ریسکیو 1122پنجاب کے بعد دوسرے صوبوں میں بھی سرگرم

ریسکیو 1122پنجاب کے بعد دوسرے صوبوں میں بھی سرگرم

اسلامی تعلیمات میں دوسروں کی مددکرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے اور خاص طور پر دکھ، درد میں مبتلا مسلمان بھائیوں کی تکلیفوں کو دور کرنا ہمارے مذہب کی شان ہے۔ انسانیت کی خدمت مہذب قوموں کا شعار ہے،پاکستان کادل پنجاب 80ملین کی آبادی کا صوبہ ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی صوبے کے لئے خدمات میں ریسکیو1122کا نام سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ناگہانی آفات، زلزلے، سیلاب وغیرہ سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ریسکیو 1122کا قیام 2004ء میں عمل میں آیا تھا مگر 2008 ء میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی کے باعث یہ ادارہ آج پاکستان کا سب سے بڑا ایمرجینسی نظام سنبھال رہا ہے۔ سیلاب میں1122کی خدمات، ریسکیو ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کا قیام،ٹریننگ کی اعلیٰ ترین سہولتیں، دوسرے صوبوں اور سارک ممالک کے لئے ٹریننگ ،محکمہ صحت کی ایمولینس،موٹربائیک ایمولینس سروسز کا اجراء وغیرہ بنیادی سہولیات میں شمار ہوتا ہے۔ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر کی زیر نگرانی خاص طور پر 2010ء میں جنوبی پنجاب کے علاقوں میں بدترین سیلاب کی وجہ سے فلڈ ریلیف کا کام بھی شروع ہوا اور اس میں پی ڈی ایم اے نے بھی لوگوں کی بحالی وغیرہ کے اقدامات میں مثالی کردار ادا کیا ۔

ریسکیو 1122کا نظام پنجاب کے 36اضلاع میں پھیلا ہوا ہے اور اب تحصیلوں میں بھی اپنے مراکز قائم کر چکا ہے۔ اس میں فائر فائٹر،کمیونیٹی کا تحفظ،ایمبولینس سروس اور ریسکیو سروس 4بنیادی سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔آج سے سات سال قبل لاہور میں ایل او ایس کے ساتھ بسوں کا اڈا موجود تھا اور اس وقت ایک ایمرجینسی عمارت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ایلیٹ سکول کے ساتھ مل کر تربیت فراہم کی جاتی تھی۔اب ٹھوکر نیاز بیگ میں ایک وسیع و عریض جگہ پر اسٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجینسی سروسز اکیڈمی کا افتتاح بھی کردیا گیا ہے۔ جہاں پر30 فٹ بلند عمارت کی چھت تک پہنچنے کے لئے ایک بڑی وہیکل موجود ہے،کنویں میں گرے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرنا،ڈوبتے ہوئے لوگوں کو گہرے پانی سے بچانا،عمارت یا گاڑی وغیرہ کو آگ لگنے کی صورت میں آگ بجھانا،بلندی والی عمارت سے رسیوں کی مدد سے تیزی سے نیچے اترنا، کنکریٹ کو جدید مشین کے ذریعے فوری توڑنا اور جدید ایمبولینس کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس اکیڈمی کا افتتاح بدست مبارک وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہاتھوں 27مارچ کو کیا گیا اور 500نئے کیڈٹس نے پروقار تقریب میں ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان کے ہاتھوں حلف لیا۔حلف میں صرف اور صرف دکھی انسانیت کی خدمت کسی بھی سیاسی و سماجی رنگ میں ڈھلے بغیر کرنیکا اقرار نامہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ چند سال قبل میں نے ریسکیو ایمرجنسی ٹریننگ سنٹر کا دورہ کیاتو مجھے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ ایمر جنسی سروسز حکام نے چھوٹی سی جگہ پر ٹریننگ کا شانداراہتمام کیا اور غالبااس وقت کے دورہ جرمنی کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے یہ کہا کہ اس ویرانے میں سٹینڈرڈ کے اعتبار سے ایک چھوٹا سا جرمنی آباد کررکھا ہے اور میں نے اسی وقت یہ عزم کرلیا کہ ہم ریسکیو ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کو ایک بے مثال ادارہ بنائیں گے، جہاں سے تربیت یافتہ ریسکیورز کارکردگی کے لحاظ سے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے کارکنوں سے بہتر ہوں۔ حکومت پنجاب نے ریسکیوایمر جنسی سروسز اکیڈمی کے قیام کے لئے 908ملین روپے کے خطیر فنڈز فراہم کئے۔آج میرا وہ خواب عالمی معیار کی ریسکیو ٹریننگ اکیڈمی کی صورت میں شرمندہ تعبیر ہوچکا ہے۔ریسکیو ایمر جنسی سروسز اکیڈمی میں فائر فائٹنگ اور عالمی معیار کے ٹریننگ سیمولیٹر اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ حادثات سے ریسکیو کرنے کا جو عملی مظاہرہ آپ نے پیش کیا ہے وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ادارہ عوامی خدمت کے مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ آج میری خوشی اور اطمینان ناقابل بیان ہے کہ ریسکیو ایمر جنسی سروسز اکیڈمی ناصرف اہل پنجاب کے لئے بے مثال ریسکیورز کی اعلیٰ ترین ٹریننگ کررہی ہے بلکہ ملکی اور غیر ملکی ادارے بھی ٹریننگ کے لئے رجوع کررہے ہیں۔

خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ کی ایمرجنسی سروسز کی تشکیل وتربیت کے لئے بلامعاوضہ معاونت فراہم کی جارہی ہے یہ دوسرے صوبوں کے لئے پنجا ب کے بڑا بھائی ہونے کے پرخلوص دعوؤں کا عمل ثبوت ہے، جس کی بنیاد اخوت اور بھائی چارے کے خالص جذبے پر رکھی گئی ہے اور ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ سارک ممالک بھی ایمرجنسی سروسز ٹریننگ کے لئے ہمارے ادارے سے رجوع کررہے ہیں۔حکومت پنجاب عوام کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ ریسکیو 1122کا دائرہ کار تحصیل کی سطح تک بڑھانا اور دور دراز کے علاقوں میں عوام کو حادثات میں بروقت مدد فراہم کرنا اس بات کا عملی ثبوت ہے ۔پہلی بار ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت دور دراز علاقوں سے بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی مریضوں کی منتقلی کے لئے ریسکیو 1122کو محکمہ صحت کی 500ایمبولینس گاڑیاں بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔تیز رفتار اور موثر ریسپانس کے لئے موٹر بائیک ایمبولینس سروس کا اجراء بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کا شاندار فریضہ سرانجام دیتے ہیں اورمیں سمجھتا ہوں کہ عام شہری کی طرح ریسکیورز کی عزت کرنا میرا بھی فرض عین ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ خوشی کا تعلق دوسروں کی خوشی، راحت اورمدد کا اہتمام کرنے میں ہے۔ہم دوسروں کی خدمت کرکے اپنی لازوال خوشی کا اہتمام کرسکتے ہیں۔یقین کیجئے دوسروں کی مدد سے جو آسودگی حاصل ہوتی ہے وہ کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔جب انسان دوسروں کی مدد اور خدمت میں لگ جاتا ہے تو اللہ کریم اس کے کام خود سنوار دیتے ہیں اوروہ پھر دوسروں کی مدد کا طلب گار نہیں رہتا۔

میں بڑے فخر سے محترم عبدالستار ایدھی مرحوم کا ذکر کرتا ہوں جنہوں نے انسانیت کے خدمت کے وہ بے مثال معیار قائم کئے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔اس فرشتہ انسان نے آگ سے جھلس کر جاں بلب کمسن نواسے کی تیمارداری کی بجائے حادثے میں زخمی ہونے والے سینکڑوں مسافر وں کی مدد اور خدمت کو ترجیح دی۔ایسے بے شمار واقعات ہیں جو ایدھی صاحب سے منسوب ہیں۔میں نے محترم عبدالستارایدھی مرحوم کاذکر اس لئے کیا کہ ہم سب کو خاص طور پر ریسکیورز کو ایسے شخص کو مثال اور آئیڈیل بنانا چاہیے جو اپنی ذات اور ضروریات پر دوسروں کی تکلیف کے ازالے کو ضروری سمجھے۔مجھے فخرہے اور میں اس بات پر اللہ تعالی کا شکربجا لاتا ہوں کہ ریسکیو1122کے جوانوں نے ’’بابائے خدمت‘‘ کی طرح امیر غریب ،ذات برادری کی تفریق سے بالا تر ہو کر ہر مصیبت زدہ انسان کی مدد کے عزم کو نبھایا، نبھا رہے ہیں اور نبھاتے رہیں گے۔

حکومت پنجاب اضلاع کے بعد تحصیلوں میں ایمرجنسی سروسز کا آغاز کررہی ہے۔ان نئے 500ریکروٹس نے ریسکیو ٹیم میں شامل ہوکر جانفشانی کے ساتھ ٹریننگ کے مراحل طے کئے اور خود کو عوام کی خدمت کے لئے تیار کیا ہے۔انکا جذبہ قابل تحسین ہے، لیکن میں اس موقع پر آپ کو یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مصیبت زدہ لوگوں کے لئے مسیحا ہیں اور مسیحائی کی اس عمل کو سرکار کی نوکری مت سمجھیں، بلکہ اس عمل کو اللہ کی رضا کے لئے سرانجام دیں پھر دیکھیں کہ کیسے آپ کے اہل خانہ کی زندگی خوشیوں سے معمور ہو جائے گی۔مجھے یقین ہے کہ ریسکیواہلکار اپنے اپنے سنٹرز پر حادثات کا شکار متاثرین کی مدد نرمی ، خندہ پیشانی، ایثار و قربانی اور ہمدردی سے کریں گے اور صحیح معنوں میں عوام کے مدد گار ثابت ہوں گے۔

مزید : ایڈیشن 2