ہائی کورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے کے پاک چین معاہدے کی تفصیلات پوشیدہ رکھنے کی حکومتی استدعا مسترد کردی

ہائی کورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے کے پاک چین معاہدے کی تفصیلات پوشیدہ رکھنے کی ...
ہائی کورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے کے پاک چین معاہدے کی تفصیلات پوشیدہ رکھنے کی حکومتی استدعا مسترد کردی

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے کے لئے پاک چین معاہدے کی تفصیلات منظرعام پرنہ لانے کے لئے وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کر تے ہوئے معاہدے کی تفصیلات 3مئی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیاہے۔جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی، وفاقی حکومت نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کا معاہدہ عدالت میں پیش کرنے سے معذرت کر لی، سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ معاہدہ کھلی عدالت میں پیش نہیں کرسکتے، پاک چین معاہدہ خفیہ دستاویزات ہیں، معاہدہ پر عمل درآمد کے لئے ایل ڈی اے کو2ارب روپے دئیے گئے،درخواست گزارسول سوسائٹی کے وکیل نے کہا کہ حکومتی منصوبے کے لئے ایل ڈی اے کو رقم دینا درست نہیں، اورنج لائن معاہدہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا،ہسپتالوں اور تعلیم کے فنڈز اورنج لائن ٹرین پر لگائے جارہے ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض کیا کہ وزیراعلی کو دوسرے محکموں کے فنڈز استعمال کرنے کا اختیار نہیں، 78ارب روپے حکومت نے تسلیم کیا کہ اورنج لائن ٹرین میں بچائے ہیں، دستاویزات کے مطابق پروجیکٹ 40ارب روپے زیادہ لگ رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے راستے میں آنے والے سکولوں کو گرا دیا گیا جبکہ تاریخی مقامات بھی منصوبے سے متاثر ہوئے۔اعلی عدلیہ اسمبلی کی منظوری کے بغیر سابق وزارئے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے منصوبوں کو کالعدم قرار دے چکی ہیں۔وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر پاک چین اورنج ٹرین منصوبے کی دستاویزات کا چیمبر میں جائزہ لے لیا جائے، عدالت نے وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پاک چین اونج ٹرین منصوبے کے ہونے والے معاہدے کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 3مئی تک ملتوی کر دی۔

مزید : لاہور