وہ دریا جس میں پانی کی بجائے اچانک جوس بہنے لگا، یہ کیسے ممکن ہے؟ جواب ایسا کہ آپ تصوربھی نہیں کرسکتے

وہ دریا جس میں پانی کی بجائے اچانک جوس بہنے لگا، یہ کیسے ممکن ہے؟ جواب ایسا کہ ...
وہ دریا جس میں پانی کی بجائے اچانک جوس بہنے لگا، یہ کیسے ممکن ہے؟ جواب ایسا کہ آپ تصوربھی نہیں کرسکتے

  

ماسکو (نیوز ڈیسک) دودھ اور شہد کی ندیوں کی بات تو عموماً محاورتاًکی جاتی ہے لیکن روس کے شہر لیبڈیان میں یہ محاورہ اس وقت حقیقت کی شکل اختیار کر گیا جب شہر کی ایک بڑی شاہراہ جوس کے دریا کی شکل اختیار کر گئی، جبکہ اردگرد کی سڑکیں بھی جوس بھری ندیاں بن گئیں۔

روسی شہر میں پھلوں کے جوس کا سیلاب اس وقت آیا جب پیپسی کمپنی کا مرکزی جوس سٹوریج منہدم ہوگیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق کمپنی کا جوس سٹوریج منہدم ہونے سے لاکھوں گیلن فروٹ جوس سڑکوں پر بہہ نکلا۔ کمپنی کے سٹوریج کے اردگرد واقع علاقے میں سڑکوں پر فروٹ جوس اس طرح بہہ رہا تھا گویا پہاڑوں سے تیز رو ندیاں اتررہی ہوں۔

چین میں دنیا کا سب سے شرمناک ترین میلہ سج گیا، اس میں کیا ہے؟ جان کر ہی انسان کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجائے

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں د یکھا جاسکتا ہے کہ گاڑیاں فروٹ جوس میں سے بمشکل گزررہی ہیں جبکہ سڑکوں پر تاحد نگاہ جوس پھیلا نظر آرہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سڑکوں پر جوس کے تیز بہاﺅ سے چند افراد زخمی بھی ہوئے۔

پیپسی کمپنی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ واقعہ سٹوریج ٹینک پھٹنے سے پیش آیا، اور لوگوں کو خبردار کیاگیا کہ وہ اس جوس کو پینے کیلئے استعمال نہ کریں کیونکہ یہ ان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، تاہم کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ماحول کیلئے نقصان دہ نہیں ہے۔ بدقسمتی سے یہ لاکھوں گیلن جوس کسی کے بھی کام نہ آیا اور سڑکوں پر بہتا ہوا دریائے ڈان میں جاگرا۔ پیپسی کمپنی نے شہر کی صفائی کا وعدہ کیا ہے اور اس کے لئے مشینری اور عملے کو تیار کیا جا رہا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس