ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ کا پہلا ،مقدمہ چیلنج بن گیا ، ڈاکٹری پیشہ پر کاری ضرب

ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ کا پہلا ،مقدمہ چیلنج بن گیا ، ڈاکٹری پیشہ پر کاری ...

 لاہور(نامہ نگار+ کرائم رپورٹر) ضلع کچہری جوڈیشل مجسٹریٹ نے غیر قانونی طور پر گردوں کی پیوند کاری میں ملوث ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر التمش کھرل سمیت 4 ملزموں کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے حکام کی تحویل میں دے دیا ہے۔عدالت میں ایف آئی اے کے تفتیشی نے بتایا کہ 7ماہ سے انسانی اعضا ء کی فروخت میں ملوث گینگ کی نشاندہی کی کوشش کررہے تھے، ایف آئی اے ریڈنگ ٹیم نے ملزمان کے ٹھکانے کی معلومات حاصل کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور آلات کا استعمال کیا اور ای ایم ای سوسائٹی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا مذکورہ ملزمان کو گرفتارکیا ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ کے روبرو ایف آئی اے حکام نے ملزموں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر التمش کھرل، ڈاکٹر فواد ممتاز، آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ عمر دراز اور شہزاد کو گرفتار کر کے پیش کیا۔ ایف آئی اے حکام نے موقف اختیار کیا کہ گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث ملزمان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ملزمان کو کارروائی کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ 7ماہ سے انسانی اعضا ء کی فروخت میں ملوث گینگ کی نشاندہی کی کوشش کررہے تھے، ایف آئی اے ریڈنگ ٹیم نے ملزمان کے ٹھکانے کی معلومات حاصل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور آلات کا استعمال کیا اور ای ایم ای سوسائٹی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا ،جہاں ایک شخص کا گردہ نکالا جاچکا تھا۔ چھاپے کے دوران پکڑے جانے والے شخص نے انکشاف کیا کہ اس نے گردہ ایک لاکھ تیس ہزار روپے کے عوض فروخت کیا۔ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا کہ موقع پر موجود غریب شخص نے بتایا کہ ڈاکٹر دوسرے کمرے میں اس کا گردہ ایک "گاہگ "غیر ملکی کو لگا رہے ہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مکان سے ملنے والے آلات کو ڈی این اے اور دیگر جانچ کیلئے اسلام آباد بھیجا جائے گا، ملزمان گزشتہ کئی سالوں سے انسانی اعضا ء کی غیر قانونی فروخت اور ٹرانسپلانٹ کا کاروبار کررہے تھے جبکہ گاہک غیر ملکی ہیں اور ان کا تعلق مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ہے۔ایف آئی اے حکام نے عدالت سے ملزموں کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد مذکورہ چاروں ملزموں کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے حکام کے حوالے کردیاہے۔بتایا گیا ہے کہ گرفتار ڈاکٹر سوشل میڈیا کے ذریعے روابط قائم کرتے تھے جبکہ ان کے گلف سمیت دیگر ممالک میں ایجنٹ بھی کام کر رہے ہیں۔ ملزمان پاکستان میں لاہور ، راولپنڈی ، اسلام آباد ،پشاور اور دیگر مقامات پر گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا کاروبار کرتے تھے جبکہ لاہور میں تین مقامات پر کرائے کے گھروں میں آپریشن تھیٹر قائم کئے گئے تھے جہاں گردے نکالنے اور منتقل کرنے کا کام کیا جاتا تھا۔بتایا گیا ہے کہ ملزمان ڈونرز سے گردہ انتہائی کم قیمت پر خریدتے جبکہ پاکستانی شہریوں خصوصاً غیر ملکیوں سے اس کے کئی لاکھ وصول کئے جاتے۔

مزید : علاقائی