ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی
ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی

  


14اپریل آئی اور گزر گئی اور ہمیں یاد بھی نہ رہا اُس ہستی کے بارے میں جس نے اس مملکت کے لئے دل و جاں سے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نہ صرف سائنس، بلکہ فنون کے دیگر شعبہ جات کی ایک ماہر شخصیت تھے۔ پاکستان کی سائنسی، علمی اور ادبی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ یاد گا رہے گا۔19اکتوبر1897ء کو آپ ہندوستان کے مشہور شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے لکھنؤ سے ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور1917ء میں علی گڑھ مسلم کالج کا رُخ کیا، جس کی بنیاد سر سید احمد خان نے رکھی تھی۔1919ء میں 22سال کی عمر میں اعزاز کے ساتھ ایم اے او کالج سے گریجوایشن کیا۔ اس وقت یہ درس گاہ مسلمانوں کی سب سے پسندیدہ درس گاہ تھی۔1920ء میں اسے یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ آج یہ یونیورسٹی نہ صرف ہندوستان کی بلکہ دُنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں سے ایک ہے۔علی گڑھ مسلم کالج کے شفیق اور علم دوست اساتذہ کی رفاقت نے نوجوان سلیم الزماں صدیقی کے دل و دماغ میں علم و تحقیق کا شوق ایسا بھرا کہ وہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لئے بے چین ہو گئے۔ ان کی بے چینی، بے قراری میں بدلی تو1921ء میں اس کا مداوا کرنے کے لئے بیرون مُلک اعلیٰ تعلیمی تحقیقی اداروں کا رُخ کیا۔ سب سے پہلے یونیورسٹی کالج، لندن میں آتش شوق بجھاتے رہے۔ فرینکفرٹ یونیورسٹی جرمنی میں جا پہنچے، جہاں مشہور جرمن سائنس دان پروفیسر جولیس وین برون اپنے شاگردوں کی علمی پیاس بجھانے پر مامور تھے۔ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نے ان کی زیر نگرانی ڈی فل کیا۔ پروفیسر جولیس وین برون نے ان کی تعلیمی پیاس تو بجھائی، مگر تحقیق و جستجو کی وہ لگن ان کے دِل و دماغ میں پیدا کر دی جس نے ساری عمر انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ نتیجتاً انہوں نے عمر عزیز تحقیق کے نام کر دی۔

1927ء میں نوجوان سلیم الزماں صدیقی مزید بے چینی سمیٹنے وطن لوٹ آئے۔1928ء میں ان کی ملاقات طب کی مشہور زمانہ شخصیت اور طبی کالج دہلی کے بانی حکیم محمد اجمل خان سے ہو گئی۔ حکیم اجمل خان کی سحر انگیز شخصیت کا اثر ایسا قبول کیا کہ ان کے قائم کردہ ادارے طبی کالج دہلی سے وابستگی اختیار کر لی۔ یہاں انہیں اپنے جوہر دکھانے کا خوب موقع میسر آیا۔ انہوں نے یہاں ادویات کے تحقیقی انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیئے اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کر کے دم لیا۔ پھر وہ مسلسل10 برس تک اس ادارے کے ڈائریکٹر کے طور پر تحقیقی امور میں مصروف رہے۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف بہت سی ادویات کے بارے میں تحقیقات کیں، بلکہ برصغیر میں ادویات میں بہت محنت اور لگن سے کام کیا۔ ان کی ایک تیار کردہ دوا ’’اجملین‘‘ کو دُنیا بھر میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ نام انہوں نے اپنے استاد حکیم اجمل خان کے نام پر رکھا۔ 1940ء میں اس وقت کے ایک بڑے سائنسی و تحقیقی ادارے کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) نے ان کی خدمات مستعار لیں۔ جنگ عظیم دوئم کے اختتام تک وہ اس کونسل سے وابستہ رہے۔ اس دور میں انہوں نے صنعتی تحقیق کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ 1947ء کے آغاز میں ان کو ایک اور اہم سائنسی ادارے نیشنل کیمیکل لیبارٹریز کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔

14اگست کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نے سب کچھ وہیں چھوڑ کر اور اپنے بڑے بھائی اور تحریک آزادی کے عظیم رہنما چودھری خلیق الزماں، جن کی خدمات تحریک پاکستان کے حوالے سے بہت نمایاں ہیں، کی معیت میں ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ کراچی اُس وقت پاکستان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر تھا۔ اس وقت پاکستان میں کسی سائنسی اور تحقیقی ادارے کا وجود نہ تھا۔ حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے سائنسی و صنعتی تحقیق کے ادارے پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ(PCSIR) کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے نے 1961ء میں تحقیقی کام شروع کیا۔ 1961ء ہی میں ایک اور سائنسی ادارے پاکستان نیشنل سائنس کونسل کی بنیاد رکھی گئی۔ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کو دوہری ذمہ داری سونپی گئی اور ’’پی ایس آر کے‘‘ ساتھ ساتھ اس ادارے کا بھی پہلا چیئرمین مامور کر دیا گیا۔ اپنی ریٹائرمنٹ تک وہ ان دونوں اداوں کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ پاکستان نیشنل سائنس کونسل کی ترویج کے لئے بھی انہوں نے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی اور اسے بھی ایک مستند ادارے کا روپ دے دیا۔1966ء میں ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی اپنی ملازمتی ذمہ داریوں سے احسن طور پر سبکدوش ہوئے، جونہی انہوں نے ریٹائرمنٹ لی، جامعہ کراچی نے ان کی خدمات حاصل کر لیں اور انہیں شعبہ کیمسٹری کا پروفیسر اور ریسرچ ڈائریکٹر مقرر کیا۔

