محکمہء تعلیم اور محکمہ ء بہبودآبادی کے لئے چینی مشیر منگوایئے!

محکمہء تعلیم اور محکمہ ء بہبودآبادی کے لئے چینی مشیر منگوایئے!
 محکمہء تعلیم اور محکمہ ء بہبودآبادی کے لئے چینی مشیر منگوایئے!

  

27اپریل 2017ء کے اخباروں میں محکمہ ہائر ایجوکیشن حکومت پنجاب کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ’’اپنے‘‘ دستخطوں سے ان کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ : ’’ہم نے پنجاب کو تعلیمی میدان میں ایک ایسی مثال بنانا ہے جہاں ہر طالب علم بلا رکاوٹ علم کے روشن دریچوں تک رسائی رکھتا ہو۔درسگاہیں علم و تحقیق کی آما جگاہیں اور اساتذہ حقیقی معنوں میں ایک رہنما کا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں‘‘۔۔۔

اس اشتہار میں سات ارب روپے کی لاگت سے ایک لاکھ پندرہ ہزار ہونہار طلباء و طالبات کو لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے۔ یہ افزائشِ تعلیم کا چوتھا مرحلہ تھا۔ اس سے پہلے تین مرحلوں میں 20ارب روپے کی لاگت سے تین لاکھ دس ہزار لیپ ٹاپ اب تک تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ اگر لیپ ٹاپ کی خرید و تقسیم پر 27ارب روپے صرف کئے جا سکتے ہیں تو اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ لیکن میری سوچ کا فوکس وہ طلباء و طالبات تھیں (اور ہیں) جو پاکستان کے قصبوں اور دیہاتوں میں سرکاری اور میک شفٹ سکول میں تعلیم پا رہی ہیں۔

پاکستان میں خواندگی کی شرح کا علم تو موجودہ مردم شماری کے نتائج آنے ہی پر ہو سکے گا، لیکن ہم جیسے ترقی پذیر ملکوں کی شرحِ خواندگی اور ترقی یافتہ ممالک کی شرحِ خواندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ توقع یہی کی جاتی ہے کہ جب پاکستان میں مردم شماری کے نتائج پبلک کئے جائیں گے تو وہ بظاہر بڑے حوصلہ افزا ہوں گے۔ معلوم ایسے ہو گا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ 20سال پہلے جو مردم شماری کی گئی تھی اس میں (بالفرض) اگر شرحِ خواندگی 30 فیصد تھی تو اب لازمی طور پر 50فیصد سے اوپر جا چکی ہوگی، لیکن اس شرحِ خواندگی کے تناسب میں بھی ایک اور طرح کا فرق ہوگا۔

ہمارے ہاں اگرچہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے تناسب میں فرق ملحوظ رکھا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ سکول کی شرحِ خواندگی اگر 50فیصد ہو گئی ہے تو کالجوں میں زیرِ تعلیم یا وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی شرحِ خواندگی 40فیصد اور اسی طرح یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کی شرحِ خواندگی 20 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ (اور ویسے بھی ہم نے اکثر کالجوں کو یونیورسٹیاں بنا دیا ہے!) لیکن ہمارے ان تعلیمی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی اداروں میں جو فرق ہے وہ ایک بڑا فرق ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہم ’’خاکی فام‘‘ پاکستانیوں کی جین (Gene) میں کوئی خرابی ہے اور سفید فام اقوام کی جین میں کوئی مخصوص خوبی ہے کہ ان لوگوں کے تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل اور ہمارے تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ افراد میں ایک بدیہی فرق پایا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر یہ ’’خاکی فام‘‘ پاکستانی، امریکہ اور یورپ کے تدریسی اداروں میں جا کر سفید فاموں کو کہیں پیچھے نہ چھوڑ جاتے!

