لڑکیوں کو کس جرم میں تھانے لے جایا گیا ؟

لڑکیوں کو کس جرم میں تھانے لے جایا گیا ؟
 لڑکیوں کو کس جرم میں تھانے لے جایا گیا ؟

  

ضلع گھوٹکی کے ایک علاقہ میں امتحان میں شریک دو طالبات کو نقل کرنے کے الزام میں زیر تربیت اے ایس پی آصف بہادر تھانہ لے گئے۔ ان کے اس اقدام کے خلاف اساتذہ نے دوسرے روز کے امتحانی پرچے کا احتجاج میں بائی کاٹ کیا۔ اور مطالبہ کیا کہ جب تک زیر تربیت پولس افسر کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ضلع کے وکلاء نے بھی عدالتوں کا علامتی بائی کاٹ کیا۔امتحانات کا بائی کاٹ کرنے والے اساتذہ کے ساتھ ڈپٹی کمشنر نے مذاکرات کئے جو بہر حال کامیاب ہو ئے ۔ ضلع گھوٹکی کے سرحد نامی علاقے کے ایک امتحانی مرکز میں زیر تربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آصف بہادر اپنی مسلح سپاہ کے ساتھ داخل ہوئے، انہوں نے امتحانی کمروں کاجائزہ لیا جہاں طالبات امتحانات دے رہی تھیں۔ امتحانی مرکز پر موجود پروفیسر حنان کلوڑ کا کہنا ہے کہ ایک امتحانی کمرے میں داخل ہو کر انہوں نے خاتون نگران سے کہا کہ بچیوں کی تلاشی لی جائے۔ خاتون نگران کی تلاشی سے مطمئن نہ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ تلاشی لیں۔ امتحان میں شریک دو لڑکیوں کے پرس میں سے کچھ مواد ملا تو انہوں نے ان لڑکیوں کو ان کے ساتھ تھانے چلنے کو کہا۔ اے ایس پی دونوں لڑکیوں کو پولس موبائل میں بٹھا کر سرحد سے پندرہ کلو میٹر دور ضلع ہیڈ کوارٹر میر پور لے گئے ۔

یہ ا پنی نوعیت کا اس لحاظ سے پہلا واقعہ قرار دیا جارہا ہے کہ اس سے قبل کہیں بھی پولس نے اس قسم کی کارروائی نہیں کی۔ لڑکیوں کو پولس موبائل میں لے جانے کی خبر علاقے میں آگ کی طرح پھیل گئی۔

بچیوں کو تھانہ لے جانے کی اطلاع جب سوشل میڈیا پر احتجاج کی صورت میں پھیلی تو سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ نے اے ایس پی کو معطل کرنے کے احکامات جاری کئے، بعد میں ان کا تبادلہ میر پور خاص کر دیا گیا۔میر پور خاص میں بھی لوگوں نے ان کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کئے ہیں۔احتجاج کی شدت اور کیس قانونی کارروائی سے محفوظ رہنے کے لئے اے ایس پی آصف بہادر نے لڑکیوں کے والدین سے ان کے گھر جا کر معافی بھی مانگی۔ کیا یہ معافی اس تمام واقعہ کا ازالہ ہے جو ان بچیوں کے ساتھ پیش آیا۔ آصف بہادر لا علم ہوں گے کہ گھوٹکی قبائلی نظام میں جکڑا ہوا ضلع ہے۔ یہاں کم سے کم 29 قبائل کے سردار رہتے ہیں اور لوگ قبائلی روایات کی سختی کے ساتھ پاس داری کرتے ہیں۔آصف ضلعی پولس کے سربراہ مسعود بنگش کے ماتحت تھے۔ مسعود کو تو علم ہے کہ ضلع گھوٹکی کے لوگ کن روایات کی پابندی کرتے ہیں۔

سندھ بھر میں نویں، دسویں، گیارویں اور بارویں جماعت کے امتحانات ہو رہے ہیں۔ سب ہی کو معلوم ہے کہ اکثر امتحانی مراکز میں امتحان میں شریک طلباء اور طالبات نقل میں ملوث پائے جاتے ہیں جن کے خلاف امتحانات منعقد کرنے والے تعلیمی بورڈ کے حکام شکایات پر اپنے دوروں کے دوران جائزہ لے کرکاررروائی کرتے ہیں۔بعض بورڈوں میں نگرانی اور جائزہ کمیٹیاں بھی تشکیل دی جاتی ہیں جو مراکز کا دورہ کرتی ہیں۔ موبائل فون کا بر آمد ہونا تو معمول کی بات ہے، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اساتذہ بچوں کے مہنگے فون رکھ لیتے ہیں اور واپس نہیں کرتے۔ تعلیمی بورڈ امتحانات کے آغاز سے ہی پولس کو مطلع کرتے ہیں تاکہ امتحانی مراکز کے باہر امن وامان برقرار رکھنے کی نگرانی کی جاسکے ۔ امن و امان کی نگرانی کے نام پر بعض اضلاع میں پولس افسران اور سپاہی بذات خود کمرہ امتحانات میں داخل ہو کر امتحانات میں شریک امیدواروں کی تلاشی لیتے ہیں تاکہ نقل کا مواد بر آمد کیا جا سکے جو سراسر اپنے اختیارات سے تجاوز ہے۔ حیدرآباد میں بھی زیر تربیت خاتون پولس افسر زاہدہ پروین مرد سپاہیوں کے ساتھ امتحانی مرکز میں داخل ہوئی تھیں۔ انہوں نے بچوں کی تلاشی لی۔ایک بچے کی امتحانی کاپی نگران کے حوالے کردی وہ بچہ گڑگڑاتا رہا، روتا ہوا ان کے پیچھے چلتا رہا لیکن اس خاتوں افسر کو بچے پر ترس نہیں آیا۔ کیا اسی طرح امتحانات میں نقل پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ کیا زاہدہ یا آصف نے کبھی بھی نقل نہیں کی ہوگی؟

