقرر کیا۔ ابن آثال ایک عیسائی کو ضلع حمص کی کلکٹری کی خدمت دی۔ ابن آثال طبیب بھی تھا۔ اس نے امیر معاویہؓ کے لئے طب کی بعض کتابیں یونانی زبان سے ترجمہ کیں۔ یہ گویا ترجمہ کے رواج کا پہلا دیباچہ تھا۔

امیر معاویہ کے پوتے خالد نے غیر زبانوں کے ترجمے پر توجہ دی اور بہت سی اہم یونانی اورقطبی کتابوں کے تراجم کرائے۔ حجاج بن یوسف کے عہد میں خراج کے ریکارڈ کو فارسی سے عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ہارون رشید کے دور حکومت میں سنسکرت کی علمی تصنیفات کا بھی ترجمہ ہوا اور اسلامی دُنیا میں تحقیق و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں نے یونانی کتابوں کے لفظی ترجمہ ہی نہیں کئے، بلکہ ان کی وضاحتیں بھی کیں۔ ارسطو و افلاطون کی تحریر کا یہ طرز تھا کہ وہ دانستہ مضمون کو پیچیدہ رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ خود ارسطو نے جب کسی قدر اپنی تحریروں میں وضاحت سے کام لیا تو افلاطون نے اسے خط لکھا کہ تم علم کو متبذل اور پامال کرتے ہو۔ ارسطو نے جواب لکھا ’’مَیں نے پھر بھی ایسی پیچیدگیاں رکھی ہیں کہ اکثر لوگ اصل مطلب کی تہہ کو نہیں پہنچ سکتے‘‘۔اکبر کے عہد میں عربی اور فارسی کی متعدد کتابوں کے سنسکرت میں تراجم ہوئے۔

لارڈ میکالے نے برصغیر میں انگریزی نظام تعلیم رائج کیا تھا۔ اس کے ذریعے سے اس نے یہاں کی تہذیب و ثقافت کو متاثر کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ لارڈ میکالے عربی اور سنسکرت زبانوں کے ذخیرہ علم سے بالکل متاثر نہیں تھا۔ اس نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا ’’میں ذاتی طور پر عربی یا سنسکرت زبان سے واقف نہیں، لیکن مَیں نے ان دونوں زبانوں کی مشہور کتابوں کے تراجم پڑھے ہیں۔ ایسے ہی ان زبانوں کے ماہرین سے بھی علمی بات چیت کی ہے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مغرب کی کسی بھی ایک الماری کی قیمت ہندوستان اور عرب کے تمام سرمایہ فکر کے برابر ہے‘‘۔ برصغیر میں انگریزی زبان کے اثرات کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، مگر ہمیں وہ گورنر یاد آتے ہیں جنہوں نے 1873 ء میں کہا تھا ’’انگریزی زبان اور انگریزی لٹریچر کو سائنٹفک یا عمدہ سسٹم کے تحت نہیں پڑھایا گیا، جس کے نتیجے میں پنجاب میں انگریزی کامیاب نہیں رہی۔ ایسے ہی اس نظام تعلیم نے جو سکالر پیدا کیے وہ مہذب آدمیوں کی تخلیق میں زیادہ کامیاب نہیں رہے، چنانچہ اچھے بچوں کو سرکاری مدارس میں بھیجنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گستاخ خود فریبی کا شکار اور بے ادب ہو کر گھر لوٹے ہیں ‘‘۔

جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے گجرات پہنچنے سے پہلے ہمیں علامہ شبلی نعمانی بہت یاد آئے۔ جامعہ گجرات کی اپنی تاریخ تو اتنی طویل نہیں، مگر یہ تاریخ ساز کام کر رہی ہے۔ اس کے پرجوش وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم تعلیم و تحقیق کو نئی بلندیوں سے روشناس کرا رہے ہیں۔ گزشتہ دِنوں یہاں ایک تقریب میں محکمہ قانون سے ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت جامعہ گجرات میں حکومت پنجاب کے قوانین اور ضوابط کا ترجمہ ہوگا۔ پندرہ ہزار سے زائد صفحات پر مبنی قوانین کو اُردو میں منتقل کرنے کی ذمہ داری ڈاکٹر غلام علی کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم ادا کرے گی۔ قوانین کی اُردو زبان میں منتقلی کے ساتھ اس امر کی تصدیق ہو جائے گی کہ اس زبان میں ہر قسم کے عملی، ادبی، فنی اور قانونی معاملات کو احسن طریقے سے بیان کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ گجرات یونیورسٹی کا شعبہ السنہ و علوم ترجمہ 2012ء سے کام کر رہا ہے۔ یہاں طلباء کو ترجمہ کے علوم میں اعلیٰ ڈگریاں دی جاتی ہیں اور انہیں ترجمہ کرنے کے جدید ترین تقاضوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ضیا القیوم تقریب کے شرکاء کو بتا رہے تھے کہ ’’جامعہ گجرات پاکستان کی پہلی جامعہ ہے،جہاں علوم ترجمہ میں بی ایس اور ایم فل کی سطح کی تعلیم دی جاتی ہے اور یہاں سے زبان اور تراجم کے متعلق بین الاقوامی معیار کا ایک تحقیقی جریدہ بھی شائع ہوتا ہے۔ یہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی جانب سے منظور شدہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک کثیر السانی مجلہ ’’ مترجم‘‘ بھی شروع کیا گیا۔‘‘ جناب ڈاکٹر ضیا القیوم کو فخر تھا کہ حکومت پنجاب نے قوانین کے ترجمے کے لئے کھلے مقابلے میں مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ کو موزوں ترین ادارہ قرار دیا ہے اور عظیم قومی خدمت کی ذمہ داری مرکز کے سپرد کی گئی ہے۔

