عمران خان کی دونوں ’’اے ٹی ایم مشینوں ‘‘ نے رقم باہر بجھوانے کا اعتراف کر لیا :پرویز رشید

عمران خان کی دونوں ’’اے ٹی ایم مشینوں ‘‘ نے رقم باہر بجھوانے کا اعتراف کر ...

لاہور(اے پی پی )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹرپرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران خان کی اے ٹی ایم مشینوں کو بینکوں کو پیسے واپس کرنے ہوں تو غریب ترین اور بیرون ملک پیسے بھیجنے ہوں تو امیر ترین، عمران خان کی دونوں اے ٹی ایم مشینوں نے رقم بھجوانے کا اعتراف کیا، عمران خان کو اپنی بغل میں کھڑا مجرم نظر نہیں آتا، ہمارا فرانزک آڈٹ بینظیر اور مشرف دور میں ہو چکا جن کا ڈی این اے ہونا ہے وہ فکر کریں، وزیراعظم کے بچے اپنی خوشی سے بیرون ملک نہیں گئے مشرف کے جبرنے انہیں پاکستان آنے سے روکا،پرانے جھوٹوں کو قبروں سے نکال کر زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،عمران خان شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر مارینگے تو ایسے جواب آئیں گے جو انہیں چکنا چور کر دیں گے،عمران خان اور اس کی اے ٹی ایم مشینیں ایسی ربڑ نہیں بنا سکتیں جو پاکستان سے محمد نواز شریف کے نام کو مٹا سکیں، عمران خان کی پس پردہ سیاست کو عوام سمجھتے ہیں کہ انہیں بحران کھڑا کرنا اس وقت ہی یاد آیا جب پاکستان نے کروٹ لی۔وہ اتوار کے روز ماڈل ٹاؤن میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ پرویز رشید نے کہا کہ وزیراعظم کے بچے اپنی مرضی سے ملک سے باہر نہیں گئے، محنت کشوں کے خاندان شریف فیملی کو جلا وطن کیا گیا ، نواز شریف کے بیٹوں کو پاسپورٹ تک ایشو نہیں کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف گند اچھالا جا رہا ہے جس وجہ سے یہ باتیں دہرانا پڑتی ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان کے بغل میں کھڑا مجرم ان کے کچن سے جہاز تک کا خرچہ پورا کرتا ہے، دونوں اے ٹی ایم مشینوں نے اعتراف کیا کہ ملک سے پیسے باہر بھیجے‘اور یہ پیسے اس وقت بھیجے گئے جب عمران خان اس اقدام کو انتہائی برا اور خلاف قانون قرار دے رہے تھے‘ عمران خان عوام کو بتائیں کہ اے ٹی ایم مشینیوں نے پیسہ کیوں باہر بھیجا۔ آپ کو ٹرمز آف ریفرنس اس لیے منظور نہیں کیونکہ ان میں قرضے معاف کرانے والوں کا ذکر ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شریف خاندان 1936 سے کاروبار میں ہے اور جو لوگ بار بار سیڈ منی کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں وہ بتائیں کہ وہ اس وقت کہاں تھے جب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں شریف خاندان کے اثاثوں پر قبضہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج جو ٹیکس دینے کی بات کر رہے ہیں ان سے سوال ہے کہ جب شریف خاندان کے اثاثے بھی قبضے میں لے لئے اس وقت یہ لوگ جو آج تنقید کر ر ہے ہیں کتنا ٹیکس دیتے تھے۔سیڈ منی کا شور ڈالنے والوں نے اس وقت یہ سوال کیوں نہیں اٹھایاجب شریف فیملی نے دوبئی میں کارخانہ اور پاکستان میں 6کارخانے لگائے۔انہوں نے کہا کہ جب عمران خان ریفرنڈم کے وقت پرویز مشرف کے لئے ووٹ مانگ رہے تھے ان میں اگر اخلاقی جرأت ہوتی تو مشرف سے پوچھتے کہ شریف خاندان کو آپ نے ملک سے باہر بھیج دیا ہے یہ لوگ وہاں کیسے رہ رہے ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے اور دوسر ے دور حکومت میں بھی احتساب ہوا اور پرویز مشرف نے بھی شریف خاندان کا احتساب کیا، جو لوگ آج فرانزک آڈٹ کی بات کر رہے ہیں انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ اس ملک میں ہمارا 4 مربتہ فرانزک آڈٹ ہو چکا ہے اب جن لوگوں کا ڈی این اے ہونا ہے انھیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ پرانے جھوٹ قبروں سے نکال کر زندہ کئے جا رہے ہیں، جب پرویز مشرف نے پورے شریف خاندان کو ملک بدر کر دیا تھا، اس وقت تو عمران خان پرویز مشرف کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے، اس وقت انہیں احتساب کا سوال پوچھنے کی ہمت کیوں نہ ہوئی۔پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان اس بات کا جواب دیں کہ اے ٹی ایم مشینوں کے بیرون ملک پیسے بھیجنے کا علم آپ کو تھا یا نہیں‘ اگر آپ کو ان باتوں کا علم نہیں تھا تو جو لوگ آپ سے باتیں چھپاتے ہیں وہ آپ کی بغل میں کیسے کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ان کا یہ اصول آپ کو درست لگتا ہے تو پھر آپ دوسروں پر کیسے تنقید کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین نے 2011 میں آف شور کمپنی بنائی اور 2014 میں بیرون ملک پیسے بھیجے، 2014 میں جہانگیر ترین نے 52 کروڑ روپے بیرون ملک بھیجے، کیا عمران خان ان سے یہ رقم بھی واپس لانے کا کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان شوگر ملز جسے سلمان شہباز چلا رہے ہیں 1985ء میں قائم کی گئی جو 8ہزار ٹن گنا روزانہ کرش کرتی تھی اور آج بھی 8ہزار ٹن گنا کرش کر رہی ہے جبکہ 1993 میں جہانگیر ترین نے شوگر مل لگائی جو 4ہزار ٹن گنا کرش کر رہی تھی اور اب 8ہزار ٹن گنا کرش رہی ہے اس کے علاوہ انہوں نے 2 پاور پلانٹس بھی لگائے ، مجرم خود مانتا ہے کہ وہ عمران خان کا سیاسی سہولت کار ہے اور کچن سے کھانے تک کے اخراجات برداشت کرتا ہے تو عمران خان بتائیں کہ اس بات کا جواب کون دے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان لندن کے جس علاقے میں ٹھہرتے ہیں وہ گولڈ سمتھ کی پراپرٹی ہے ۔ عمران خان صرف اتنا بتا دیں کہ آپ جہاں ٹھہرتے ہیں اور جہاں آپ کے بچے پل رہے ہیں اس علاقے کا نام کیا ہے۔میں عمران خان کی طرح گالی نہیں دیتا تا ہم اتنا کہوں گا کہ اس علاقے کانام لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اے ٹی ایم مشینوں کو ٹرمز آف ریفرنس اس لئے قبول نہیں کہ اس میں قرضہ معاف کروانے والوں کا بھی احتساب لکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کچھ عرصہ پہلے اتنے غریب ترین تھے کہ انہیں اپنا قرضہ معاف کروانا پڑا جو عوام ٹیکسوں اور بچتوں سے جمع ہوتا ہے اور پھر اتنے امیر ترین ہو گئے کہ انہوں نے 52کروڑ ملک سے باہر بھیج دیئے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاست کے پس پردہ سیاست کو عوام سمجھتے ہیں کہ انہیں بحران کھڑا کرنا اس وقت ہی یاد آیا جب پاکستان نے کروٹ لی اور اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر شروع کیا۔گوادر کو خنجراب سے جوڑنے کے لئے سڑکیں بنائی اور ترقی کا سفر شروع کیا۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے آئینی حدود میں رہ کر فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، بین الاقوامی سازش ہے کہ اداروں میں تصادم کرایا جائے جس سے ہمیں بچنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ وزراء اعظم اپنی ریاستوں کے مفاد میں ملتے رہتے ہیں، جس بلاول کو یہ نہیں پتہ کہ شیخ رشید ان کی والدہ کو کن الفاظ سے پکارتے تھے جو بیٹا شہید ماں کے آنسو بھول گیا اور جس شیخ رشید کے ہاتھوں پر ذوالفقار علی بھٹو کا خون ہے اسے اپنا فین ماننے والا جو بچہ اتنا محصوم ہو اس کی باتوں کا کیا جواب دیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف تو صرف احتجاج کرتے تھے انہوں نے کبھی پارلیمنٹ پر حملے کی بات نہیں کی اور نہ کبھی حکومت کے خاتمے کی بات کی۔

مزید : صفحہ اول