حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں بزنس کمیونٹی کی تجاویز کوخصوصی اہمیت دے

حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں بزنس کمیونٹی کی تجاویز کوخصوصی اہمیت دے

فیصل آباد(آن لائن) آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہاہے کہ حکومت نئے مالی سال 2017۔18 ء کے بجٹ میں معیشت کی مستقل بنیادوں پر بحالی کیلئے بزنس کمیونٹی کی تجاویز کوخصوصی اہمیت دے نیز بجٹ میں معیشت کی مستقل بنیادوں پر بحالی یقینی بنانے کے علاوہ منی بجٹس اور ایس آر او کلچر کے خاتمہ کیلئے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ ٹیکس ریونیو میں اضافہ سمیت معاشی سرگرمیاں بڑھا تے ہوئے ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں معاون ثابت ہو سکیں۔میڈیاسے بات چیت کے دوران انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیرقیادت معیشت کی بحالی کیلئے کئے جانیوالے اقدامات قابل ستائش ہیں تاہم برآمد کنندگان کے ریفنڈ کلیمز کو بینکوں کے ساتھ منسلک کرکے صنعتی و تجارتی شعبہ کی مشکلات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس سے متعلقہ تمام تر قانون سازی ایف بی آر کی بجائے اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جانی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکس کی مد میں وصولیوں کو بڑھانے کیلئے ٹیکس کے پیچیدہ نظام میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دفعہ بزنس فرینڈلی گورنمنٹ کو چاہیے کہ بیورو کریسی کی بجائے عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قابل عمل اور کاروبار دوست بجٹ پیش کرے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور صنعتی ترقی سے معاشی انقلاب لایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالے اور انہیں ہراساں کئے بغیر ٹیکس نیٹ اور وصولیوں میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے اس لئے ہمیں ٹیکس ریونیو کو بڑھا کر معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا چاہیے۔ #/s#

مزید : کامرس