خود ہی مدعی،خود ہی گواہ،خود ہی منصف،خود ہی جلاد!

خود ہی مدعی،خود ہی گواہ،خود ہی منصف،خود ہی جلاد!
خود ہی مدعی،خود ہی گواہ،خود ہی منصف،خود ہی جلاد!

  

کتا ب المناقب اور تاریخ بغداد دونوں میں یہ مذکور ہے کہ دورِ منصور عباسی میں قاضی ابن ابی لیلیٰ کی عدالت میں ایک پاگل عورت کا مقدمہ لایا گیا، جس نے ایک شخص کو ’’اے ابن الزینین‘‘ یعنی بدچلن ماں باپ کا بیٹا کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ قاضی ابن ابی لیلیٰ نے اس پگلی کو مسجد میں کھڑا کرکے اس پر دو حدیں جاری کردیں۔ ایک حداس کی ماں پر تہمت زنا کی وجہ سے اور دوسری حد اس کے باپ پر تہمت کے سبب جاری کی گئی ۔ امام ابو حنیفہؒ کو جب اس فیصلے کی خبر ہوئی تو انہوں نے فرمایاکہ اس مقدمے کے فیصلے میں قاضی ابن ابی لیلیٰ نے ایک نہیں پوری چھ غلطیاں کی ہیں :

(1) مسجد میں حد لگوائی،حالانکہ مسجد سزا دینے کی جگہ نہیں ہے ۔

(2) اس پگلی کو کھڑا کرکے حد لگائی گئی،حالانکہ عورتوں کو بٹھا کر حد لگائی جاتی ہے ۔

(3) ماں اور باپ دونوں کی وجہ سے دو حدیں لگائیں، حالانکہ قانون یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پوری جماعت پر تہمت لگائے تو ایک ہی حد کافی ہوتی ہے ۔

(4) دو حدیں بیک وقت لگائیں، حالانکہ دوسری حد اس وقت لگائی جاتی ہے۔ جب پہلی حد کی تکلیف ختم ہو جائے ۔

(5) اس بات کی تحقیق ہونی چاہئے تھی کہ واقعی وہ عورت پاگل ہے یا نہیں؟ کیونکہ پاگل پر حد جاری نہیں ہوتی ۔

(6) مدعی کے ماں باپ موجود نہیں تھے،نہ ہی عدالت میں حاضر ہوکر انہوں نے دعویٰ کیا، تو پھر حد کیسی؟

اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ زمانہ اور ریاست کوئی بھی ہو، ایک باقاعدہ عدالتی نظام لازمی کام کر رہا ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوا کہ مدعی شخص نے پاگل عورت کو لوگ اکٹھے کرکے سڑک پر ہی تشدد کرکے قتل کردیا، اس نے باقاعدہ مقدمہ کیا اور قاضی نے فیصلہ دیا۔ یہ الگ بات کہ فیصلوں پر نظر رکھنے والے بااثر لوگ بھی ہوتے تھے، جیسا کہ مذکورہ فیصلے پر جناب امام ابو حنیفہؒ نے غلطیوں کی نشاندہی کی، لیکن اس کا مثبت اثر پڑتا تھا اورآئندہ قاضی فیصلہ کرنے میں مزید احتیاط سے کام لیتے تھے۔۔۔تاریخ پر نظر دوڑاتے ہوئے ایک اور مقدمے کی بات کرتے ہیں ۔حضرت عمر فاروقؓکے دور خلافت کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ان کی جانب سے صوبہ بصرہ پر مقرر کردہ حاکم کے متعلق لوگوں کو یہ شکایت پیدا ہوئی کہ ان کی ایک بدنام عورت ’’اُم جمیل‘‘ کے ہاں آمد و رفت ہے۔ایک دن ابوبکرہ نامی ایک صاحب کے گھر کے بالاخانے میں چند افراد کسی موضوع پر بات چیت کررہے تھے کہ اچانک ہوا چلی اور اس سے کھڑکی کا دروازہ کھل گیا۔ بصرہ کے حاکم کا گھر ابوبکرہ کے گھر کے سامنے تھا۔ابوبکرہ کھڑکی بند کرنے گئے تو دیکھا کہ ہوا کے زور سے سامنے والے گھر کی کھڑکی بھی کھل گئی تھی ،وہاں انہوں نے دیکھا کہ حاکم بصرہ کسی عورت پر دراز ہیں۔