پھر نقل کی ذمہ داری ان اساتذہ پر کیوں عائد نہیں کی جاتی جو بچوں کو پوری توجہ کے ساتھ پڑھاتے نہیں۔ ہر وہ بچہ امتحان میں نقل کرتا ہے جس کے اساتذہ نے اسے پوری توجہ کے ساتھ پڑھایا نہیں ہوتا ہے۔بچہ کیوں ذمہ دار ٹھہرا۔ اس واقعہ پر میرے ذہن میں درج ذیل سوالات ہیں۔ اے ایس پی بہادر کو کس قانون نے اختیار تفویض کیا کہ وہ خواتین کے امتحانی مرکز میں داخل ہوں ؟

کون سا اخلاقی جواز اجازت دیتا ہے کہ اے ایس پی بہادر اپنے مسلح سپاہیوں کو ساتھ لے کر جاتے ؟ انہیں کس نے اختیار دیا تھا کہ وہ امتحانی مرکز میں داخل ہو کر یہ جائزہ لیں کہ امتحان میں شریک بچے نقل کر رہے ہیں یا نہیں ؟ امتحان میں شریک بچے اگر نقل کرتے ہیں تو ان کے کمرے میں موجود نگران کی ذمہ داری ہے کہ وہ نقل کرنے والوں کو روکیں یا ان کے خلاف کارروائی کریں۔ اے ایس پی کو کیا اختیار تھا کہ لڑکیوں کی تلاشی مرد سپاہیوں سے کرائیں ؟ اے ایس پی کو کس نے اختیار دیا تھا کہ وہ بچیوں کو پولس موبائل میں بٹھا کر ان کے علاقے سے دور دفتر لے جائیں؟کیا آئی جی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے پر جو کارروائی کی ہے وہ کافی تھی؟ ان کے خلاف قانونی کارروائی سے کیوں اجتناب برتا گیا ؟ جب اے ایس پی کو امتحانی مرکز میں موجود اساتذہ سمجھا رہے تھے کہ وہ بچیوں کو نہ لے جائیں تو ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آیا ؟ ان کا جس علاقے سے تعلق ہے کیا وہاں لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے؟ ان کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع کوہاٹ سے بتایا جاتا ہے۔ جن بچیوں کی تذلیل (جی ہاں، میں اس کو تذلیل ہی سمجھتا ہوں) کی گئی، اس کا مداوا صرف یہ تھا کہ اے ایس پی بہادر بچیوں کے والدین سے ملاقات کر کے معافی مانگ لیں ؟ ان بچیوں کو جو ذہنی کوفت پہنچی، ان کو جو نفسیاتی دھچکا پہنچا، کیا کوفت سے نجات دلانے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ان بچیوں سے ان کے اسکول میں جاکر آصف بہادر، ایس ایس پی مسعود بنگش اور آئی جی اے ڈی خواجہ سب کے سامنے معافی مانگے تاکہ دونوں بچیوں کی عزت نفس بحال ہوسکے۔کیا پولس افسران کی اس طرح کی بچوں کو سر عام بے عزت کرنے کی کارروائیوں سے نقل کرنے کے رجحان پر قابو پایا جا سکتا ہے ؟ زیر تربیت پولس افسر کی ذمہ داری تھانوں میں کیا جانے والا دفتری کام سیکھنا ہوتا ہے، نہ کہ وردی پہن کر مسلح سپاہی ساتھ لے کر سڑکوں پر دندنانا ہوتا ہے؟ کیا کسی ایسے شخص کو محکمہ پولس میں رہنا چا ہے جو اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہو؟َ ان کا محکمہ کیوں تبدیل نہیں ہونا چاہئے ؟ یہ کیسی سول سوسائٹی سے وابستہ لوگ ہیں جو اب تک صرف احتجاج پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں ، کسی گروہ نے عدالت سے کیوں رجوع نہیں کیا ؟

مزید : کالم