گجرات یونیورسٹی جلال پور جٹاں سے گزر کر کشمیر جانے والی تاریخی شاہراہ پر واقع ہے۔ یہ شاہراہ دریائے چناب کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہے۔ دریائے چناب کے دوسری طرف وزیر آباد میں اُردو ادب و صحافت کی عظیم شخصیت مولانا ظفر علی خان آسودہ خاک ہیں۔ ان کے والد نے کرم آباد کے اس چھوٹے سے گاؤں سے ’’زمیندار ‘‘ کے نام سے جس اخبار کا آغاز کیا تھا، بعد میں مولانا ظفر علی خان نے اس اخبار کو بامِ عروج پر پہنچا دیا اور اس نے برصغیر کے مسلمانوں میں روح آزادی پھونکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مولانا ظفر علی خان نے کچھ کتابوں کے بڑے اعلیٰ پائے کے تراجم بھی کئے تھے۔ اب چناب کی دوسری طرف گجرات یونیورسٹی میں ترجمے کا جو کام ہو رہا ہے اس سے پاکستان کی علمی اور سائنسی فضا میں تازہ ہوا کے جھونکے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جامعہ گجرات کی اس تقریب میں شرکت کے لئے پورے مُلک سے صاحبان علم و دانش اکٹھے ہوئے تھے۔ محترم سجاد میر نے اپنی تقریر میں عمر رفتہ کو آواز دی اور پاکستان میں ثقافتی تبدیلیوں کے پس منظر میں زبان کے مختلف چٹخاروں کا ذکر کیا۔ جناب حبیب اکرم اینکر پرسن ہیں، کالم نویس ہیں۔ ان کی تقریر میں جوش اور تاریخی تحقیق کا خوبصورت امتزاج نظر آیا۔ ڈاکٹر سید ابو الحسن نجمی نے تقریب کے حاضرین سے اس وقت خوب داد وصول کی جب انہوں نے بتایا کہ قوانین کے تراجم کے مشکل کام کے مراحل شوق کو انہوں نے کس طرح طے کیا۔ گجرات یونیورسٹی کے ڈائریکٹر شیخ رشید اس تقریب کی نظامت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ وہ اکثر تقریب کی صرف کمپیئرنگ ہی نہیں کرتے،بلکہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ تقریب کو تخلیق کر رہے ہیں۔

گجرات یونیورسٹی میں اس مرتبہ ڈاکٹر زاہد یوسف صاحب نے اوکلاہاما یونیورسٹی کے پروفیسر جم ایوری سے بھی ملاقات کرائی۔ دُنیا بھر میں تعلقات عامہ کے شعبہ میں ہونے والے تجربات پر ان کی گہری نظر ہے۔ گجرات یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے تقریباً تمام اساتذہ امریکہ کی اوکلاہاما یونیورسٹی کے دورے کر چکے ہیں اور وہاں سے درس و تدریس کے نئے طریقے سیکھ چکے ہیں۔ اوکلا ہاما یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر بھی گجرات یونیورسٹی آتے ہیں اور یہاں کے طلبا و طالبات کی ذہانت کے متعلق اچھے تاثرات لے کر واپس جاتے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد یوسف نے اپنی محنت، خلوص اور بے پناہ لگن سے شعبہ ابلاغیات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب وہ ماشااﷲ ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کے تحقیق و تدریس کے جوان جذبوں کو دیکھ کر امید کی جا سکتی ہے کہ وہ عزت اور شہرت کی بلندیوں پر ضرور پہنچیں گے۔

مزید : کالم