نواز دوست صحافی

نواز دوست صحافی
 نواز دوست صحافی

  


لیں جناب، وزیراعظم نواز شریف نے گورنر ہاؤس میں لاہور کے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی اور اس پر شہ سرخی لگا دی گئی، ’’نواز شریف کی نواز دوست میڈیا سے ملاقات‘‘، تفصیل میں کہا۔ ’’وزیراعظم سے ملاقات کے لئے من پسند صحافیوں کو مدعو کیا گیا، ایکسپریس میڈیا گروپ، اے آروائی اور سماء کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا، بلائے گئے پچیس صحافیوں میں سے گیارہ جنگ اور جیو گروپ سے تھے، شرکاء سے بھی کہا گیا کہ سخت سوالات نہ کئے جائیں، یہ دعویٰ ذرائع کے حوالے سے کیا گیا‘‘۔ اب اس امر کی وضاحت تو حکومت ہی کر سکتی ہے کہ اس نے صرف پچیس صحافیوں کو کیوں بلایا اور ان میں سے گیارہ صرف ایک میڈیا گرو پ کے کیوں تھے، ویسے مجھے وہاں موجود ہونے کے حوالے سے ان اعداد و شمار پرشک ہے اور بنیادی طور پر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم لوگ بطور صحافی ایک سیاسی لڑائی میں فریق بن چکے ہیں۔ جو لوگ مختلف ٹی وی چینلز کی خبریں اور پروگرام توجہ اور تفصیل کے ساتھ دیکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہر میڈیا گروپ ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کام کر رہا ہے۔ یہ ایک پرانی لڑائی ہے جو اب بھی لڑی جا رہی ہے اور شرکت کرنے والوں کا ماضی ، حال اور اعمال ہی بتا سکتے ہیں کہ نوا ز دوست ہیں یا نہیں مگر اتنا ضرورتسلیم کر لیجئے کہ وہ بہرحال جمہوریت دشمن نہیں ہیں۔

