قبائلی اساتذہ کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں ، خیبر کشران کمیٹی

قبائلی اساتذہ کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں ، خیبر کشران کمیٹی

 خیبرایجنسی(نمائندہ پاکستان) قبائلی اساتذہ کے جائز مطالبات فی الفور مان لئے جائیں، طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے ، مرکزی حکومت اور پولیٹیکل انتظامیہ ٹس سے مس بھی نہیں ہو رہی ، مذید لیت و لعل سے کام لیا گیا تو شاہراہیں بند کر کے احتجاجی تحریک شروع کرینگے ، قبائلی اساتذہ اور سکولوں کو ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے، خیبر کشران کمیٹی کے سربراہ شاکر آفریدی اور ساتھیوں کا میڈیا سے گفتگو۔لنڈی کوتل پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر کشران کمیٹی کے سربراہ شاکر آفریدی ، حسین آفریدی اور زینت خان آفریدی نے کہا کہ گزشتہ بارہ سالوں میں قبائلی علاقوں کے اندر تعلیمی ادارے برباد ہوئے اور قبائلی بچوں کو دیدہ دانستہ تعلیم کے حصول سے محروم رکھا گیا جبکہ اب مرکزی حکومت، وزارت سیفران ، فاٹا سیکریٹریٹ اور پولیٹیکل انتظامیہ نے قبائلی اساتذہ کو اپ گریڈیشن اور بقایاجات کے جائز بنیادی حقوق سے شعوری طور پر محروم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ بارہ دنوں سے قبائلی اساتذہ اسلام آباد میں دھرنا دےئے بیٹھے ہیں اور فاٹا کے تمام تر تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں شاکر آفریدی نے دھمکی دی کہ اگر دو دنوں میں فاٹا کے اساتذہ کے جائز اور اصولی مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو لنڈی کوتل میں پشاور طورخم شاہراہ بند کر کے تمام اقوام اور سکولوں کے بچوں کو سڑکوں پر بیٹھا دینگے اور اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت اساتذہ کے مطالبات مان کر تعلیمی اداروں کو نہیں کھول دیتی انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور صوبے کے اساتذہ اسلام آباد میں احتجاج کرتے تو اسی وقت ان کے مطالبات مان لئے جاتے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ حکمران قبائلی عوام اور معماران قوم اور نونہالان قوم کی فریاد ہی نہیں سنتی جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے شاکر آفریدی نے کہا کہ اب قبائلی عوام بیدار ہوچکے ہیں اسلئے قبائلی اساتذہ کو تنہا نہیں چھوڑینگے انہوں نے کہا کہ جب حکومت قبائلی بچوں کو تعلیم کی سہولت سے محروم رکھتی ہے تو پھر کسی کو آرام سے نہیں بیٹھنے دینگے انہوں نے لنڈی کوتل اور دیگر قبائلی عوام سے اپل کی کہ وہ اساتذہ سے یکجہتی کے لئے پیر کے دن اپنے اپنے علاقوں میں شاہراہیں بند کر کے دھرنے دیں اور قبائلی اساتذہ کی فریا عالمی برادری تک پہنچائیں ۔

مزید : کراچی صفحہ آخر