جوہر ٹاؤن میں پلازہ مالک کا قتل کاروباری تنازع یا دشمن داری کا شاخسانہ

جوہر ٹاؤن میں پلازہ مالک کا قتل کاروباری تنازع یا دشمن داری کا شاخسانہ

رپورٹ : یو نس با ٹھ

پچیس اپر یل2017 کی با ت ہے کہ ارب پتی پراپرٹی ڈیلر اورمیاں پلازہ کے مالک میاں محمود فیصل ٹاؤن کے علاقہ میں اپنے دو دوست فیاض بٹ اور یسین کیساتھ پراپرٹی دیکھنے کے بعد کھانا کھانے کے لیے فیصل ٹاؤن کے کسی ریسٹورنٹ میں اپنی گا ڑی پرجا رہا تھا کہ جب وہ شوق چوک کے قریب پہنچے تو دو موٹر سائیکل سواروں نے انکا تعاقب کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کردی جسکے نیتجہ میں تینوں افراد شدید زخمی ہو گئے فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے اطلاع ملنے پر پولیس اور فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے میاں محمود کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ۔ جبکہ دیگر دو زخمیوں کو ہسپتال بھجوا دیا گیاپولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرکے لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے مردہ خانے بھجوا دیا ۔ پولیس نے زخمی ہونے والا فیاض بٹ اور یسین کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے ۔ پولیس نے مقتول اور زخمیوں کے موبائل فون قبضے میں لے رکھے ہیں پولیس کا کہنا ہے کہ ہم تفتیش کر رہے ہیں تفتیش کے بعد قتل کی اصل وجہ سامنے آئے گی ۔ لواحقین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ میاں محمود کو کروڑوں روپے کے لین دین اور پراپرٹی کے تنازع پر زخمی ہونے والے اظہر شفیق وغیرہ نے قتل کروایا ہے اور مقتول کے چھوٹے بھائی میاں مقصود احمد کے بیان پر دونوں افراد سے تفتیش جا ری ہے۔ جوہر ٹاؤن بی بلاک میں رہائش پزیر میاں محمود احمد کے بارے میں بتایا گیا ہے وہ جوہر ٹاؤں میں واقع میاں پلازہ اور مروہ شادی ہال سمیت دو درجن کے قریب مارکیٹوں اور پلازوں کا مالک اور ارب پتی تھا اور میاں پلازہ کے مالک کے نام سے جوہر ٹاؤن سمیت لاہور کے پراپرٹی سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد میں اس کا شما ر ہو تا ہے وہ صبح سویرے اپنے دفتر واقع جوہر ٹاؤن میں گاڑی پر سوار ہوکر آیا کہ اس کا بزنس پارٹنر اور قریبی دوست اظہر شفیق بٹ اور یاسین نامی دو افراد دفتر میں موجود تھے اور دفتر آتے ہی دونوں دوست میاں محمود احمد کی پراڈو گاڑی میں سوار ہوگئے اور میاں محمود احمد کو بھی ساتھ بیٹھا لیا اور شوکت روڈ سے ایک کام کے بعد واپس جوہر ٹاؤن جارہے تھے کہ اکبر چوک کے قریب شوق چوک میں گاڑی آہستہ ہوئی کہ اچانک ہونڈا 125موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم افراد نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ جس کے نتیجہ میں 50سالہ میاں محمود احمدچار فائر لگنے سے موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ گاڑی میں سوار اظہر شفیق بٹ اور یاسین نامی شخص معمولی زخمی ہوئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس حکام موقع پر پہنچ گئے اور ورثاء کو بھی اطلا ع کر دی گئی میاں محمود کے قتل کی اطلاع شہر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جس کے بعد مقتول کے عزیز و اقارب سمیت درجنوں پراپرٹی ڈیلرز جناح ہسپتال پہنچ گئے۔ پولیس حکام نے زخمی ہونے والے دونوں افراد سے الگ الگ بیان لیے۔ حالات مشکوک نظر آئے جس پر مقتول میاں محمود کے بھائی میاں مقصود احمد نے بھی پولیس کو بتایا کہ زخمی افراد اظہر شفیق بٹ وغیرہ کے ساتھ میاں محمود کا 11کروڑ روپے کی رقم کا لین دین اور پراپرٹی کا تنازع چل رہا تھا۔اور مقتول نے زخمی شخص اظہر شفیق بٹ کو دوبئی میں بھی بزنس کرواکردے رکھا تھا۔ الزام لگایا گیا کہ زخمی ہونے والے دونوں افراد اظہر شفیق اور یاسین دونوں افراد قتل میں ملوث ہو سکتے ہیں پولیس نے مقتول کے چھوٹے بھائی میاں مقصود کے بیان پر مقدمہ بھی درج کرلیا ایس ایچ او اسد عباس نے اس قتل پر موقف اختیا ر کیا ہے کہ واقعہ 11کروڑ روپے کی رقم کا لین دین اور پراپرٹی کا تنازع لگتا ہے۔ جبکہ ایس پی ماڈل ٹاؤن اسماعیل