جامعہ کراچی میں انہیں مکمل آزادی کے ساتھ اپنی خواہشات کے مطابق کام کرنے کا موقع ملا۔ شعبہ کیمیا کے حالات دیکھ کر ان کے دِل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس شعبے کی حالت کو بہتر بنایا جائے، بلکہ اسے اعلیٰ اور معیاری سائنسی تحقیق کا ادارہ بنا دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے روزِ اوّل سے ہی اپنی کوشوں کا آغاز کر دیا۔ اس مقصد کے پیش نظر1967ء میں انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمیا کی ایک چھوٹی سی تجربہ گاہ میں پوسٹ گریجویشن انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری کی بنیاد رکھی تاکہ بین الاقوامی معیار کا ایک پوسٹ گریجوایٹ انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری قائم کریں، جس میں جدید تحقیقاتی اور تربیتی سہولیات فراہم ہوں۔ اس کے قیام کے سلسلے میں ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی مرحوم نے کچھ امداد مجلس تحقیقاتِ سائنس تحقیقاتِ سائنس و صنعت پاکستان سے اور کچھ ’’رائل سوسائٹی‘‘ لندن سے حاصل کی اور اس طرح ڈاکٹر صاحب کی بیشتر ذاتی کوششوں اور دلچسپیوں سے انسٹیٹیوٹ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے لئے تحقیق کا انتظام ہو سکا۔ ڈاکٹر صاحب ہی کی بیشتر ذاتی کوششوں اور دلچسپیوں سے انسٹیٹیوٹ کو ایک گرانقدر عطیہ مل سکا۔ اس کے علاوہ مغربی جرمنی کی حکومت سے کافی بڑی رقم کے سائنسی آلات، دیگر ضروری سامان اور وظائف ملے، جبکہ ادارے کے لئے دیگر تحقیقی سٹاف پی سی ایس آئی آر کی طرف سے فراہم کیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نے اس ادارے کو کیمیا اور قدرتی اجزاء کی تحقیق کے ایک بڑے ادارے میں بدل دیا اور یہ ادارہ حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری کے نام سے مشہور ہوا۔

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی حیرت انگیز شخصیت ایک طرف تحقیق کے لئے زندگی تیاگ دینے والے سائنس دان ماہر کیمیا گر کی تصویر پیش کرتی ہے تو دوسری طرف فن مصوری، شاعری، فنونِ لطیفہ سے گہری اور سچی وابستگی ان کی ذات کو منفرد بنا دیتی ہے۔ ان کی شخصیت کا حیرت انگیز پہلو ان کی مصوری ہے۔ جسے اہلِ فن نے بھی خوب سراہا ہے۔ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی تصویر کی متعدد نمائشیں منعقد ہوئیں۔ ان کی تصاویر کی پہلی نمائش اگست 1964ء میں جرمنی کے مشہور شہر فرینکفرٹ کی آرٹ گیلری میں ہوئی جہاں عمائل نولدے اور مایا الرجسی مشہور و معروف مصوروں کی تخلیقات ان کے ساتھ نمائش کے لئے رکھی گئی تھیں۔ ڈاکٹر صدیقی نے اپنے جرمنی کے دورے کے دوران جرمن شاعر رائنز ماریہ رلکیز کی شاعری کا اُردو میں ترجمہ بھی کیا۔1967ء میں ان کی تخلیقات کی دوسری نمائش بھی فرینکفرٹ جرمنی میں ہی ہوئی۔ علاوہ ازیں دیگر نمائشیں بنگلور، کلکتہ کراچی اور دہلی میں منعقد ہوئیں۔ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کو اپنی زندگی میں ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے ہیلی کا دمدار ستارہ دو بار دیکھا۔ علاوہ ازیں ہمارے مُلک میں ایسے بہت کم لوگ ہیں، جنہوں نے اپنی کارکردگی کے اعتراف میں سات سے زائد ایوارڈز حاصل کئے ہوں۔ پاکستان کے سائنسی افق کا یہ ستارہ14اپریل1997ء کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا:

چھپ گیا آفتاب، شام ہوئی

اِک مسافر کی رہ تمام ہوئی

مزید : کالم