تو ثابت ہوا کہ فرق جین میں نہیں، تعلیمی اداروں میں ہے۔۔۔ لیکن کیا یہ فرق ان تعلیمی اداروں کے سنگ و خشت میں ہے یا طرزِ تعمیر میں ہے؟۔۔۔ کیا مغربی تعلیمی اداروں کے کلاس روم، ان کے اینٹ پتھر یا ان کا فرنیچر ہمارے ہاں سے اعلیٰ اور مختلف ہے، زیادہ صاف ستھرا اور زیادہ ورسٹائل ہے؟۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔ تو کیا ان اداروں کے نصابوں (Syllabi) میں فرق ہے؟ کہا جا سکتا ہے کہ کسی حد تک یہ بات درست ہے، لیکن اصل فرق سمجھنے کے لئے ذرا رکئے۔

ہمارے اپنے بہت سے تعلیمی اداروں میں مختلف مضامین (انگریزی، ریاضی، تاریخ، جغرافیہ، سائنس وغیرہ) کی نصابی کتابیں تو عین مین وہی ہیں جو مغربی اداروں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے انگلش میڈیم اداروں کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کا فکر و فن اس معیار اور اس پائے کا نہیں ہو پاتا جس معیار اور جس پائے کا مغربی تعلیمی اداروں کا ہوتا ہے۔

اب ایک اور طرف آیئے۔۔۔ کیا یہ بات (جزوی طور پر ہی سہی) درست نہیں کہ ہمارے ہاں کے انگلش میڈیم اداروں کے تعلیم یافتہ طلباء و طالبات کا سرمایہ ء معلومات، ان کی آگہی کا عمومی معیار، ان کا طرزِ استدلال اور اسلوبِ تحریر و تقریر ہمارے اردو میڈیم اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علموں سے بہتر ہوتا ہے۔ (مستثنیات کو جانے دیجئے)۔

جہاں تک میں نے سمجھا اور دیکھا ہے ہمارے اداروں اور مغربی اداروں کے معیاروں کا اصل فرق ان اساتذہ میں تلاش کیا جا سکتا ہے جو ان اداروں میں کاروبارِ تدریس سرانجام دیتے ہیں۔تعلیم و تعلم کے باب میں آج تک جو تحقیق و تفتیش ہوئی ہے، اس کی رو سے دیکھا گیا ہے کہ مدرسہ، نصاب اور استاد کی سہ ضلعی تکون میں جو ’’ضلع‘‘ سب سے زیادہ معیاری فرق کا باعث بنتا ہے۔ وہ ’’استاد‘‘ کی ذاتِ گرامی ہے!۔۔۔ مدرسے کی بلڈنگ بے شک قدیم ہو یا شکست و ریخت کا شکار ہو، بے شک وہ مدرسہ کسی درخت کی چھاؤں میں لگایا گیا ہو اور بے شک طلباء پٹ سن کے ٹاٹوں پر بیٹھتے ہوں، اگر استاد لائق، ذہین اور طبعِ رسا کا حامل ہے تو اس کے شاگرد کسی بھی عظیم الشان عمارت میں تعلیم پانے والے شاگردوں سے زیادہ لائق فائق اور ذہین و فطین ہوں گے۔

پاکستان میں آج اس قبیل کے اساتذہ کا قحط ہے۔۔۔ آج ہمارے ہاں تعلیم و تعلم ایک بزنس بن چکا ہے۔ آج کا استاد شائد اپنی ماضی کی ’’بے وقعتی‘‘ اور عدم احترامی کا انتقام لے رہا ہے۔ گلی گلی سکول اور کالج کھل گئے ہیں اور اکیڈیمیاں قائم ہو گئی ہیں، لیکن ماسوائے چند مہنگے ترین اداروں کے، ان میں تدریسی سٹاف وہی ہے، جسے کوئی اور کام کرنے کو نہیں ملتا، جس کی اپنی تعلیم کا دائرہ از بس تنگ و تاریک ہے، جو اپنی مالی پریشانیوں کا صیدِ زبوں ہے اور جس کو ہمارے معاشرے میں کسی وقعت اور عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ ان ’’اساتذہ کرام‘‘ کی یہ جنس آج گلی گلی پائی جاتی ہے۔ میرے سمارٹ فون پر ہر روز کم از کم چار چار پانچ پانچ ’’نہایت قابل، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انگلش میڈیم اداروں کے لئے نہائت موزوں‘‘ اساتذہ کی ایک فوجِ ظفر موج کے پیغامات (Messages) موصول ہوتے ہیں جو گھر پر قدم رنجہ فرما کر ٹیوشن پڑھانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے اپنا ایڈریس اور موبائل نمبر بھی دیا ہوتا ہے۔۔۔ ذرا سوچئے کہ جس ملک میں قحط الرجال کی فراوانی ہو، وہاں ان اساتذہ کرام کی ارزانی چہ معنی دارد؟

