’نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کی کوشش، مزاحمت پر لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا‘

’نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کی کوشش، مزاحمت پر لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا‘
’نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کی کوشش، مزاحمت پر لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا‘

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی درندگی کو تو شاید کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اس ملک میں اگر کوئی خاتون اپنی عزت بچانے کے لئے مزاحمت کرے اسے ضرور جرم تصور کیا جاتا ہے اور ایسی ’مجرم‘ خاتون کو گرفتار کرنے میں پولیس ذرا بھی تاخیر نہیں کرتی۔ اس شرمناک حقیقت کی تازہ ترین مثال ریاست منی پور میں پیش آنے والا واقعہ ہے، جہاں ایک 25 سالہ خاتون کو اس لئے گرفتار کرلیا گیا کہ اس نے اپنی عزت پر حملہ کرنے والے غنڈے کو پتھر مارا تھا۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ خاتون اور اس کی سہیلی قریبی گھر میں سالگرہ کی تقریب سے فارغ ہونے کے بعد سڑک کنارے رکشے کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ تین غنڈوں نے ان پر آوازے کسنا شروع کردئیے۔ جب خواتین نے انہیں منع کیا تو غنڈے اپنی بے حیائی میں بہت آگے بڑھ گئے اور سر عام ان کے ساتھ دست درازی شروع کر دی۔ ایک خاتون نے ایک غنڈے سے بچنے کے لئے اسے پتھر دے مارا جس کے نتیجے میں اس کا سر پھٹ گیا۔ اس دوران خواتین کے قریبی عزیز بھی وہاں آن پہنچے اور انہوں نے غنڈوں سے ان کی عزت بچائی۔

فحش فلمیں دیکھیں اور 14 لاکھ روپے ماہانہ کمائیں،نوکری کو وہ اشتہار جو کسی کے منہ میں بھی پانی لے آئے گا

جب متاثرہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت لے کر تھانے پہنچیں تو ان پر حملہ کرنے والے غنڈے بھی تھانے پہنچ گئے۔ زیادتی سے بچنے کے لئے ایک غنڈے کو پتھر مارنے پر خواتین کو مجرم قرار دے دیا گیا اور پولیس نے اوباشوں کے کہنے پر متاثرہ خواتین کے خلاف مقدمہ درج کیا اور انہیں گرفتار کرلیا۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بھارتی پولیس کا یہ ’کارنامہ‘ شرمناک ہے تو ان کی منطق سن کر آپ سوچ میں پڑ جائیں گے کہ اس کے لئے کیا الفاظ استعمال کئے جائیں۔ پولیس کے سینئر انسپکٹر مہادیو واولے کا کہنا تھا، ”عین ممکن ہے کہ جن نوجوانوں کو اوباش کہا جارہا ہے وہ محض جاہل ہوں، اور انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ وہ خواتین کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے وہ کوئی جرم ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس