الزامات ثابت ہو گئے تو وزیر اعظم گھر نہیں جیل جائیں گے :عمران خان

الزامات ثابت ہو گئے تو وزیر اعظم گھر نہیں جیل جائیں گے :عمران خان

لاہور(جنرل رپورٹر،نمائندہ خصوصی،خبر نگار خصوصی) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم میا محمد نواز شریف سے استعفی طلب کرنے کیلئے متفق ہو چکی ہیں اس کا با ضابطہ اعلان آج اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں کیا جائے گا وزیراعظم پر چار الزامات ہیں ہر الزام کا راستہ جیل کی طرف جاتا ہے وہ بطور وزیراعظم 2018نہیں دیکھیں گے اس سے قبل ہی انہیں رخصت ہونا ہو گا کرپشن ثابت ہو گئی تو انہیں گھر نہیں بلکہ جیل جاناہوگا میں اور میر ی جماعت احتساب کے لئے حاضر ہیں مگر میاں نواز شریف سن لیں سب سے پہلے صرف احتساب ان کا ہو گا پانامہ لیکس میں جن کے نام آئے ہیں ان کا احتساب بھی ہو گا مگر آغاز میاں نواز شریف سے ہونا چاہئے میاں نواز شریف کے پاس اب حکومت کرنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا میں احتساب سے پیچھے نہیں ہٹو ں گا ،اقتدار میں آ کر نجکاری نہیں بلکہ پروفیشن مینجمنٹ اور اداروں کو غیر سیاسی کریں گے،آئندہ اتوار 8مئی کو فیصل آباد میں جلسہ کروں گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرنگ کراس فیصل چوک میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی ‘ جہانگیر خان ترین‘ چودھری محمد سرور اور چیف آرگنائزر جلسہ عبدالعلیم خان سمیت پی ٹی آ ئی کی تمام قیادت بھی موجود تھی۔عمران خان نے کہا کہ میاں نواز شریف کو کرپشن ٹیکس چوری اور پانامہ لیکس میں آنے والے الزمات کا جواب دینا ہو گا ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے رائے ونڈ جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے مگر ابھی میا ں صاحب کو تھوڑا وقت مزید دے رہے ہیں کارکن اس کی تیاری رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کمیشن کے لئے اپنے ٹی اوآرتیار کر لئے ہیں تاہم حتمی اور فائنل ٹی او آرز آج اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کرکے جاری کریں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک آزاد اور خود مختار کمیشن کا قیام ہی مسئلے کا حل ہے ا ور میاں صاحب کو خود کو اس کمیشن کیس سامنے پیش کرنا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پر چار بڑے الزامات ہیں انہوں نے ٹیکس چوری کی منی لانڈرنگ کی اور پاکستان کا پیسہ چور دروازے سے باہر بھجوایا ہر الزام کی راہ جیل جاتی ہے انہوں نے اپنے چار ایسے درباریوں جن کے نام فلاں فلاں ہیں یہ درباری خود بھی کرپشن اور لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔عمران خان نے کہا کہ میاں صاحب آدھے گھنٹے میں مسئلہ حل کر سکتے ہیں وہ ایک پریس کانفرنس کریں اور اپنے اثاثے ڈکلیئرکردیں قوم کو بتائیں کہ انہوں نے کس طریقے سے آف شور کمپنیوں کے لئے پیسہ بھجوایا اسے سے مجھے جلسے بھی نہیں کرنے پڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ جھ ہم کرپشن کی بات کرتے ہیں تو ان کی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے حالانکہ جمہوریت کو سب سے زیادہ خطرہ ہی کرپشن سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے سے ادارے مضبوط ہوں گے اور خود مختار الیکشن کمیشن بن کرس سامنے آئیں گے ائندہ اتوار کو فیصل آباد میں جلسہ کریں گے اور ارئے ونڈ بھی جائیں گے لیکن اس سے پہلے ہم مزید جلسے کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں ملک کے اندر کرپشن ایک کینسر بن چکی ہے اور اب حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں ہر ر ورز بارہ ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے میں نے اپنی پارٹی کو کہہ دیا ہے کہ اگر میں نے کبھی کرپشن کی تو اس پر میرا ساتھ نہ دیا جائے اگر اس پر انہوں نے میرا ساتھ دیا تو میں خود ہی پارٹی چھوڑ دوں گا کرپشن کے خلاف جہاد کا فیصلہ کن وقت آ گیا ہے یہ سنہری وقت اس لئے قوم میرے ساتھ کھڑی ہو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے۔ غریب آدمی مجبوراً چوری کرے تو اسے جیل بھجوایا جاتا ہے اور بڑے ڈاکو وزیراعظم اور صدر بن جائیں تو کیا ایسا ملک چل سکتا ہے ۔اگر حکمران ہی کرپٹ ہوں تو ملک کس طرح ترقی کر سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ لیڈرز کی اخلاقیات معاشرے کیلئے مثال ہوتی ہے لیکن جب کسی معاشرے کا سربراہ ہی کرپٹ ہو تو سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کیلئے اس وقت بہت فیصلہ کن وقت ہے۔ قوم نے وزیراعظم نواز شریف کے احتساب کا مطالبہ کیا تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے پاس وزارت عظمیٰ پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ گیا ہے۔ ان پر کرپشن، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں جو اگر ثابت ہو گئے تو وہ سیدھے جیل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں میرا نہیں بلکہ وزیراعظم نواز شریف کا نام آیا ہے۔ اس معاملے پر قوم کو جواب دینا ان کا فرض ہے۔مزید کہا کہ وزیر اعظم سے کرپشن کے بارے میں پوچھنا اپوزین اور ہر پاکستانی کا حق ہے ہم سوال کریں تو وزیر اعظم جواب دینے کے پابند ہیں مگر وہ کرپشن کے سوال پر لال پیلے ہو جاتے ہیں اوراب ان کی حیثیت کمزور دیکھائی دے رہی ہے اس لیے انہوں نے حوصلہ پکڑنے کیلئے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو بھی ساتھ بٹھا لیا ہے لیکن اب انہیں پتا ہونا چاہیے کہ 2018انہیں نصیب نہیں ہو گی ان کی رخصتی ان کا مقدر بن گئی ہے ۔ عمران خان نے مزید کہا کہ جب بھی لاہور کے شہریوں کو بلایا، انہوں نے میری عزت رکھی میں لاہور کے شہریوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے 40 ڈگری سے زیادہ گرمی میں بھی مجھے مایوس نہیں کیا اور جلسے میں شرکت کیلئے گھروں سے نکلے۔ میں لاہور کی عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کبھی اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور پاکستان کا انتہائی اہم شہر ہے جب لاہور جاگتا ہے تو پورا پاکستان جاگ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج یوم مزدور ہے لیکن ہمارا معاشرہ مزدوروں کو بھول چکا ہے۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ پاکستان کے مزدوروں کا کیا حال ہے۔ پاکستان میں آج تاریخی بے روزگاری ہے۔ پچھلے دو سال میں پندرہ لاکھ مزدور بے روزگار ہوئے۔ اورآج پاکستان میں 52لاکھ افراد بے روز گار ہیں، انہوں نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ اقتدار میں آکر قومی اثاثہ جات اور اداروں کی نجکاری نہیں بلکہ پروفیشن منیجمنٹ اور اداروں کو غیر سیاسی کریں گے۔ نئے پاکستان میں مزدوروں کو ان کا حق دیں گے۔ ہم نجکاری کے نام پر لوٹ مار نہیں ہونے دیں گے۔ پاناما کے معاملے سے فارغ ہو جاؤں تو کسانوں کیلئے بھی دیہاتوں میں نکلوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ خون پسینہ ایک کرنے والے کسانوں کو گندم کی پیداواری قیمت نہیں دی جارہی حکومت نے گندم کی پیداواری قیمت 13سوروپے فی من مقرر کی ہے مگر 11سو روپے میں خریدی جا رہی ہے۔لاہور() انہوں نے کہا کہ کرپشن معاشرے کو دیمک کی طرح کھاجاتی ہے۔ 20سال پہلے اس کے خلاف جنگ شروع کی ،شوکت خانم ہسپتال میں ایم آر آئی خریداری کیلئے اکیس لاکھ ڈالر کی آفر کی تھی جو مسترد کردی انہوں نے کہا کہ پا کستانیوں یہ فیصلہ کن وقت ہے ۔ اگر ساری قوم کھڑی ہوگی اور احتساب کا مطالبہ کیا تو پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی ۔ انہوں نے کہا سارے لوگوں کے فون ٹیپ ہورہے ہیں ، ۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب ایک ہی منصوبے کا چوتھی دفعہ افتتاح کررہے ہیں۔ ہماراحق ہے کہ آپ سے پوچھا جائے کہ پیسہ کہاں خرچ کیا گیا، وزیراعظم یہ جمہوریت ہے کہ آپ کو جوابدہ ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سات سالوں میں 6ارب روپے کا قرضہ شریف خاندان نے لیا ،حکومت میں رہ کرپیسہ بنانا سب سے آسان کام ہے،انہوں نے پیسہ بنانے کے گر بھی بتائے ۔ میاں صاحب آپ ملک میں صرف کاروبار کرنے آئے ۔ 1980میں ایک اتفاق فاؤنڈری تھی بارہ سال بعد30فیکٹریاں تھیں، جیسے جیسے شریف خاندان امیر ہوتا گیا ملک غریب ہوتا گیا ،غریب کے ٹیکس سے رائے ونڈمیں 11ارب روپے سڑکوں ،گیس اور ٹیلی فون ایکسچینج بنانے کیلئے استعمال ہوتا ۔ لندن میں7 ارب روپے کے گھر ہیں ۔45کروڑ روپے جاتی عمرہ کو ٹھیک کرنے میں لگائے 2700پولیس والے مغل اعظم کی حفاظت کیلئے ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب کے 6کیمپ آفس ہیں جس کے خرچہ عوا م ٹیکس سے جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آدھی آبادی پورے قد پر نہیں پہنچی کیونکہ لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے اور گندہ پانی پینے سے اڑھائی لاکھ بچے مرتے ہیں ،(ن) لیگ کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔انہوں نے کہا مجرموں کو حکومت کرنے کی اجازت دے رکھی جو پیسہ لوٹ کرباہر جارہے ہیں ، ہمارے اوپر مجرم بیٹھے ہوئے ہیں ، پاکستان ایسی جگہ ہے جہاں پیسہ بنایا اور باہر لے گئے ، پاکستانیوں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے ہر پاکستانی پر ایک لاکھ 15ہزار روپے قرض چڑھاگیا ہے ، پچھلے چندسالوں میں 5ہزار ارب روپے قرض لیا گیاہے ۔ اب 21ہزار ارب روپے قرض چڑھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپنے درباریوں کو پیچھے نہ چھوڑو خواجہ آصف کی چوتھی وکٹ گرنے والی ہے۔ نواز شریف اثاثے ڈکلیئر کریں اور بتائیں کیسے پیسے باہر بھیجا ۔ لندن میں سابق سسرال والوں کے گھر کے باہر اپنے لیڈر کی کرپشن چھپانے کیلئے احتجاج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مغرب آج ہم سے کیوں آگے ہے کیونکہ وہاں عام عوام اور اقتدار میں بیٹھنے والوں کے لئے اخلاقیات کے معیار الگ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ کن وقت ہے ۔ ہمیں ایشو کو سمجھنا ہوگا کیونکہ دوسری طرف سے ہماری آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے ۔ قوم مل کر کھڑی ہو گی اور وزیر اعظم سے احتساب کا مطالبہ کریں گے اور اس سے ہی ملک کی تقدیر بدلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ میں جا کر اپنے چھ سال کے اثاثے ظاہر کر دئیے ، پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے اسے بر ا بھلا کہا ۔ امریکہ کے ایک طاقتور صدر کو مخالفین کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے پر مستعفی ہونا پڑ ا ۔ جبکہ ہمارے یہاں سب کے ٹیلیفون ٹیپ ہو رہے ہیں ۔ بل کلنٹن کو میونیکا لیونکسی کیس میں بھگتنا پڑا کہ اس نے قوم سے جھوٹ بولا ہے حالانکہ بل کلنٹن کے دور میں وہاں زبردست ترقی ہو رہی تھی ۔ برطانیہ کی وزیر اعظم کے سب سے طاقتور وزیر کو ایک جھوٹ پکڑے جانے پر تین سال قید کی سزا ہوئی اور اس نے تین سال جیل میں گزارے ۔نائیجیریا تیل کے ذخیرے پر بیٹھا ہے لیکن وہاں بھی غربت ہے اور اسکی وجہ کرپشن کے پیسے کا آف شور کمپنیوں میں جانا اور محلات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے ایک بات ، بیٹی دوسری بات اور اہلیہ نئی بات کہہ رہی ہیں ۔ وزیر اعظم نواز شریف بوکھلاہٹ میں چوتھی بار مانسہرہ میں گیس کا افتتاح کرنے چلے گئے ۔ وہ جس رفتار سے چل رہے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ کہیں لاہور اسلام آباد موٹروے کا بھی دوبارہ افتتاح نہ کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام کے ٹیکس کے پیسے کا غلط استعمال ہوگا تو ہم پوچھیں گے اور آپ کو جمہوریت میں جواب دینا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ حسنی مبارک ، صدام حسین ، کرنل قذافی جوابدہ نہیں تھے لیکن میاں صاحب آپ جوابدہ ہیں آپ کو جمہوریت میں جواب دینا پڑے گا ۔ ڈرامے کئے جارہے ہیں کہ شوکت خانم کا نام آیا ہے ۔ میں وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ نہیں ہوں ۔ ۔سارے بر صغیر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ان پڑھ لوگ ہیں ،یہاں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں میں نہیں جاتے یعنی ان کا مستقبل ہی نہیں ہے او روہ اکیسیوں صدی میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے پلوں ، سڑکوں اور انڈر پاسز پر نہیں بلکہ تعلیم اور عوام کو صحت سمیت دیگر بنیادی سہولیات پر خرچ کیا ہے ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ چالیس ، پینتالیس سال پہلے پاکستان سب سے زیادہ ترقی کر رہا تھا لیکن اب مجرموں کو حکومت کرنے کیوجہ سے تنزلی کی طرف جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے ادارے کے مطابق پاکستان میں ایک روز کی کرپشن 12ارب روپے ہے ۔ تعلیم اور صحت کی بجائے 200ارب روپے اس لئے اورنج ٹرین پر لگائے جارہے ہیں کیونکہ اس سے بڑی کمیشن بنے گی اور پھر آف شور کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں پیسہ جائے گا ۔ مسلم لیگ (ن) اورنج لائن ٹرین دکھا کر الیکشن نہیں جیت سکتی کیونکہ میاں صاحب ’’ دلی ہنوز دور است ‘‘ 2018ء نہیں آئے گا۔ عمران خان نے کہا کہ خواجہ آصف بتائیں واپڈا کی 500ارب کی چوری کون پکڑے گا۔ آپ نے آئی پی پیز کو 480ارب روپے دیدئیے لیکن اس کا کوئی آڈٹ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنی گالہ اور زمان پارک آئیں گے میں انہیں دعوت دیتا ہوں آئیں لیکن مجھ سے کیا مطالبہ کریں گے میں تو اپنے اثاثے ظاہر کر چکا ہوں۔ وہ آئیں میں انہیں باہر سے کھانا بھی کھلاؤں گا۔

مزید : صفحہ اول