’’مالک ‘‘ متنازع نہیں ، فلم میں قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ،عام شر عظیم

’’مالک ‘‘ متنازع نہیں ، فلم میں قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ،عام شر عظیم

 کراچی (اسٹاف رپورٹر )پابندی کا شکار فلم مالک کے پروڈیوسر عاشر عظیم نے کہا ہے کہ فلم مالک متنازع نہیں ہے، نہ ہی فلم میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی، انہوں نے فلم کو بنانے کے لیے تمام قوانین پر عملدرآمد کیا۔ فلم کو تین سنسر بورڈ سے پاس کرایا گیا۔ تین ہفتے چلنے کے بعد پابندی سمجھ سے بالاتر ہے،فلم مالک پر پابندی کے خلاف وہ قانونی جنگ جاری رکھیں گے، احتساب سے ڈرنے والے بااثر افراد کی خواہش پر فلم پر پابندی لگائی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکوکراچی پریس کلب میں فلم کی کاسٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔عاشر عظیم نے دعوی کیا کہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے افراد کی خواہش پر فلم پر پابندی لگائی گئی ہے۔ فلم میں فحش ڈانس شامل ہو تو اس کو اجازت کا پروانہ مل جاتا ہے مگر ملک کے حالات کے بارے کچھ فلمایا جائے تو اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا فلم مالک میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری پاکستان کا مالک ہے۔ اس ملک کے حکمران پاکستان کے مالک کو جوابدہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ فلم پسند نہ آنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر پابندی عائد کی جائے۔ ہمارا آئین اظہار رائے کا حق دیتا ہے، فلم مالک میں قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا حکمرانوں کو آئینہ دکھایا تو وہ برا مان گئے اور پابندی لگا دی۔فلم مالک میں گورنر ہاؤس سندھ شوٹ کیا یہ نئی بات نہیں تھی۔ ڈرامہ دھواں میں گورنر بلوچستان کا گھر شوٹ کیا تھا۔ انہوں نے کہا ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ فلم مالک پر عائد پابندی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ فلم کے پرائیوٹ شوز کی آفرز آنے کے باجود وہ یہ خلاف ضابطہ کام نہیں کریں گے بلکہ فلم کو قانونی طریقے سے بحال کروائیں گے۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کی جانب سے فلم مالک پر پابندی کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج بھی کیا گیا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر