آ خری جناز ہ

آ خری جناز ہ
 آ خری جناز ہ

  

سنا کرتے ہیں کہ تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے میں روشنی کے مینارسمجھے جاتے ہیں کہ وہاں سے پھوٹنے والی علم کی کرنیں جہالت کے اندھیروں کو چیرتے ہوئے انسانی ذہن کو وہ شعور عطا کرتی ہیں کہ مٹی اور خطا کا یہ پُتلا اپنی تمام تر صلاحیتیں اپنے سماج کی فلاح و بہبود کے لیئے وقف کر دیتا ہے لیکن کم از کم وطن عزیز کی حد تک تو وہ دور بیت چکا اب تو ہمارے تعلیمی اداروں یہاں تک کہ ہماری جامعات میں بھی فکر نو کی صدا ایک درد ناک موت قرار پائی ہے کہاں گیا وہ دور جب ہماری جامعات روشن خیالی اور علم دوستی کا مظہر ہوتی تھیں جہاں شعر و نغمہ کی مٹھاس کانوں میں رس گھولتی تھی ادبی و علمی تقریبات طلبہ کے ذہنوں کو جلا بخشتی تھیں لیکن افسوس سماج کے دوسرے حصوں کی طرح ہماری جامعات بھی تنگ نظری کے زہر کا شکار ہوتی چلی گئیں ہم یہ تو دعوی کرتے ہیں کہ فلاں فلاں جامعہ میں اتنے پی ایچ ڈی اساتذہ ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی اس بات پر بھی غور کیا کہ ان اساتذہ کی ذہنی نشوونما کا معیار کیا ہے کیا وہ اساتذہ اپنے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ تربیت بھی فراہم کرتے ہیں جو ایک روشن خیال اور ترقی یافتہ سماج کیلئے ضروری ہے ۔عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشال خان کے ہولناک قتل کے حوالے سے جو حقائق اب تک سامنے آئے ہیں۔

ان کے مطابق جامعہ کے کچھ ملازمین اور اساتذہ اس سفاک قتل کے اصل ذمہ دار ہیں جنہوں نے طلبہ کو مشال خان کے قتل پر اُکسایا مرکزی ملزم وجاہت خان کا عدالت کے روبرو دیا گیا بیان منظر عام پر آ چکا ہے جسکی تفصیلات میں جا کر ہم اپنے معاشرے اور اپنی جامعات میں موجود ذہنی افلاس کا مظاہرہ دیکھ سکتے ہیں وہ اساتذہ اور یونیورسٹی کے ملازمین جو طلبہ کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں وہی مشال خان کے قتل کی راہ ہموار کرنے کیلے طلبہ کو اس کے خلاف جھوٹا بیان جاری کرنے پر مجبور کرتے رہے اور آخر کار یونیورسٹی انتظامیہ مشال خان جیسے بڑے پتھر کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی جو یونیورسٹی میں ہونے والی نا اہلیوں اور خرابیوں کو منظر عام پر لاتا رہتا تھا اسکا اپنا کوئی ذاتی ایجنڈا ہرگز نہ تھا حریت فکر کا وہ علمبردار تو صرف اپنی مادر علمی میں موجود کالی بھیڑوں اور ان کی مکروہ حرکتوں کو قانونی طریقے سے ختم کرنا چاہتا تھا لیکن چی گویرا جیسے حریت پسند کا یہ پرستار نہیں جانتا تھا کہ اس کے دیس کے حالات ابھی بھی صدیوں پہلے کے اسپارٹا اور ایتھینز جیسے ہیں جہاں سقراط نامی اس کے کسی بھائی کو زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا وہ الگ بات کہ سقراط کا نام آج بھی زندہ ہے اور شائد ہمیشہ رہے گا لیکن اسکے قاتلوں کا نام آج کسی کو بھی معلوم نہیں ۔وطن عزیز میں گزشتہ ستائیس برسوں کے دوران توہین مذہب و رسالت کے نام پر اب تک چھیاسٹھ افراد کو قتل کیا جا چکا ہے تحقیقات سے یہ بات ثابت بھی ہو چکی کہ اُن چھیاسٹھ لوگوں میں ایک آدھ کے سوا سب پر جھوٹا الزام لگایا گیا اُن مقتولین میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی شامل ہیں برسوں پہلے گوجرانوالہ میں ایک باعمل مسلمان اور حافظ کو قرآن جلانے کے جھوٹے الزام پر ہجوم نے نہائت بے دردی سے قتل کر دیا تھا اس قسم کے کئی واقعات میں توانسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔

ہم یہ بات سمجھنے کو کیوں تیار نہیں کہ انسانوں کے خالق نے کسی بھی انسان کو آگ سے جلانے کا اختیار صرف اپنے پاس رکھا ہے دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور ریاستی قوانین میں کہیں بھی کسی انسان کو یہاں تک کہ ریاست کو بھی یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ کسی انسان کو زندہ جلائے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہم نے اللہ کا یہ اختیار بھی برسوں سے اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے خدا جانے ہمارا یہ جنوں کیا رنگ لائے گا ہم سمجھتے تھے انتہا پسندی محض مدارس میں ہی پائی جاتی لیکن جس تیزی کے ساتھ ہماری جامعات بھی خوفناک انتہا پسندی کا شکار ہو رہی ہیں اس کو سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے علم کی کرنیں تو اس قدر طاقت ور ہوتی ہیں کہ ہر طرح کی حیوانیت اور انتہا پسندی کے اندھیروں کو ختم کر دیتی ہیں۔لیکن ہمارے سماج کو ناجانے کس کی نظر کھا گئی کہ ہمارے اہل علم اور اساتذہ کی اکثریت ڈگریاں رکھنے کے باوجود جہالت کے سمندر میں غوطہ زن ہے آئیے اس بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف ہر محاز پر آوازاُٹھائیں سماج دشمنوں کو بتا دیں کہ مذہبی جنوں کے نام پر ہونے والا یہ آخری قتل تھایہ آخری جنازہ تھا جو ہم نے اُٹھا لیا اب ہم چپ نہیں رہیں گے خلیل جبران کے وہ تاریخی الفاظ یاد آرہے ہیں کہ ،قابل رحم ہے وہ قوم جو جنازوں کے جلوس کے سوا اپنی آوازکہیں اور بلند نہیں کرتی۔

مزید : کالم