کھاڑک کا کہنا ہے کہ قتل کی واردا ت افسو س نا ک واقعہ ہے ۔ایک کا رو با ری شخص نے الزا م لگا یا ہے کہ پو لیس نے مرکزی ملزم چو دھری کلیم کو جس کا میا ں پلا زہ میں گا ڑیو ں کا شورو م ہے قتل کے شبہ میں اسے حرا ست میں لیا تھا اور بعد ازا ں مبینہ طو ر پر 7لا کھ رو پے رشوت لے کر اسے چھو ڑ دیا گیا ہے۔ اگر اس سے تفتیش کی جا تی تو حقا ئق سا منے آسکتے تھے حا لا نکہ اس مقدمہ میں اظہرشفیق،یاسین اورچودھری کلیم کو مد عی نے نامزدبھی کر رکھاہے۔مقتول کے بیٹے طاہر محمود کا کہنا ہے کہ کاروباری رنجش پرملزمان نے اس کے والدکوقتل کیا ہے۔ اے ایس پی گا ڑدن ٹاؤن عا ئشہ بٹ نے" پا کستان " کو بتا یا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ ملزم کلیم کو حرا ست میں لینے کے بعد چھو ڑا گیا ہے اعلی حکا م کو چا ہیے کہ اس واقعہ کی انکوائر ی کی جا ئے کہ مر کز ی ملز م کو کیو ں رہا کر دیا گیا یہ بھی معلو م ہوا ہے کہ اس مقد مے می ملو ث ہو نے وا لے ملز ما ن نے خود کوبے گنا ہ ظا ہر کر نے کی نیت سے اپنے حق میں خبر یں بھی شا ئع کروائی ہیں ۔اگر ایسی با تو ں میں صداقت پا ئی جا تی ہے تو ایسے ملز ما ن کو فو ری حراست میں لیکر ان سے تفتیش انصاف اور قانون کو مد نظر رکھ کر مکمل کی جا نی چا ہیے ۔تا کہ متا ثر ہ خا ند ان کو انصا ف مل سکے اور ملز ما ن اپنے کیے کو پہنچ سکیں۔قتل کے اس طر ح کے واقعا ت جہا ں پو لیس کے لیے ایک چیلنج کی حثیت رکھتے ہیں وہا ں ایسے واقعا ت میں کر پشن کا عنصر زیا دہ پا یا جا تا ہے ۔اور پو لیس اصل ملز ما ن تک پہنچنے کے بہا نے بے شما ر بے گنا ہ افراد کی بھی پکڑ دھکڑ کر کے انھیں ڈرادھمکا کر ان سے پیسے بٹو رتی ہے اور مد عی پا رٹی سے بھی ملز ما ن کو پکڑ نے کے بہا نے ان سے بھا ر ی بھر رقم بٹور لی جا تی ہے ۔افسران با لا کو چا ہیے کہ حرا ست میں لیے گئے ایسے تما م افراد سے وہ خود پو چھ گچھ کے علا وہ اس با ت کا بھی خیا ل رکھیں کہ کہیں اس کے کسی ما تحت نے کسی سے رشوت تو نہیں لی تا کہ پو لیس کے امیج کوبہتر بنا یا جا سکے۔پو لیس کو چا ہیے کہ ملز ما ن کو جلد سے جلد گر فتا ر کر کے قا نو ن کے حو لے کرے تا کہ انھیں سزا مل سکے

مزید : ایڈیشن 2