چھانگا مانگا ، ڈکیتی و چوری کی سمیت دیگر وارداتیں عام ، پولیس خاموش تماشائی

چھانگا مانگا ، ڈکیتی و چوری کی سمیت دیگر وارداتیں عام ، پولیس خاموش تماشائی

چھانگامانگا (نامہ نگار) چھانگامانگا کے نواحی گاؤں جمبر کلاں میں منشیات ، بھتہ خوری، جگا ٹیکس ، چوری، شراب نوشی روز کا معمول بن گیا ہے پولیس خاموش تماشائی، تفصیلات کے مطابق گاؤں میں منشیات کی فروخت سے نئی نسل کو تباہ کی جارہا ہے اور کوئی بھی روکنے والا نہیں پچھلے کئی روز سے چوری کی وارداتیں ہورہی ہیں جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے جمبر چھانگامانگا روڈ پر سفر کرنا محال ہے سڑک پر درخت گرا کرکئی راہگیروں کو لوٹا گیا جمبر موڑ رکشہ سٹینڈپر بھتہ خوری اور جگا ٹیکس کا سلسلہ زوروں پر ہے بااثر افراد کی طرف سے بھتہ خوری کے علاوہ دن دھاڑے شراب پی کر غل غپاڑہ کرنے اور آنے جانے والی سواریوں خاص کر خواتین کو بیہودہ مذاق اور بد تمیزی کی جاتی ہے روکنے والے افراد کو بے دردی سے زدوکوب کیا جاتا ہے گزشتہ روز بھی ایک شخص محمد امین کو ڈنڈوں سے پیٹا گیا جس سے ا س کا سر پھٹ گیا اور وہ شدید زخمی ہوگیا اس طرح کی درجنوں وارداتیں ہوچکی ہیں عوام الناس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے پولیس چوکی جمبر کا عملہ رشوت اور حصہ وصول کرکے خاموش ہوجاتا ہے پولیس کی مجرمانہ غفلت بلکہ جرائم میں شراکت کی وجہ سے علاقے میں انتہائی خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ نہ گھر محفوظ ہیں اور نہ ہی سفر کرنے والے لوگ ،رابطہ سڑکوں پر چور، ڈکیت ناکے لگا کر لوٹ مار کررہے ہیں علاقے کی سیاسی سماجی تنظیموں اور کاروباری شخصیات نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کے لیے مداخلت کریں تاکہ لو گ سکھ کی نیند سوسکیں اور بے خوف ہوکر سفر کرسکیں۔

مزید : علاقائی