غریب عوام کے خوشحال رہنما

غریب عوام کے خوشحال رہنما
 غریب عوام کے خوشحال رہنما

  


دُنیا میں ایک روایت چلی آ رہی ہے کہ عوام حکمران طبقے کے ہر اچھے برے کام کی تقلید کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس روایت کی پاسداری کرتے ہوئے لوگ اپنے ذمے جائز ٹیکس اس لئے ادا نہیں کرتے، کیونکہ ان کے سیاسی رہنما ٹیکس چوری میں پیش پیش ہیں۔ آئین کے مطابق ہر شہری ٹیکس ادا کرنے کا پابند ہے اور ٹیکس چوری ایک قابل تعزیز جرم ہے۔ پاناما لیکس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے، جس کی گونج ہمارے عوام کے کانوں میں پڑ رہی ہے۔ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ اربابِ اختیار کے اثاثوں اور ٹیکس معاملات سے آگاہی حاصل کریں۔ حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ووٹروں کو اس سلسلے میں اپنی بریت پیش کریں۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں ٹیکس اور آمدنی ایک مناسب شرح سے نمو پذیر ہوتی ہے،جوں جوں آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے، ٹیکسوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ٹیکس ادائیگی کے بعد جو آمدنی بچتی ہے ،وہ خالص اور جائز قرار دی جاتی ہے۔ اس سے بنائے گئے اثاثے سفید دھن کہلاتے ہیں۔ ٹیکس چوری قابل تعزیر جرم ہے اور اس کے نتیجے میں اکٹھی کی گئی دولت کالا دھن کہلاتی ہے۔ہمارے سیاسی رہنماؤں نے جو اثاثے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر کئے ہیں، وہ قوم کے ساتھ مذاق ہے۔ پچھلے پانچ برسوں (2010-2015ء) میں میاں محمد نواز شریف کے اثاثے 166 ملین روپے سے بڑھ کر 2 بلین روپے ہو گئے ہیں۔ یہ اضافہ 1100 فیصد یا گیارہ گنا ہے۔ کیا ٹیکسوں کی مد میں بھی اتنا اضافہ ہوا ہے؟ نہیں!

ٹیکسوں میں 2014ء تک 2 ملین روپے سے 2.6 ملین روپے کا اضافہ 33 فیصد یا ایک تہائی بنتا ہے جو افراط زر سے بھی کم ہے۔ دنیا میں بہت کم ایسے ملک ہیں، جہاں ایک فرد کی دولت میں11 گنا اضافہ ہو اور ٹیکس میں اضافہ افراط زر کی شرح سے بھی کم ہو۔ پبلک آفس رکھنے والے تو عوام کے سامنے جوابدہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ وہ اثاثہ جات ہیں جو ان کے اپنے نام ہیں۔ اس کے علاوہ فیملی ممبران کے نام جو جائیدادیں ہیں، ان کا کہیں کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ظاہری دولت حقیقی دولت کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔یہ اکیلے اس راہ کے مسافر نہیں ہیں۔ پورا قافلہ ہی دولت کی لوٹ کھسوٹ میں سرگرم عمل ہے۔ عوام کی خون پسینے کی کمائی سے اکٹھے کئے گئے ٹیکسوں کو جس بے دردی سے ہمارے حکمران اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہے ہیں۔ اس کی مثال دنیا کے کم ہی ملکوں میں ملتی ہے:

ہمارے دست و بازو کاٹ ڈالے دستگیروں نے

تری دنیا میں رب دو جہاں ایسا بھی ہوتا ہے

عمران خان صاحب پچھلے بیس برسوں سے خار زار سیاست میں جلوہ افروز ہیں اور پوری تندہی اور خلوص سے حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ سال 2014ء میں ان کے اثاثے 33.3 ملین روپے تھے۔ ایک سال میں یہ 1.31 بلین روپے ہو چکے ہیں۔ ان میں بنی گالہ کی رہائش کی مالیت 750 ملین روپے اور زمان پارک کی رہائش کی مالیت 220 ملین ظاہر کی گئی ہے۔ عمران خاں نے 2013ء میں 194000روپے اور 2014ء میں 2,18000 روپے ٹیکس ادا کیا۔ ان کے اثاثہ جات اور طرز زندگی سے یہ بات عیاں ہے کہ وہ ارب پتی شرفاء کی صف میں کھڑے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حال ہی میں ارکان سینٹ کے گوشواروں کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس کے مطابق سب سے امیر سینیٹر اعتزاز احسن ہیں، جن کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب 87 کروڑ روپے ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بیرون ملک کوئی جائیداد اور کاروبار نہیں ہے۔ ان کے پاس 68 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں اور انہوں نے 2015ء میں 39 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا ہے، ان کے استعمال میں دو کروڑ 77 لاکھ کی چار گاڑیاں ہیں۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے8 کروڑ 94 لاکھ روپے اور پرویز رشید صاحب نے 13 لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔رحمن ملک سابق وزیر داخلہ کے پاس ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی اور بیرون ملک 33 کروڑ روپے کی جائیداد ہے مشاہد حسین سید کے اثاثوں کی مالیت 5 کروڑ روپے ہے، جن میں 550 کتابیں بھی شامل ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے 21 کروڑ کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔عبدالغفور حیدری کے کل اثاثوں کی مالیت 14 لاکھ روپے ہے اور ان کے پاس گاڑی نہیں ہے۔ مشاہد اللہ کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 39 لاکھ ہے، جبکہ ان کی کوئی ذاتی گاڑی نہیں ہے۔ راجہ ظفر الحق 19کروڑ اور محترمہ شیری رحمن 93 لاکھ کے اثاثے رکھتی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے سینیٹرز سب سے کمزور مالی حیثیت کے مالک نظر آتے ہیں۔ سوائے سینیٹر طلحہ محمود کے ان میں سے اکثر حضرات کے کوئی ذرائع آمدنی بھی نہیں ہیں۔

مندرجہ بالا اثاثوں سے دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ اکثر ارکان کے پاس ذاتی گاڑیاں نہیں ہیں تو پھر یہ لوگ کیسے سفر کرتے ہیں؟ بہت سارے ارکان نے فرنیچر تک ظاہر نہیں کیا، جبکہ ان کے ڈرائنگ روم قابل رشک حد تک سجے سجائے ہیں۔ اشرافیہ کی بیگمات زیورات کے بغیر کیسے زندگی بسر کر رہی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص کے پاس اسلام آباد میں ذاتی بنگلے کے علاوہ تین جگہ پر زرعی رقبہ ہے اور کل 36.6 ملین مالیت کے اثاثے ہیں، جن میں ایک بھی گاڑی کا ذکر نہیں ہے۔جن حضرات کے آمدنی کے ذرائع نہیں ہیں، وہ کیسے پُرتعیش زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شاید اس دور میں سیاست ہی کو ذریعہ معاش سمجھا جا رہا ہے۔ ریاست کی باگ ڈور جب کاروباری حضرات کے ہاتھوں میں آ جاتی ہے تو وہ اسے بھی کاروبار سمجھ کر چلاتے ہیں۔یہ لوگ عوامی مسائل سے بے خبر ہوتے ہیں۔ بھوک کا اندازہ خالی پیٹ والا ہی کر سکتا ہے۔ مصر میں قحط پڑا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو غلے کی تقسیم پر لگایا گیا۔ آپ نے ایک وقت کا کھانا ترک کر دیا۔ لوگوں کے استفسار پر آپ نے فرمایا کہ مَیں اگر پیٹ بھر کر کھاؤں گا تو مجھے بھوکے لوگوں کی بھوک کا احساس کیسے ہوگا؟

آج ہم ٹیکس کلچر کی بات کرتے ہیں، لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں پر عدم اعتماد ہے۔ انہیں علم ہے کہ ان کے ٹیکسوں سے عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے ارباب اختیار عیاشی کر رہے ہیں۔ وہ صدقات و خیرات بڑی خوشی سے دیتے ہیں۔انہیں پتہ ہے کہ خیرات جمع کرنے والے ان کے پیسے نادار اور بے سہارا لوگوں پر خرچ کرتے ہیں۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم خدا کے بندوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے۔ کبھی جمہوریت کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہے اور کبھی آمریت کے ہاتھوں عوام کو کچلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک عوامی شعور بیدار نہیں ہوتا۔ جہالت کی زنجیروں کو توڑے بغیر غربت ختم نہیں ہو سکتی۔

مزید : کالم