شیخوپورہ: نوجوان پر بہیمانہ تشدد کے بعد صلح کا ڈول ڈال دیا

شیخوپورہ: نوجوان پر بہیمانہ تشدد کے بعد صلح کا ڈول ڈال دیا

عدم برداشت کے رویہ نے معاشرے کوآج اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ انسانی جان کی کوئی قد ر نہیں رہی، معمولی تنازعات اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہو کر قتل و غارت اور بہیمانہ تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں، کہنے کو یہ رویہ جاہلانہ ہے مگر پڑھے لکھے ہوں یا ناخواندہ افراد سبھی میں عدم برداشت کا رویہ نہایت حد تک پایا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ انصاف کی فراہمی میں پائی جانیوالی تاخیر ہے یہاں سوال نظام انصاف پر نہیں ان عوامل پر ہے جن کے باعث انصاف کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں، جن میں سرفہرست پولیس کردار ہے تو دوسری طرف تحقیقاتی اداروں کی عدم توجہی اور لاپرواہی کارفرما ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے دلخراش واقعات کو اجاگر کرنے اور مظلوم کی داد رسی کی بجائے واقعہ کو دبانے اور بیچ بچاؤ کروانے والے زیادہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں یوں نہ صرف انصاف کا قتل ہوتا ہے بلکہ مایوسی بھی گھر کر جاتی ہے جس کے باعث معاشرہ جس ابتری اور افراتفری کی طرف بڑھ رہا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ برداشت کا عنصر ختم ہوتا چلا جارہا ہے اور نتیجہ آئے روز رونما ہونے والے دلخراش واقعات کی صورت میں سامنے آرہا ہے، گزشتہ دنوں شیخوپورہ میں پیش آنے والا واقعہ جو اہل دل افراد اور احساس کی نعمت سے سرشار کسی انسان کیلئے یقیناًناقابل فراموش ہے جس میں نہ صرف عدم برداشت بلکہ انصاف کی فراہمی کا فقدان بھی واضح ہے اور پھران افراد کا کردار بھی عیاں ہوتا ہے جو مظلوم کی داد رسی اور حق و سچ کا علم تھامنے کی بجائے الٹا مظلوم کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کرمفادات حاصل کرتے ہیں ، ہوا یوں کہ یکم اپریل کی شام 7بجے تھانہ صدر شیخوپورہ کے علاقہ بھدرو رکھ ہرن مینار کا رہائشی محنت کش نوجوان عنصر مسیح کمیٹی کی رقم لینے رفیق ماچھی نامی شخص کے ہاں گیا جو اسے گھر نہ ملا تاہم واپسی پر جب وہ ڈیرہ ڈھلواں بشمولہ عثمان نگرکے رہائشی ملزمان شہباز، منگو اور ظہور وغیرہ کے گھر کے پاس سے گزار تو اسے دیکھ کر ملزمان مشتعل ہوگئے اور انصر کو اٹھا کر قریب واقع اپنے گھر لے گئے جہاں اس کے ساتھ وہ انسانیت سوز سلوک شروع کردیا جس کا احوال سن کر انسان کی روح کانپ جاتی ہے ، ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق ملزمان نے اس قدر سفاکی کا مظاہرہ کیا کہ پہلے تو نوجوان انصر مسیح کو رسیوں سے جکڑ کر ہلنے جلنے تک سے محروم کردیا اور اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر اس کے شور کی آواز بھی پوری طرح دبادی پھر شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ڈنڈوں سوٹوں کے ان گنت وار اس کے جسم پر کئے اور اسی پر اکتفا نہ کی اور اس کے جسم کے نازک حصوں پر آہنی راڈ گرم کرکے داغتے رہے جس سے اس کے نازک اعضاء پر ورم آگئے اور شدید جھلس جانے کے باعث ملزمان کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کیلئے بھاگ نکلنا تو درکنار وہ چل پھر سکنے کے بھی قابل نہ رہا، تلوؤں پر ڈنڈوں کے پے درپے وار ہونے کے باعث پاؤں بری طرح سوجھ گئے اور بہیمانہ تشدد کے باعث کاندھے کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی، یوں اس بے چارگی کے عالم میں ملزمان نے اسے طرح طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا اور قریب تھا کہ اس کی موت واقع ہوجاتی ، تاہم ملزمان کی مہربانی کہئے یا انصر مسیح کی خوش بختی کہ اس سے قبل کہ اس کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ جاتی ملزمان اسے گھسیٹ کر رکشہ پر لادا اور اسکے گھر کے باہر پھینک دیا اور دیکھنے والوں کو بتایا کہ یہ ٹریفک حادثہ کا شکار ہوگیا ہے وہاں موجود بعض افراد نے تو اسے مردہ سمجھ کر شور و غل شروع کردیا جس کی آواز سن کر جب انصر مسیح کے اہل خانہ گھر کی چوکھٹ پر آئے تو انصر مسیح کو اس حالت میں دیکھ کر بے ساختہ دھاڑیں مار مار رونے لگے اس اثناء میں انصر مسیح کی بہن آگے بڑھی اور بھائی کے چہرے پر پڑی گرد صاف کی مگر بہیمانہ تشدد کے باعث اس کی تشویشناک حالت برداشت نہ کرتے ہوئے حواس باختہ ہوگئی تاہم اسکے اہل خانہ نے اہل علاقہ کی مدد سے انصر مسیح کو فوری ہسپتال منتقل کیا جہاں کئی گھنٹے وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہا جسے ہوش آنے پر اہل خانہ کی جان میں جان آئی مگر وہ پھر بھی یہ بتا پانے کی حالت میں نہیں تھا کہ اس پر کیا بیتی اوراسے اس کی اس حالت کے ذمہ دار کون ہیں؟، اگلے روز طبعیت تھوڑی سنبھل جانے پر انصر مسیح نے پہلے اہلخانہ کو یہ درد ناک ماجرہ سنایا اور پھر پولیس کو اپنا بیان قلم بند کروایا ، دوسری طرف اہل علاقہ تک جب یہ روداد پہنچی تو وہ سراپا احتجاج بن گئے اور ملزمان کی فوری گرفتاری اور قرار واقعی سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا، میڈیا ٹیموں کی جب انصر مسیح تک رسائی ممکن ہوئی تو ہسپتال میں اس کی عیادت پر مامور اس کی بہن صائمہ بی بی نے میڈیاکو مذکورہ روداد سنائی جو یقیناًچونکا دینے اور دل دہلا دینے والی تھی، تاہم وجہ عناد پوچھنے پر صائمہ بی بی نے اس راز سے پردہ اٹھایا کہ اس کے بھائی کا ملزمان کی کسی عزیزہ سے کچھ عرصہ قبل تعلق استوار ہوا مگر حالات کی سنگینی کے باعث ان کا یہ تعلق پروان نہ چڑھ سکا اور انصر اس تعلق سے مکمل طور پر دستبردار ہوگیا مگر ملزمان نے دل میں عناد رکھتے ہوئے گزشتہ روز انصر مسیح کو اس بے رحمی کا نشانہ بنایا کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ تشدد سے محفوظ نہ رہا اور ڈنڈوں سوٹوں کے اتنے وا ر کے گئے کہ ضربیں گننا تک ممکن نہیں، یہی نہیں بلکہ اس کے جسم کے نازک اعضا ء پر جلنے کے باعث آنے والے زخم نہ قابل بیان ہیں، دریں حالات پولیس نے کاروائی کا آغاز کیا تو قطعی تو قع نہیں تھی کہ اس سیدھے اور واضح تشدد کیس میں ملزمان کی کسی طرح چھوٹ ممکن ہو پائے گی مگر حالات نے نیا رخ لیا اور یہ خبر سامنے آئی کہ ملزمان پارٹی کی طرف سے دی گئی درخواست پر الٹا زخمی نوجوان انصر کو پولیس نے حراست میں لیکر تھانہ کی حوالات میں بند کردیا ہے اب اس میں پولیس کی کیا منطق کارفرما ہے یہ سامنے آنا باقی ہے البتہ ملزمان کی جانب سے دی گئی وہ درخواست جس کی بنیاد پر انصر مسیح حوالہ حوالات کیا گیا پولیس اس تک میڈیا کی رسائی ممکن بنانے سے قاصر ہے، تو دوسری طرف وہ بھونڈا اور سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے جوہمارے ہاں اس طرز کے اکثر دلخراش واقعات میں سامنے آتا ہے اور اس واقعہ میں بھی ایک معروف سیاسی شخصیت بیچ بچاؤ اور نام نہاد صلح صفائی کیلئے سرگرم ہوگئی ہے جس کا فائدہ یقیناًملزمان کو پہنچے گا جو اپنے کئے کی سزا سے بچ نکلیں گے اور ہوگیا کیا کہ آئندہ نہ صرف ان ملزمان کے حوصلوں کو مزید تقویت ملے گی بلکہ اشتعال انگیز زہنیت کے مالک ایسے دیگر افراد کو بھی رغبت حاصل ہوگی جو معاشرے سے اعتدال کے خاتمہ اور عدم برداشت کو بڑھانے کا سبب ثابت ہوگی، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر متاثرہ نوجوان انصر مسیح پر ملزمان کو کوئی رنج تھا یا اس کے کردار کے حوالے سے کوئی شکایت تھی یا وہ اسے کسی سرکردہ جرم کی سزا دینا چاہتے تھے تو کیا قانون ہاتھ میں لینے اور بہیمانہ تشدد کا جو راستہ انہوں نے اختیار کیا وہ کسی صورت کسی بااصول معاشرے اور قانون کی عملداری کے حامل نظام انصاف میں برداشت کرنا ممکن ہے ؟ اگر ایسا نہیں تو ملزمان کو کسی صورت کوئی ریلیف ملنا نہیں چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 2