واسا میٹھے پانی کے ذخائر محفوظ کرنے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گا :عبدالقدیر خان

واسا میٹھے پانی کے ذخائر محفوظ کرنے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گا :عبدالقدیر ...

 لاہور(جاوید اقبال‘شہزاد ملک )ایم ڈی واسا عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ زیر زمین لاہور کے میٹھے پانی کے ذخائر کو محفوظ کرنے کے لئے چار مقامات پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ راوی سمیت شہر کے تین اطراف سے زیر زمین پانی کو زہریلا اور آلودہ کرنیو الی ثقافتیں پانی میں شامل ہو رہی ہیں اگر اس کو نہ روکا گیا تو پھر آئندہ دس سالوں میں پانی پینے کے قابل نہیں رہے گا اور مکمل زہریلا ہو جائے گا ۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پانی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی اور نہ ہی سیوریج ٹیکس میں کوئی اضافہ کیا جائے گا رمضان المبارک کے دوران سحری او ر افطاری کے اوقات میں شہریوں کو وافر مقدار میں پانی مہیا کرنے کے لئے مزید 86ٹیوب ویلوں پر جنریٹرز لگائے جا رہے ہیں جنہیں کرائے پر حاصل کرنے کے لئے اقدامات کر لئے گئے ہیں ۔مون سون میں لاہور نہیں ڈوبے گا اور پورے مون سون کے دوران واسا میں ایمرجنسی نافذ رہے گی ۔اس امر کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزروز نامہ پاکستان کے مقبول عام سلسلے ’’گیسٹ آن لائن ‘‘میں مختلف کالرز کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا۔بعد ازاں انہوں نے پاکستان فورم میں بھی گفتگو کی اور روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی سے بھی ملاقا ت کی ۔بعد ازاں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم ڈی نے کہا کہ اگر لاہور کے زیر زمین پانی کی سطح اسی طرح سے گرتی رہی تو پھر آئندہ چند سالوں کے بعد زیر زمین پانی کی سطح قابل استعمال نہیں رہے گی ‘سیوریج کے بار بار بندش کی بڑی وجہ شاپر بیگ کو گٹروں میں ڈالنا ہے‘ لکشمی چوک کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے حاجی کیمپ سے چوبرجی تک ایک نئی ڈرین بنائی جائے گی جس پر 2.4بلین لاگت آئے گی‘نیازی چوک سے شیرا کوٹ کے درمیان والے علاقوں کا پانی مکمل طور پر آلودہ ہو چکا ہے قاضی پارک شاہدرہ اور یوسف پارک کے لوگوں کو پانی کی سپلائی کے لئے جلد ہی دو نئے ٹیوب ویل لگا دئیے جائیں گے ۔ایم ڈی واسا عبدالقدیر خان نے کہا کہ لاہور شہر میں آبادی کابوجھ بھی بہت ہے ‘ جب ہم نئے ٹیوب ویل لگاتے ہیں تو ہمیں تقریباً ساڑھے آٹھ سو فٹ تک بور کرنا پڑتا ہے‘ گلبرگ کے علاقوں میں چارسو فٹ تک بور کیا جائے تو پانی کا کوئی قطرہ تک نہیں ملتا ۔اگر بارشیں اچھی ہوں تو کچھ صورت حال بہتر ہوتی ہے‘آج سے پندرہ سال قبل لاہور کا زیر زمین پانی ٹھنڈا ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ پانی بھی گرم ہو چکا ہے ۔دریائے راوی پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں گے اور آئندہ دس سالوں میں لاہور کے آدھے ٹیوب ویل بند کرکے ان سے پانی لیں گے اور آدھا پانی ان پلانٹ سے لیں گے ۔ ہم نے واٹر ٹریٹمنٹ کے زریعے پانی کی سطح کو گرنے سے نہ روکا تو اس پانی میں اتنی بدبو آئے گی کہ اس کو پینا تو دور اس کو کوئی نہانے کے لئے بھی استعمال نہیں کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ رمضان کے دوران ہم ٹیوب ویلوں کو چلانے کی ٹائمنگ بھی بدلیں گے‘ ہمارے پاس کل 124جنریٹرز ہیں باقی 86ٹیوب ویلوں کو چلانے کے لئے جنریٹرز کرائے پر لیں گے۔ لاہور کے مختلف مقامات پر چار ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں گے پہلا محمود بوٹی بمبے جھگیاں ویلج ‘ دوسرا شاد باغ کھوکھر ویلج‘ تیسرا شاہدرہ کراس اور چوتھا بابو صابو ٹھوکر کی طرف لگایا جائے گا ان سے ہم لاہور کا 70فیصد پانی ٹریٹ کریں گے ا ور پھر اس پانی کو شاہدرہ کے جنگلات والوں کو دیں گے ۔ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ بوسیدہ پائپ لائنیں تبدیل ہونے والی ہیں میری تجویز تھی کہ لاہور کے کسی ایک ٹاؤن کی بوسیدہ پائپ لائنوں کو تبدیل کرکے پھر اسی ترتیب کے ساتھ باقی کو بھی تبدیل کیا جاتا ۔پرائیوٹ ہاؤ سنگ سوسائیٹیوں کے اپنے سیورج نظام ہوتے ہیں جو سکمیں ایل ڈی اے سے منظور شدہ ہیں ان میں سے بھی جنہوں نے ہمارے انفراسٹرکچر کے لئے پیسے محکمے کو دئیے ہیں باقی جن سکیموں کے ساتھ کھلے پلاٹ ہیں وہ وہاں اپنا سیوریج ڈال دیتے ہیں جبکہ ڈی ایچ اے کا سیوریج بھی چرڑ گاؤں کے ڈرین میں جاتا ہے اور اگر بارشیں زیادہ ہو جائیں تو پھر اس ڈرین کا پانی آ س پاس کی آبادیوں میں چلاجاتا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1