صحافی کے ساتھ نوسربازی،غالب مارکیٹ پولیس ملزمان سے مل گئی

صحافی کے ساتھ نوسربازی،غالب مارکیٹ پولیس ملزمان سے مل گئی

لاہور(وقائع نگار) چوکی غالب مارکیٹ پولیس کی پھرتیاں ،صحافی کے ساتھ نوسربازی کر کے گاڑی کے اصل کاغذات چوری کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے معاملہ کو لٹکانا شروع کر دیا۔تفصیلات کے مطابق 22اپریل کی شام کو 4بجے کے قریب نمائندہ پاکستان کا ڈرائیور فراز علی گاڑی ہونڈا سوک نمبر LRR5789 میں غالب مارکیٹ کے علاقہ اکیڈمی روڈ پر سے گزر رہا تھا ،ڈرائیور کے مطابق گورنمنٹ ہائی سکول فتح آباد کے سامنے پولیس کی وردیوں میں ملبوس دو موٹرسائیکلوں پر سوار 4ڈاکوؤں نے اسے روک لیا اور خود کو ایکسائز کا ملازم ظاہر کر کے گاڑی کی تلاشی لینی شروع کرد ی۔ملزمان نے تلاشی لینے کے بعد گاڑی کی اصل رجسٹریشن بک،قیمتی کاغذات اور نقدی 10 ہزار 560 روپے و دیگر سامان چھین لیا اور یہ کہتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے کہ گاڑی کے ٹوکن نہیں لگے ہوئے گاڑی کی بک سمیت دیگر چیزیں ایکسائز کے دفتر لے جارہے ہیں۔بعدازاں اس حوالے سے چوکی غالب مارکیٹ میں درخواست دی گئی تو چوکی انچار ج نیازی نے ڈرائیور کو چوکی میں تفتیش کے لیے بلایا، جس نے دوران تفتیش چوری کا اعتراف کر لیا اور گاڑی کی اصل رجسٹریشن بک کو 29اپریل تک فراہم کرنے کا تحریر بیان لکھ کر دیا ۔27اپریل کو چوکی غالب مارکیٹ میں پیش ہو کر ملزم نے اصل رجسٹریشن بک کی فوٹو کاپی چوکی انچارج کو دے دی اور کہا کہ یہ اصل بک ہے ۔نمائندہ پاکستان کی جانب سے کاپی کو جعلی قرار دیئے جانے اور اس میں ایکسائز کی جانب سے 2003سے لیکر اب تک لگے ہوئے ٹوکن نہ ہونے کی نشاندہی پر چوکی انچارج نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے اس کو پھر سے اصل کاپی فراہم کرنے کا کہہ دیا اور چوکی غالب مارکیٹ سے فرار کروا دیا۔متاثرہ کے مطابق چوکی انچارج نے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کر لی ہے اور مقدمہ درج کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے ان کی مبینہ پشت پناہی شروع کر دی ہے ۔متاثرہ صحافی نے اپیل کی ہے کہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور معاملہ کی انکوائری کریں اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کی جائے۔

مزید : علاقائی