یہ دنیا بھر کے مہذب ، جمہوری اور ترقی یافتہ ملکوں کے خلاف صرف پاکستان میں ہوتا ہے کہ آئین، جمہوریت اور نظام کی حمایت اور حفاظت کرنے والوں کو وضاحتیں دینی پڑتی ہیں جبکہ سازشوں اور سازشیوں کے ساتھی اکڑ کے چلتے ہیں، نڈر اور حق پرست کہلواتے ہیں اور دوسروں کو منہ بھر کے گالیاں دیتے ہیں۔ اگر رائے عامہ کا درست ادراک رکھنے والا کوئی ادارہ یا صحافی آج سے تین، ساڑھے تین برس پہلے یہ کہتا تھا کہ مسلم لیگ نون واضح اکثریت سے عام انتخابات جیتتی نظر آر ہی ہے تو اسے سوشل میڈیا پر کہا جاتا تھا کہ وہ کرپٹ ہے اور لفافہ لے چکا ہے۔ دوسری طرف بتایا جاتا تھا کہ ایک پارٹی جسے اسٹیبلشمنٹ کے کچھ بڑوں کی واضح سرپرستی اور حمایت حاصل ہے وہ کامیاب ہو گی تو اس ٹامک ٹوئی مارنے والوں کو ایماندار اور سچا کہا جاتا تھا۔ مجھے حیرت ہے کہ جب عام انتخابات ہوئے اور صحافیوں کے اس گروپ کی رائے اور اندازے درست ثابت ہوئے جو مسلم لیگ نون کی کامیابی کو اپنے صحافتی تجربے کی روشنی میں دیکھ رہے تھے تو کسی نے انہیں سراہنا تو ایک طرف رہا اپنی دشنام طرازیوں پر معافی تک نہیں مانگی۔ اس موقعے پر اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لئے ایک نیا فسانہ گھڑ لیا گیا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود تھا کہ جب اسٹیبلشمنٹ کی جماعت کوئی اور تھی تو پھر مسلم لیگ نون کے حق میں دھاندلی کیسے ہو گئی مگر اسے بھی رہنے دیجئے۔ کارکن صحافیوں نے انتخابی عمل کو پوری طرح دیکھا اور قرار دیا کہ اس میں دھاندلی کرنے کی ’’صلاحیت ‘‘ تمام فریقوں میں یکساں تھی۔ انہوں نے جانا، سمجھا اور کہا کہ دھرنے انتخابی نظام کی اصلاح نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے لئے دئیے جا رہے ہیں مگر اس کے باوجود یہاں وہی صحافی حق پرست اور نڈر تھے جو من گھڑت کہانیاں بیان کر رہے تھے۔ جب پینتیس پنکچروں سمیت دیگر کہانیوں کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا وقت آیا تو حق پرستوں اور نڈر صحافیوں کے بیان کر دہ سب سے بڑے ملزم سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کٹہرے تک میں نہیں کھڑا کیا جا سکا، تب ان حق پرست ،نڈر مجاہدوں نے سپریم کورٹ کو نشانہ بنایا،عدالت اور ایک بکری کی تصویر بنا کے کہا، تمہیں علم ہے کہ یہ ایک بکری ہے، مجھے علم ہے کہ یہ ایک بکری ہے، پوری دنیا کہتی ہے کہ یہ ایک بکری ہے مگر عدالت نہیں مانتی کہ یہ ایک بکری ہے اور کہتی ہے اسے بکری ثابت کرو۔ یہ رہنمائی میں دانشورانہ خیانت کی بدترین مثال تھی۔ میں نے کہا تمہیں علم ہے کہ یہ ایک بکری ہے، مجھے علم ہے کہ یہ ایک بکری ہے، پوری دنیا کہتی ہے کہ یہ ایک بکری ہے مگر اس کے باوجود تم عدالت میں یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ یہ ایک بکری ہے تو پھر تمہارے موقف ، قابلیت اوردعوے بارے کیا کہوں۔ کرپشن کے خلاف بھونپو بننے والے نہایت چالاکی کے ساتھ اس مطالبے کو ماضی کے تجربات، اب ہونے والے واقعات اور مستقبل کے خطرات سے الگ کر کے بیان کرتے ہیں تو پروفیشنل ازم کے معیار پر واقعی افسوس ہوتا ہے۔ فرسٹریشن کے مارے دوستوں سے مسائل میں گھر سے عوام کے لئے فکری مغالطے پیدا کرنا کتنا آسان ہے کہ اگر کچھ صحافی کسی سیاسی جماعت کے الیکشن جیتنے کے بعد اس کی آئینی پارلیمانی مدت پوری کرنے کے حق کا دفاع کرتے ہیں تو انہیں غلط قرار دیا جاتا ہے اور صحیح اپنے تئیں وہ قرار پاتے ہیں جو ایک مرتبہ پھر اسی اور نوے کی دہائی کی سیاست کو یہاں رواج دینا چاہتے ہیں۔

مجھے کہنے دیجئے کہ کرپٹ یہاں کون نہیں ہے، کس کو یہاں سادھو ہونے پر اصرار ہے، جو شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کو حرام قرار دیتے تھے ان کی اپنی سامنے آگئی ہیں تو وہ حلال ٹھہری ہیں ، کیا یہ وقت نہیں کہ ایک ایسا نظام وضع کر لیا جائے جو ہر کسی کا احتساب کرے۔ آپ کو اختلاف کا حق ہے مگر میرے خیال میں اب اس ملک کے عوام کا اصل مسئلہ احتساب نہیں رہا بلکہ حکمرانوں کی پرفارمنس کا ہو گیا ہے۔احتساب تو ٹرک کی وہ بتی ہے جس تک ہم آج تک نہیں پہنچ سکے ، ہاں، احتساب کوئی ماورا قوت نہیں بلکہ جمہوریت از خود کرتی رہے گی۔ دھرنوں جیسی سیاسی تحریک کے باوجود تین برس گزر گئے اور جب باقی دو برس گزریں گے تو عوام ایک مرتبہ پھر اسی طرح احتساب کریں گے جس طرح پہلے ہوا تھا۔ پیپلزپارٹی کو جس طرح حق حکمرانی سے محروم کیا گیا، تحریک انصاف نے جس طرح دوسری بڑی اور اہم پارٹی کی جگہ لی، یہ موثر احتسابی عمل ایک مرتبہ پھر 2018ء میں ہو گا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اس وقت عوام کو بجلی ، پانی، صحت ، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی سہولتوں کی احتساب کے دھوکے باز نعرے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہ تو وہ نعرہ ہے جس نے ہمیشہ شفافیت کی بجائے آمریت کو جنم دیا ہے۔ یہ بات صرف پنجاب نہیں بلکہ خیبرپختونخواہ اور سندھ کے حوالے سے بھی اہم ہے۔

میرے ایک دوست کالم نگار ہیں ، وہ اکثر فیس بک پر اپنی تصویریں ایک سیاسی رہنما کے ساتھ شئیر کرتے ہیں اور اس پر لکھتے بھی ہیں کہ وہ فلاں ایشو پر مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ ان کے گھر، ان کے ساتھ بیڈ پر بیٹھے ہوئے تصویریں کھنچواتے اور جلسہ گاہوں میں ان کے ہمراہ پہنچتے ہیں مگر ان کی تصویروں پر ہمیشہ ان کی واہ واہ ہوتی ہے، ان کے سامنے سوال نہیں رکھا جاتا کہ وہ ایک کالم نگار اور تجزیہ نگار ہونے کے باوجود یک طرفہ سرگرمیوں میں کیوں ملوث ہیں مگر یہ المیہ مسلم لیگ نون والوں کے ساتھ ہے کہ جو بھی ان کی بات تک سن لیتا ہے وہ گالیوں کا حق دار ہوجاتا ہے۔ بہت سارے سینئر صحافی صرف اس وجہ سے مسلم لیگ نون کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ قومی ایشوز پر اصولی موقف کے اظہار کے بعد اپنی ماں تک کو گندی گالیاں دلوا چکے ہیں اور اب وہ اگر مسلم لیگ نون کی بجائے کسی دوسری جماعت کو سراہنا بھی چاہیں تو انہیں اپنی ماں کو دی گئی گالیاں یاد آجاتی ہیں۔ یہ حقیقی المیہ ہے کہ دانشور اور صحافی بھی غیرجانبدار نہیں رہے اور کچھ انہیں رہنے نہیں دیا گیا۔ مجھے روزنامہ ایکسپریس کے ساتھ ایک خصوصی لگاو اس لئے بھی ہے کہ میں نے لاہور میں اس کے آغاز کے موقعے پر بطور رپورٹر اور پھر بطور چیف رپورٹر خدمات سرانجام دی ہیں۔ دو ، اڑھائی برس تک اس کے پولیٹیکل ایڈیشن میں میری ڈائری سب سے نمایاں جگہ پر شائع ہوتی تھی، میری صحافتی نشوونما میں روزنامہ خبریں، روزنامہ دن، روزنامہ پاکستان، روزنامہ ایکسپریس جیسے معیاری اخبارات نے اہم کردارادا کیا ہے۔ اب میں ایک کارکن صحافی کے طور پر دیکھتا ہوں تو مجھے تمام میڈیا گروپ ہی کسی نہ کسی دھڑے میں نظر آتے ہیں جیسے شاہین صہبائی صاحب ایک مرتبہ پھر مستعفی ہونے کے بعد اپنے سابق گروپ بارے انکشافات کر رہے تھے، کل کوئی دوسرا مستعفی مدیرکسی دوسرے مخالف گروپ پر اسی قسم کی باتیں کر رہا ہو گا۔ میں سوچتا ہوں کہ جب ہم نے کسی دھڑے میں ہی رہنا ہے توکیا ہی اچھا ہو یہ دھڑا آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کا ہو۔

مزید : کالم