کہنے کو انگلش میڈیم سکولوں کا مینا بازار لگا ہوا ہے، لیکن یہاں بیشتر آپ کے بچوں کو ایجوکیٹ نہیں، ڈی ایجوکیٹ کیا جاتا ہے۔ یہ جو معاشرے میں سماجی انہونیاں ہو رہی ہیں، ان کی ایک غالب وجہ یہی نام نہاد انگلش میڈیم ادارے ہیں۔ جو والدین اپنے بچوں کو ان سکولوں میں بھیجتے ہیں اور بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں، ان کو معلوم نہیں کہ ان کے بچے ایسے زیورِ تعلیم سے آراستہ پیراستہ کئے جا رہے ہیں جو سرتاپا ملمع ہے۔ ان کی چمک دمک شائد چند نیم خواندہ والدین کا دامنِ نگاہ کھینچتی ہو گی، لیکن اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ معلومات اور اخلاقیات کا وہ خزینہ جو ٹاٹوں والے سکولوں کے اساتذہ اپنے طلباء میں ’’مفت‘‘ تقسیم کیا کرتے تھے، وہ آج عنقا ہو چکا ہے!۔۔۔ میں قنوطی نہیں لیکن اردگرد نگاہ ڈالتا ہوں تو:

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

ہمارے اس تعلیمی انحطاط کی بہت ساری وجوہات، جن میں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، سرفہرست ملک کی بڑھتی اور پھلتی پھولتی وہ آبادی ہے جو بے لگام ہو چکی ہے، وہ والدین ہیں جو تولیدِ اولاد کے ضمن میں انسانی اقدار کی طرف نہیں ،حیوانی اقدار کی طرف کھینچے چلے جا رہے ہیں اور وہ حکومت ہے جو اتنے بنیادی اور اہم مسئلے کی طرف سے آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہے۔ قوم جس رفتار سے بچے پیدا کر رہی ہے، اس رفتار سے اساتذہ پیدا نہیں ہو سکتے۔ بچوں اور اساتذہ کی شرحِ پیدائش کا ایک بین الاقوامی تناسب ہے جس کی طرف پاکستان اور اس جیسے کئی اور ممالک توجہ نہیں دے رہے۔ہمارے اساتذہ کو ٹریننگ کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ کسی بھی کلاس میں اگر طلباء (یا طالبات) کی تعداد 30،35 سے زیادہ ہو جائے گی تو استاد اس کو کنٹرول نہیں کر سکے گا۔ اس کنٹرول کا مفہوم انتظامی کنٹرول نہیں، تدریسی کنٹرول ہے، لیکن ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں میں جا کر دیکھیں ایک ایک کلاس روم میں 70،70 اور 80،80 طلباء / طالبات ٹھونسی ہوئی ہیں۔ اس تعداد کا تدریسی کنٹرول کیسے ممکن ہے؟