ابوبکرہ نے آواز دے کراپنے ساتھیوں کو بلایا اور سامنے دیکھنے کو کہا۔ ساتھیوں نے پوچھا کہ یہ عورت کون ہے تو ابوبکرہ نے بتایا کہ اس کا نام اُم جمیل بنت افقم ہے۔ ساتھیوں نے مزید کہا کہ ہم نے نچلا حصہ دیکھا ہے،چہرے کو ہم نہیں پہچان سکیں گے، لیکن جب وہ عورت کھڑی ہوئی تو سب کا شک یقین میں بدل گیا کہ واقعی یہ عورت اُم جمیل ہے۔ ابوبکرہ نے یہ سب حضرت عمر فاروقؓ کو لکھ بھیجا۔ آپ نے حاکم بصرہ کو معزول کرکے انہیں اور ابوبکرہ کو ساتھیوں سمیت مدینہ طلب کرلیا۔عدالت قائم ہوئی تومعزول حاکم بصرہ نے اپنے دفاع میں کہا کہ انہوں نے یہ فعل اپنی بیوی کے ساتھ کیا ،چونکہ اس کی شکل اُم جمیل سے ملتی ہے اِس لئے ان کو غلط فہمی ہوگئی، لیکن تین گواہوں نے جن میں سے دو کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے، معزول حاکم بصرہ کے خلاف واضح گواہی دی،لیکن چوتھے گواہ نے متذبذب گواہی دی کہ مَیں نے فعل کرتے ہوئے تو دیکھا،لیکن عورت کی پہچان کے بارے میں مجھے شبہ ہے۔ چونکہ شرعی حکم کے مطابق چوتھا گواہ واضح گواہی نہ دے سکا،اس لئے پہلے تین گواہوں کو غلط الزام (تہمت) لگانے کے جرم میں کوڑے مارنے کی حد جاری کی گئی۔ اس موقع پر حضرت عمر فاروقؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔۔۔ ’’اگر پورے گواہ نہ لاسکیں تو وہ اﷲ کے نزدیک جھوٹے ہیں‘‘۔۔۔ معزول حاکم بصرہ نے حضرت عمر فاروقؓ سے کہا: ’’مجھے ان غلاموں سے نجات دلائیے‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’تم خاموش ہو جاؤ ۔ اﷲ نے تم کو بچایا۔اﷲ کی قسم! اگر گواہی مکمل ہوجاتی تو میں تمہیں ضرور سنگسار کرتا‘‘۔۔۔ (واقعہ کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اختصار سے کام لیا گیا ہے اور حاکم بصرہ اور دیگر صحابہ کے نام نہیں لکھے گئے۔ تفصیل کے خواہش مند دیکھ سکتے ہیں ۔ تاریخ طبری حصہ سوم ۔ صفحات 87 تا 91 ۔

اس واقعہ کو بیان کرنے کا بھی مقصد یہی ہے، دور خلافت میں بھی ایک شفاف عدالتی نظام موجود تھا۔ یہ نہیں ہوا کہ ابوبکرہ نے اسلام کے نام پر بصرہ کے عوام کو اکٹھا کرکے حاکم بصرہ کو خود ہی سزا دے ڈالی ہو، پھر یہ بھی کہ الزام لگانے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو ثابت بھی کریں، وگرنہ وہ جھوٹے سمجھے جائیں گے۔ اب آپ یہ دیکھیں کہ وطن عزیز میں تسلسل کے ساتھ ایسے واقعات ہو رہے ہیں، جہاں لوگ بیک وقت خود ہی مدعی، خود ہی گواہ ، خود ہی منصف اور خود ہی جلاد بن جاتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں مردان میں مشال کے کیس میں ہوا ہے۔ افسوس یہی ہے کہ ایسا اسلام کے نام پر ہوتا ہے اور مزید افسوس یہ ہے کہ ہر شخص اس کو اسلام کہتا ہے جو اس کے تصور میں درست ہے۔ کچھ عرصہ قبل لوگوں کے ہجوم نے ایک شخص کو تشدد کرکے شدید زخمی کردیا۔ معلوم یہ ہوا کہ اس کے گاؤں کا ایک شخص پھلوں کے ٹوکرے لئے اور رنگین جھنڈا اٹھائے کچھ لوگوں کے ساتھ کہیں جانے لگا تو اس شخص نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو؟تو پتہ چلا کہ جھنڈا اٹھائے شخص کے پیر صاحب کی بیگم جو مائی صاحبہ کہلاتی ہیں۔ ان کی پالتو اور پیاری بھینس مر گئی تھی،جس کو مائی صاحبہ کے حکم پر باقاعدہ کفن پہنا کر اور دفن کر کے اس کی قبر کو مزار کی شکل دی گئی ہے۔

آج مائی صاحبہ کی اس بھینس کا عرس ہے اور وہ ہجوم وہیں حاضری دینے جا رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ اس بات کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ہجوم آگ بگولہ ہو گیا اور یہ کہتے ہوئے کہ اس نے مذہب کی تو ہین کی ہے،مار مار کر شدید زخمی کردیا۔ دور کیوں جائیے ،حال ہی میں سرگودھا میں عبدالوحید نامی پیر نے جوبیس لوگوں کو قتل کیا ہے، وہ بھی اس کو مذہب ہی سے جوڑتا ہے۔ روحانیت کے نام پر برہنہ مرد اور عورتیں بھنگ پی کر دھمالیں ڈالتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کون سی اسلام کی خدمت ہے۔ ایسے لوگ اگر سعودی عرب میں ہوتے تو توہین مذہب کے مجرم ٹھہرتے اور ان کے سر قلم کر دیئے جاتے، مگر یہ پاکستان ہے،جہاں ایسا بہت کچھ ابھی بھی چل رہا ہے۔ علمائے دین اور اہلِ قلم کا فرض ہے کہ وہ ایسی خرافات کا قلع قمع کرنے کے لئے آواز اٹھائیں اور لوگوں میں یہ شعور پیدا کریں کہ ان باتوں کا اسلام اور دین سے کوئی تعلق نہیں، یہ بھی جہاد ہے۔ ابھی یہ کالم لکھا جا رہا ہے تو ٹی وی پر جناب امام کعبہ کے حوالے سے کچھ نشر ہو رہا ہے۔ جاتے جاتے آپ بھی اس محترم شخصیت کی بات سن لیں۔ امام کعبہ جناب شیخ صالح بن محمد ابراہیم ایک نجی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے فرمارہے ہیں کہ کسی پر توہین مذہب کا غلط الزام لگانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ ان کا فرمانا ہے کہ غلط الزام لگانے والوں میں دو طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں،ایک وہ جو علم نہیں رکھتے اور دوسرے وہ جو ذاتی مفاد کے لئے اسلام کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ نے مزید فرمایا کہ اسلام امن اور برداشت کا مذہب ہے اور علمائے کرام کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کریں۔

مزید : کالم