دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششیں

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششیں

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کوششوں کا معترف ہے اور سمجھتا ہے کہ پاکستان کو ایف16طیارے دینے سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مدد ملے گی، ایف16طیاروں پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہیں یہ طیارے پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں معاون ہیں۔ امریکی پاکستان کی اِن کوششوں میں تعاون کے حق میں ہیں جو وہ دہشت گردی کے خلاف کر رہا ہے، فوجی امداد سے پاکستان میں استحکام آئے گا اور خطہ محفوظ ہو جائے گا۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ کانگرس کے بعض ارکان کو پاکستان کو ایف16طیارے دینے پر تحفظات ہیں تاہم امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان کو اسلحہ کی فراہمی کے حوالے سے علاقائی سلامتی اور دیگر عوامل کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایف16طیاروں کی پاکستان کو فراہمی کے معاملے میں امریکی امداد پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ دہشت گردی روکنے کی ذمہ داری کسی ایک مُلک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اِس سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔امریکہ نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کوششوں کو سراہا ہے اور ایف 16 طیاروں کے متعلق بھی پاکستان اور امریکی حکومت کا نقطہ نظر یکساں ہے، امریکی حکومت بجا طور پر یہ سمجھتی ہے کہ اِن طیاروں کا استعمال دہشت گردی کی جنگ میں مفید ثابت ہو گا، کسی دوسرے مُلک کو اِس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، تاہم بدھ کے روز امریکہ کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی مشترکہ کمیٹی کے سامنے دو اعلیٰ امریکی حکام کی پیشی کے دوران جو بحث ہوئی، اس کا مفہوم سیاق و سباق کو سامنے رکھ کر صحیح طور پر نہیں سمجھا گیا، اور اس کی ایسی تعبیر کر دی گئی جو درست نہیں۔ کھینچ تان کر اس کا وہ مطلب نکال لیا گیا جو مطلوب نہیں تھا۔ بحث کے دوران کانگرس کے چند ارکان نے اعتراضات اُٹھائے جن سے اُلجھن پیدا ہوئی۔پاکستان کی سویلین کے ساتھ ساتھ ملٹری فنانسنگ برقرار ہے اور اس میں کانگرس نے کوئی کٹوتی نہیں کی۔

اوباما انتظامیہ پاکستان کو آٹھ ایف16طیاروں کی فروخت کی منظوری دے کر اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر چکی ہے اور طیارہ ساز کمپنی کو طیارے بنانے کا آرڈر بھی دیا جا چکا ہے تاہم کانگرس کے بعض ارکان امریکی حکومت کے اِس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان مغربی سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مخلص ہے اور یہ کہ اُسے ایف16طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے مطلوب ہیں۔ کانگرس کے اِن چند ارکان کا موقف یہ بھی ہے کہ یہ طیارے بھارت کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں، بھارت نے اپنی لابی کے ذریعے کانگرس کے جن ارکان کو متاثر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ اُنہی کا موقف ہے ورنہ سینیٹ میں پاکستان کو طیاروں کی فروخت رکوانے کے لئے جو قرار داد پیش کی گئی تھی وہ بھاری اکثریت سے ناکام نہ ہوتی۔ اِس قرارداد کی ناکامی کے بعد ہی اوباما انتظامیہ نے طیاروں کی فروخت کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔پاکستان اِس وقت اپنی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب کے نام سے جو آپریشن طویل عرصے سے جاری تھا وہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور تمام علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کر دیا گیا ہے ان کی کمین گاہیں ملیا میٹ کر دی گئی ہیں، اُن کی تربیت گاہیں تباہ کر دی گئی ہیں۔ افغانستان کی سرحد کے ساتھ ایک مختصر سے علاقے میں اب تک بچے کھچے دہشت گرد موجود ہیں، جن کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان ایک مشکل آپریشن تھا اور گزشتہ کئی سال ایسے گزرے تھے، جب اس علاقے میں آپریشن شروع کرنے کے لئے امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈالا تھا، لیکن اُس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ آپریشن نہیں کیا تھا۔ اُن کا اِس معاملے میں موقف یہ تھا کہ مغربی سرحد پر پاکستان نے اپنی بہت زیادہ سیکیورٹی فورس ڈیپلائے کر رکھی ہے جس کی وجہ سے مقابلتاً مشرقی سرحد پر کم فورس لگی ہوئی ہے، جہاں بعض اوقات بھارت کی طرف سے مسائل کھڑے کئے جاتے ہیں اِس لئے اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہو گا تو مشکلات پیدا ہوں گی۔ امریکہ اُس وقت بھی حقانی نیٹ ورک کا راگ الاپتا تھا اور آج بھی یہی کہتا ہے، حالانکہ پاکستان نے اب جو آپریشن شروع کیا ہے وہ بلا امتیاز ہے۔