دوسرا نکتہ کلاس روم میں استاد کی انفرادی توجہ کا ہے۔ آج کا استاد ملک کے سرکاری سکولوں / کالجوں میں اپنے شاگردوں پر انفرادی توجہ کیسے دے سکتا ہے؟ ایجوکیشن ٹریننگ کالجوں میں بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی ایک کلاس روم میں شاگردوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 30،35 ہو سکتی ہے۔ اگر یہ تعداد 35سے 40ہو جائے تو صرف 5طلباء کا اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ آج کل کے اساتذہ کو سکول کے آٹھ پیریڈز میں اول تو آٹھ وگرنہ سات پیریڈز ہر حال میں پڑھانے پڑتے ہیں۔ اگر سات پیریڈ بھی ہوں تو 35سے بڑھا کر 40شاگردوں کی کلاس کر دینے سے 35شاگردوں (5x7) کا اضافی بوجھ استاد کے کاندھوں پر آ پڑے گا اور یہ بوجھ استاد کی انفرادی توجہ کے ’’اسپِ تازی‘‘ کو زخمی کرکے سڑک پر گرا دے گا!

پرنٹ میڈیا میں آج کل جو ہفتہ وار ’’تعلیمی ایڈیشن‘‘ آ رہے ہیں، ان کا فوکس ہائر ایجوکیشن پر ہے، جبکہ ہائر ایجوکیشن، لوئر ایجوکیشن کے کاندھوں پر سوار ہو کر آتی ہے۔ تعلیم کا اصل فوکس لوئر ایجوکیشن پر ہونا چاہیے جس کا کوئی تجزیہ ان تعلیمی ایڈیشنوں میں نہیں کیا جاتا۔ بڑے بڑے اور بھاری بھرکم تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے انٹرویوز چھاپ دینے سے ایجوکیشن کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ ہر ادارے کا سربراہ اپنے پروگرام کا قصیدہ خواں ہے۔ اس نے اپنا وجود برقرار رکھنا ہوتا ہے اور اپنی مالی گرانٹ کا تسلسل ہی نہیں، اس میں اضافہ بھی اسے درکار ہوتا ہے۔ وہ مغرب کے ہائر ایجوکیشنل اداروں میں مروج اصطلاحات کی جگالی کرکے سمجھتا ہے کہ موضوع سے انصاف کر لیا ہے۔ وہ اینکر یا لکھاری جو ایجوکیشن ایڈیشن پر کام کرتے ہیں، ان کو دیہاتی سکولوں کے ہیڈماسٹر یا ہیڈ مسٹریس حضرات و خواتین کے انٹرویو کرنے چاہئیں تاکہ معلوم ہو کہ ان کے مسائل کیا ہیں؟۔۔۔ اگر آپ کسی مکان کی بنیادیں پختہ نہیں کریں گے اور اس پر کئی منزلہ پلازہ تعمیر کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کا انجام یہی ہوگا کہ نہ صرف وہ پلازہ گر جائے گا،بلکہ گراؤنڈ فلور بھی منہدم ہو جائے گا!

تعلیمی انحطاط پر لکھنا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ اگر کسی وزیرِ تعلیم کا انٹرویو کرنا ہو تو ان کو درج ذیل مشورے دیئے جا سکتے ہیں:

1۔ دیہاتی اور قصباتی سکولوں کی حالت زار پر توجہ دیں۔ ان کے اساتذہ کو بہتر ٹریننگ اور بہتر مالی مشاہرے ادا کریں۔

2۔ آبادی کے پھیلاؤ کا سختی سے نوٹس لیں۔ محکمہ بہبود آبادی میں کوئی ایسا وزیر / مشیر مقرر کریں جو چین جا کر وہاں سے آبادی کے کنٹرول کا ’’نسخہ ء کیمیا‘‘ ساتھ لائے۔

3۔ہائر ایجوکیشن کا بجٹ منجمد (Freeze) کرکے لوئر ایجوکیشن کے بجٹ کی کم مائگی کی تلافی کریں۔

4۔اگر سی پیک (CPEC) کے لئے چینی کاریگر، ماہرین اور انجینئر منگوائے جا سکتے ہیں تو محکمہ تعلیم اور محکمہ بہبود آبادی کے لئے چینی مشیر کیوں نہیں منگوائے جا سکتے؟

مزید : کالم