امریکی کانگرس کے جو ارکان یہ رائے رکھتے ہیں کہ پاکستان کو مغربی سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف ’’ڈو مور‘‘ کی ضرورت ہے اُن کا موقف یہی ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف اس طرح کی کارروائی نہیں کر رہا جس طرح امریکی چاہتے ہیں۔ اِن امریکی ارکان کانگرس کی خواہش ہے کہ ایف16کے سودے کے چکر میں پاکستان کو اِس بات پر رضا مند کر لیا جائے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے، جبکہ پاکستان کا موقف اِس سلسلے میں واضح ہے کہ ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔افغانستان کے دارالحکومت اور دوسرے علاقوں میں اس وقت دہشت گردی کی جو کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ افغان حکومت کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں وہ طالبان کر رہے ہیں جو پاکستان میں رہ رہے ہیں اور پاکستان کی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے امریکہ کو یہی پٹی پڑھائی ہوئی ہے، چنانچہ جب بھی کسی مقام پر ایف16کا معاملہ زیر بحث آتا ہے تو امریکہ مغربی سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ چھیڑ دیتا ہے، جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہوئی ہے اور جن دہشت گردوں نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کیں وہ نہ صرف افغانستان سے آئے، بلکہ اُنہیں افغان ٹیلی فونوں کے ذریعے وہیں سے ہدایات بھی ملتی رہیں اس کے ثبوت بھی پاکستان نے افغان حکومت کو دے دیئے ہیں۔

افغانستان میں کئی سال سے اِس موسم میں افغان طالبان اپنی کارروائیاں تیز کر دیتے ہیں خود امریکی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق اِس بار بھی ایسی کارروائیاں توقع کے مطابق ہو رہی ہیں، لیکن افغان حکام اِن کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر کے اپنی اُن سازشوں کو چھپانا چاہتے ہیں، جو وہ پاکستان کے خلاف کر رہے ہیں۔ حال ہی میں افغان خفیہ ایجنسی ’’خاد‘‘ کا جو ایجنٹ گرفتار ہوا ہے اُس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ’’را‘‘ کے ایجنٹوں سے مل کر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کر رہا تھا۔ افغانستان کا اپنا حال یہ ہے تو وہ پاکستان کے خلاف الزام تراشی کس برتے پر کر رہا ہے؟ یہ دراصل بھارت اور افغانستان کا مشترکہ کھیل ہے۔ بھارت ہر حال میں پاکستان کو ایف16طیاروں کی سپلائی رکوانا چاہتا ہے جس کا امریکی حکومت نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا تھا۔ اب اِس سلسلے میں جو نئی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے امید ہے امریکی دفتر خارجہ کے بیان کی روشنی میں مستقبل میں اِس کا کوئی ازالہ کر لیا جائے گا تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ امریکی دفتر خارجہ پاکستان کے لئے ایف16طیاروں کی ضرورت نہ صرف محسوس کرتا ہے، بلکہ یہ تسلیم بھی کرتا ہے کہ پاکستان کو یہ طیارے مغربی سرحدوں پر استعمال کے لئے درکار ہیں۔

مزید : اداریہ